مجھے سو فیصد یقین تھا اگر تُلنے کی باری آئی تو عمران نیازی افغانوں کے پلڑے میں ہو گا ۔وہ بلوچ لبریشن آرمی کے بد سے بدترین عمل کی بھی کبھی مذمت نہیں کرے گا ۔وہ پختونوں اور افغانوں کی قبائلی عسکریت کے گُن گاتا رہے گا ۔اپنی وزارتِ عظمی کے دور میں دہشتگردوں کو پاکستان میں بسانے کا عمل بے شک عمران نیازی کا مکروہ ترین فعل ہے لیکن وہ جنہوں نے ہمارے دفاع کاحلف اٹھایا ہوا ہے وہ سب اُس وقت کہاں تھے جب ہمارے اور اُن کے مشترکہ قاتل پاکستان میں بسائے جا رہے تھے۔ جنر ل فیض کے ایک چائے کے کپ کی قیمت ہمیں کیا ادا کرنا پڑے گی اس کااندازہ اب تو ہمیں ہو جانا چاہیے ۔سلامتی کمیٹی پاکستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتی تھی لیکن عین وقت پر اُچکزئی کے کہنے پر پی ٹی آئی اجلاس کا بائیکاٹ اور دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کے ساتھ ساتھ بانی چیئرمین کی رہائی کا مطالبہ کرکے نودو گیارہ ہو گئی ۔ پی ٹی آئی کے بچے کچھے قائدین کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ غیر آئینی وزیر اعظم کی دعوت پر اجلاس میں کیسے چلے جائیں ؟ اگر وزیراعظم غیر آئینی ہے تو کیا پھر اسمبلی آئینی ہے؟ وہاں سے ملنے والی تنخواہیں اور مراعات آئینی ہیں؟ کیا کے پی کے سے جیتنے والے ایم این اے اور ایم پی اے جائز ہیں ٗ کیا علی امین گنڈا پورکی صوبائی حکومت حلال ہے ؟بے شرمی اوربے غیرتی کی انتہا ہے کہ ایک طرف ایک صوبے میں را اور افغانوں کی مدد سے بلوچستان میں لبریشن آرمی بنا کر افواج پاکستان پرحملے ہو رہے ہیں اور دوسری طرف دہشتگردی کے ملزم وزیر اعظم کی شمولیت کے بغیر ہر اجلاس کو غیر اہم کہا جا رہا ہے۔بانی چیئرمین کا کہنا ہے کہ افغانستان ہمارا دشمن نہیں ٗ کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے لڑائی مول لی جائے ۔ عمران نیازی نے بالکل درست کہا ہے افغان صرف محب وطن پاکستانیوں کے دشمن ہیں جو پہلے ہی افغانیوں اور را کی پالیسیوں کے عین مطابق کام کر رہے ہیں اُن کے افغانی کیونکر دشمن ہوں گے ؟۔
فوج اور عوام دہشتگردی کے حوالے سے ایک ہی پیچ پر ہیں اوراِس بار انہیں آہنی ہاتھوں سے کچلنا ہو گا ورنہ یہ پاکستان کی سلامتی کیلئے شدید خطرہ ہیں ۔پاکستان ہمیں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ عزیز ہے جنہیں افغان یا افغانوں کے طرز زندگی سے محبت ہے وہ پہلے اپنی فیملیوں کو افغانستان بھیجیں ٗ کچھ عرصہ اُن کے ساتھ گزاریں اور پھر آ کر پاکستانیوں کو بتائیں کہ وہاں زندگی کیسے بسر ہوتی ہے۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے ہاتھ توڑنے ہوں گے لیکن اُس سے پہلے ہر اُس شخص کو اوقات میں لانا ہو گا جو اِن دہشتگردوں کا حمایتی ہے ۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف افغان محبت میں ایک ہی پیج پر ہیں ۔ امیر جماعت اسلامی کو ماضی سے سبق سیکھ لینا چاہیے کہ جو آگ ضیاء الحق کے ساتھ مل کر وہ اپنے گھر اٹھا لائے تھا وہ آج پاکستانیوں کے گھروں کو بھسم کر رہی ہے۔ ہم لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں ٗ ہمارے بچے ٗعورتیں ٗ جوان ٗ بزرگ اور دفاعی اداروں کے جوان اس آگ کا ایندھن بنے ہیں ۔علی امین گنڈا پور تو افغانوں کو پاکستانی شہریت دینے کی بات کررہا ہے۔ میرے لئے یہ بات کسی خوفناک خواب کی طرح ہے ۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم پاکستان کو اپنے قاتلوں کی پناہ گاہ بنا دیں ۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف جس طرح پاکستان میں رہتے ہوئے افغانوں کی حمایت میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہی ہیں ۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ کسی بیرونی حملہ آور سے پہلے ہمیں اِن جماعتوں سے نمٹنا پڑے گا جو حالت جنگ میں پاکستان کے دشمنوں کی کھل کر حمایت کر رہی ہیں۔ میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو یقین دلاتا ہوں کے پاکستانیوں کی بڑی اکثریت افواج ِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ ایک پُرامن پاکستان ہی معاشی طور پر مضبوط پاکستان کا ضامن ہو سکتا ہے ۔ امن کے بغیر پاکستان کی خوشخالی صرف دیوانے کا خواب ثابت ہو گی اور امن پاکستان مخالف بیانیہ رکھ کر سیاست کرنے والوں کو لگام دئیے بغیر ممکن نہیں ۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ عمران نیازی ٗ ماہ رنگ بلوچ اورطالبان ایک ہی کمان سے نکلے ہوئے تیر ہیں ۔ کچھ بعید نہیں کہ کچھ دنوں بعد جماعت اسلامی بھی کھل کر اِن میں شامل ہو جائے اگرایسا ہوتا ہے تو یہ جماعت اسلامی کی روایات کے خلاف ایک حیران کُن عمل ہو گا ۔عمران نیازی کا افغانستان کودشمن نہ بنانے کامشورہ انتہائی گھٹیا اور حالات سے لا علمی کا نتیجہ ہے ۔ ہم نے افغانوںکو گزشتہ چالیس سال سے تمام تر بدترین حالات کے بھی پاکستان میں بسا رکھا ہے لیکن اگر یہ پاکستان میں رہتے ہوئے زندگی کی ہر سہولت بھی لیں گے ا ور ہمارا پرچم بھی نذر آتش کریں گے ٗ ہمارے اداروں پر حملہ کرنے والوں کے معاون و مددگار بھی ہوں گے ٗ بھارت اورافغانستان سے ہدایات لے کر دہشتگردوں کی معاونت اورسہولت کاری جیسے گھنائونے افعال سرانجام دیں گے تو پھر افواج پاکستان کی یہ پہلی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ پاکستان کو تو چھوڑیں اِن پرافغان سرزمین بھی تنگ کردینی چاہیے۔ پاکستان کے جو بلوچ سردار افغانستان اور برطانیہ میں بیٹھ کر بلوچ لبریشن آرمی کے ذریعے پاکستان میں خاک اورخون کا کھیل کھیلناچاہتے ہیں اُن کا سب سے پہلے بندوبست کیا
جائے۔ افغانوں کو چلتا کریں اور جو پختون ٗ پنجابی ٗ سندھی یا بلوچی اِن کی معاونت یا سہولت کاری کرنے کی کوشش کرے اُس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے جو دہشتگرد نہتے شہریوں کے ساتھ کررہے ہیں ۔ پاکستان کے گلی کوچے افغان آلودگی سے مکمل صاف کرنے ہوں گے ۔پنجاب اور سندھ میں تو جماعت اسلامی اور تحریک انصاف بھی ان کی حمایتی نہیں ہو گی لیکن خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے انہیں آسرا مل سکتا ہے ۔ کسی بھی بڑے آپریشن میں جانے سے پہلے افواج پاکستان کوایک بار انتہائی بے رحمی سے نادرا کے ریکارڈ کو چیک کرلیناچاہیے اور جو افغان جعلی پاکستانی بن کر یہاں قیام پزیر ہیں انہیں بھی چلتا کریں کہ ہم نے مہمان نوازی کا بہت مزا لے لیا ہے ۔ اگر کسی کو وہ اپنے بھائی معلوم پڑتے ہیں تو انہیں افغانستان بھیج کر وہاں اُن کی مالی مدد کرتے رہیں کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا ۔ افواج پاکستان اگر کسی آپریشن یا جنگ کا اعلان کرتی ہیں تو پاکستان کا بچہ بچہ اُن کے ساتھ ہو گا اور اگر ضرورت پڑی تو پاکستان پیپلز آرمی بنا کر افواجِ پاکستان کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا تاکہ ہر گھر کو یہ احساس ہو کہ اُس کا اپنا بیٹا بھی وطن کی حفاظت کیلئے اپنی افواج کے شانہ بشانہ محاذ ِ جنگ پر کھڑا ہے اور یہ سات لاکھ نہیں 25 کروڑ جانثاروں کی فوج ہے ۔
اجنبی لشکر وںاور دہشت گردوں پر زمین تنگ کردیں گے
09:04 AM, 21 Mar, 2025