وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ خیبر پختون خوا میں آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے ۔
ایک دو نہیں کئی جواں شہید ہو گئے
کربلائے عصر میں ستم مزید ہو گئے
ظلم کے تمام سلسلے شدید ہو گئے
پیروئے یزید آج پھر یزید ہو گئے
علی امین گنڈا پور کا تو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کرنابنتا ہے اور کیوں بنتا ہے اس پر بعد میں بات کریں گے لیکن دہشت گردوںکے خلاف آپریشن کی مخالفت صرف علی امین گنڈا پور ہی نہیں کر رہے بلکہ دیگر کئی مذہبی و سیاسی جماعتیں بھی کر رہی ہیں اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اور ہمیں تو ان پر رتی بھر بھی حیرت نہیں ہوئی اس لئے کہ کسے نہیں معلوم کہ عمران خان شروع دن سے طالبان کے حامی ہیں اور صرف حامی نہیں بلکہ خیبر پختون خوا کی حکومت ان کی سرکاری سطح پر مالی مدد بھی کرتی رہی ہے اور عمران خان جس حد تک طالبان کے حامی ہیں تو اسی وجہ سے انھیں طالبان خان بھی کہا جاتا ہے ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جب پوری دنیا افغانستان میں طالبان کی خواتین کے متعلق پالیسی پر تنقید کر رہی تھی تو اس وقت عمران خان نے کہا تھاکہ یہ تو ان کے کلچر کا حصہ ہے ۔ تحریک انصاف کی طرح دیگر جماعتیں جو آج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کر رہی ہیں یہ سب شروع دن سے ان کے ساتھ ہیں اور جب بھی کوئی دہشت گردی ہوتی تھی تو تین چار قسم کے رویے دیکھنے کو ملتے تھے ایک محدود سا طبقہ کہ جو اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کی کھل کر مذمت کرتا تھا ۔ دوسرا جو دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد رٹے رٹائے جملے کہتے تھے کہ ” یہ دہشت گرد جو معصوم لوگوں کے قاتل ہیں یہ مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہیں “ ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوات میں بیٹھے تحریک طالبان پاکستان کے
اس وقت کے سربراہ ملا فضل اللہ کے ترجمان مسلم خان ہر دہشت گردی کی واردات کے بعد اپنے وڈیو بیان میں اس کی ذمہ داری قبول کرتے لیکن بھاری الفاظ میں کھوکھلی مذمتیں کرنے والوں سے اگر کہا جاتا کہ طالبان کا نام لے کر ان کی مذمت کریں تو انکار کر دیتے حتیٰ کہ ایک بڑی مذہبی جماعت کے سربراہ جو اب اس دنیا میں نہیں رہے ایک ٹاک شو میں جب میزبان کا اصرار بڑھا کہ آپ نام لے کر ان کی مذمت کریں تو وہ مائیک اتار کر پروگرام چھوڑ کر چلے گئے لیکن مذمت نہیں کی ۔
دہشت گردی کے حوالے سے تیسرا کردار ان لوگوں کا تھا کہ جو کھل کر ہر واردات کے بعد دہشت گردوں کی وکالت کرتے اور ہر واردات کا جواز پیش کرتے حتیٰ کہ جب میریٹ اسلام آباد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو سکہ بند صحافی جو میڈیا میں ان موت کے سوداگروں کے وکیل کا کردار ادا کرتے تھے انھوں نے کہا کہ در اصل بات یہ تھی کہ میریٹ ہوٹل میں امریکن میرینز کو بڑے بڑے بکس لے جاتے ہوئے سب نے دیکھا ہے اور ان بکسوں میں میزائل تھے جن سے وہ پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔
حیراں ہوں دل کو روﺅں کہ پیٹوں جگر کو
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
افسوس دہشت گردوں کے حق میں جواز تراشنے والوں پر نہیں بلکہ شاہ دولے شاہ کے ان چوہوں پر ہے جو ان انتہائی احمقانہ باتوں پر من و عن یقین بھی کر لیتے ہیں یعنی پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام کسی فٹ پاتھ پر کسی آلو چھولے کی ریڑھی پر رکھا ہوا ہے کہ جسے میریٹ ہوٹل کی چھت پر امریکن میریز نے کندھے پر میزائل رکھ کر چلانا تھا اور اس نے تباہ ہو جانا تھا ۔ اس طرح کی منافقانہ مذمتیں چلتی رہیں کہ 2014میں آپریشن ضرب عضب کا اعلان ہوا تو بعینہ آج کی صورت حال بن گئی اور آپریشن کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں اور دھمکیاں دی جانے لگیں کہ اگر ان کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو پاکستان میں خدا نخواستہ خون کی ندیاں بہہ جائیں گی لیکن صد شکر کہ کچھ بھی نہیں ہوا اور کچھ وقت ضرور لگا لیکن پاکستان میں دہشت گردی میں بڑی حد تک کمی آ گئی اور یہ کمی اس وقت تک رہی کہ جب تک 2021میں ان دہشت گردوں کو جیلوں سے رہائی نہیں دلائی گئی اور افغانستان سے ہزاروں کی تعداد میں دہشت گردوں کو پاکستان میں لا کر تحفظ کے ساتھ آباد نہیں کیا گیا۔ حالیہ دہشت گردی کی لہر گذشتہ تین سال سے دوبارہ سر اٹھایا ہے اس کے متعلق بھی سب بڑے زور و شور سے مذمتیں کرتے رہے لیکن جیسے ہی اب بات آپریشن کی آئی تو سب کے چہروں سے یک دم نقاب اتر کر اصل چہرے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر جس طرح اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہیں لیکن سلامتی کونسل میں قرار داد کو ویٹو کر دیتے ہیں ۔
تو علی امین گنڈا پور کا تو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کرنابنتا ہے اور کیوں بنتا ہے تو محترم قارئین اس لئے نہیں کہ بانی پی ٹی آئی شروع دن سے نظریاتی طور پر ان کا ساتھ دے رہے ہیں بلکہ اس کی وجہ تو اس سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔ مشرف دور میں جب دہشت گردی شروع ہوئی تو اس وقت 90%سے زیادہ دہشت گردی کی وارداتیں فرقہ وارانہ نوعیت کی تھیں ۔ عوامی مقامات اور سکیورٹی فورسز پر اس وقت بھی حملے ہوتے تھے لیکن دہشت گردی کی حالیہ لہر میں اگر غور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس میں 90%سے زیادہ حملے سکیورٹی فورسز پر ہو رہے ہیں اور نشانہ افواج پاکستان ہیں اور بانی پی ٹی آئی اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کا نشانہ بھی افواج پاکستان ہیں تو تحریک انصاف اور دہشت گردوں کے اہداف میں مماثلت حیرت انگیز ہی نہیں بلکہ ان کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی اصل وجہ بھی یہی ہے اور یہ ہم آہنگی اس حد تک ہے کہ افغانستان سے مزید دہشت گردوں کو پاکستان لا کر بسانے کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں لیکن ایک مرتبہ اگر ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نیک نیتی سے موت کے ان سوداگروں کے خلاف آپریشن شروع کر دیں تو خدا نے چاہا تو شکست ان خوارج کا مقدر بن جائے گی ۔
دہشت گردی اور شدید مذمتیں
09:11 AM, 22 Mar, 2025