معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت 

09:07 AM, 22 Mar, 2025

جس طرح ہم نے ملک کے دفاع کے لےے، ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لےے، دہشت گردی ختم کرنے کے لےے نیشنل ایکشن پلان بنایا، اور اب ایک بار پھر اس پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، اسی طرح ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کے لےے بھی پلان بنایا جانا چاہےے کیونکہ ہماری قومی معیشت کو بھی کم و بیش اسی طرح کے مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے جیسے مسائل اور مشکلات پائیدار امن و امان کے قیام کے حوالے سے درپیش ہیں۔ حکومت نے تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لےے جو ایس آئی ایف سی (The Special Investment Facilitation Council) بنائی ہے، یہ ایک بہت ہی اچھا اقدام ہے۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ یہ میری پروپوزل پر ہی بنائی گئی تھی۔ جون 2023ءمیں اس کونسل کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس سے پہلے میں نے کئی کالم لکھ کر حکمرانوں کی توجہ اس امر کی طرف دلائی تھی کہ ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے کے لےے ایک خصوصی ادارے کا قیام عمل میں لانا ضروری بلکہ ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں اپنی اس کوشش میں کامیاب رہا اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل بن گئی۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ ہمیں اس کونسل تک محدود نہیں رہنا چاہےے، بلکہ اس سے آگے نکلنا چاہےے، اور ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے قومی معیشت کو حقیقی طور پر بحال اور اپنے قدموں پر کھڑا کرنا چاہےے۔ لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہے۔ مہنگائی بہت زیادہ ہے۔ خام مال اور لوازمات، جیسے بجلی، مہنگے ہونے کی وجہ سے برآمدات میں اتنا اضافہ ممکن نہیں جتنا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لےے مزید قرضے لینا پڑتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح معیشت حقیقی ترقی نہیں کر سکتی۔ اگر کچھ خصوصی اقدامات نہ کےے گئے تو یہ معیشت اسی طرح رینگ رینگ کر ہی چلے گی۔
حکمرانوں کی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے باہر آ چکا ہے اور یہ کہ معاشی حالات پہلے کی نسبت خاصے بہتر ہو چکے ہیں، اور ملک معاشی لحاظ سے ٹیک آف کی پوزیشن پر آ رہا ہے۔ میں ان کی اس بات سے تو متفق ہوں کہ پاکستان کو دیوالیہ قرار دیئے جانے کے خطرے سے باہر نکال لیا گیا ہے، لیکن یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ ملک کے معاشی حالات اطمینان بخش حد تک بہتر ہو چکے ہیں۔ دسمبر 2024ءمیں پاکستان کا داخلی قرضہ (Government Domestic Debt) 49883 بلین روپے، بیرونی قرضہ (Government External Debt) 21764 بلین روپے، آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ (Debt from IMF) 2366 بلین روپے، بیرونی ذمہ داریاں (External Liabilities) 3262بلین روپے تھیں۔ ان حالات میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو چکا ہے؟ میرے خیال میں پاکستان اس وقت مستحکم ہو گا جب اس کے کم از کم آدھے قرضے ادا کےے جا چکے ہوں گے، جب اس کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کم از کم بنگلہ دیش کی سطح پر آ جائیں گے (فروری 2025ءمیں بنگلہ دیش کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 26175.70 ملین ڈالر تھے)، جب پاکستان کی درآمدات اور برآمدات کا فرق ختم ہو جائے گا اور پاکستان کی برآمدات اس کے لےے فائدہ مند نہ سہی مالی لحاظ سے نقصان دہ بھی نہ رہیں گی۔
 سوال یہ ہے کہ ایسا کب ہو گا؟ میرا اپنا ذاتی اندازہ یہ ہے کہ ایسا ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنے کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے۔ معیشت کی بحالی، ترقی اور استحکام کے لےے ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں اور دوسرے سٹیک ہولڈرز کو مل کر معاشی ایمرجنسی کے ساز گار ماحول بنانا ہو گا۔ اس مقصد کے لےے ایسی پالیسیاں متعارف کرانا پڑیں گی، جن پر عمل کر کے ملک کو قرضوں کے ذریعے مصنوعی ترقی کے بجائے قومی پیداوار کے ذریعے حقیقی ترقی سے ہمکنار کیا جا سکے۔ ایسا ممکن ہے لیکن تب جب حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے گی اور کفایت شعاری اپنائی جائے گی، جب ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے در وا کےے جائیں گے، جب ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بیوروکریسی کے سرخ فیتے سے بچانے کے لےے ٹھوس منصوبہ بندی اور جامع اقدامات کےے جائیں گے۔ برآمدات کا حجم بڑھا کر درآمدات سے زیادہ کیا جائے گا، بین الاقوامی تجارت میں ادائیگیوں کے توازن کو متوازن کیا جائے گا اور قرضے لے کر واجب الادا قرضے ادا کرنے کے بجائے قومی پیداوار سے قرضوں کی ادائیگی کا بندوبست کیا جائے گا۔ ایسا تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر ملک میں چند برسوں کے لےے معاشی ایمرجنسی نافذ کریں اور معیشت کی حد تک طے شدہ معاملات پر کوئی پارٹی اور کوئی حکومت کسی قسم کی سیاست نہ کرے۔ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، ملک کا معاشی مستقبل ہر ایک کی پہلی ترجیح رہنا چاہےے۔ پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً64 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر افراد یعنی نوجوانوں اور جوانوں پر مشتمل ہے۔ درست معاشی پالیسیوں کے ذریعے اس طاقت کو ملک کے تابناک مستقبل میں بدلا جا سکتا ہے۔ چھوٹی صنعتیں کسی بھی ملک کی معیشت کے لےے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور انہی سے بڑے کاروبار اور صنعتیں فروغ پاتی ہیں۔ ہمارا چھوٹا صنعت کار عالمی سطح پر پاکستان کو متعارف کرانے اور اس کی ساکھ بہتر بنانے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن اسے مواقع، ماحول اور سہولیات میسر نہیں ہیں۔ پیداواری لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے کارکردگی متاثر ہو رہی ہے اور مقابلے کی سکت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورت حال برآمدات میں کمی، زوال یا انحطاط کا باعث بن رہی ہے۔ معاشی ایمرجنسی ان تمام مسائل کا حل ہے۔
ہم نے ففتھ پلر اکنامکس موومنٹ (The Fifth Pillar Pakistan Economic Movement ) بنا رکھی ہے جس کا مقصد ہی قومی معیشت کو فروغ دینا اور مستحکم کرنا ہے۔ اکنامکس موومنٹ ففتھ پلر نے حکومت کو 100 بلین ڈالر کی آفر کر رکھی ہے، لیکن اس سلسلے میں آگے کوئی کام ہی نہیں ہو رہا ہے۔ ہماری فائلیں آرمی چیف تک پہنچ چکی ہیں لیکن آگے کوئی پیش رفت ہی نہیں ہو رہی ہے۔ ہمارے جیسے سیکڑوں بلکہ ہزاروں افراد ہیں جو ملک کے لےے کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی کہیں شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ کوئی ہماری بات سن ہی نہیں رہا ہے۔ یہ میرا دعویٰ ہے کہ جب تک معاشی ایمرجنسی نافذ نہیں کی جاتی، جب تک چھانٹی نہیں کی جاتی اور جب تک ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایمان دار افسران اعلیٰ عہدوں پر تعینات نہیں کےے جاتے، ملک کے معاشی حالات کا ٹھیک ہونا ناممکن ہے۔

مزیدخبریں