دسمبر تک پنجاب کی کوئی تحصیل الیکٹرک بس سے خالی نہیں ہوگی"، عظمیٰ بخاری 

01:43 PM, 21 Jun, 2026

لاہور:پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں جہاں مریم نواز حکومت کے ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں، وہیں اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی اور اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایوان میں ٹرانسپورٹ سیکٹر کے حوالے سے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں 1100 الیکٹرک بسوں کی بڑی کھیپ چند ہی دنوں میں پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ رواں سال دسمبر تک پنجاب کی کوئی بھی تحصیل الیکٹرک بسوں سے خالی نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس انقلابی منصوبے کا آغاز مریم نواز نے سب سے پہلے جنوبی پنجاب سے کیا تھا جہاں 125 بسیں دی جا چکی ہیں، اس لیے اس پر تنقید بالکل بلاجواز ہے۔

نام لیے بغیر پیپلز پارٹی پر سیاسی وار کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ "ہمارے کچھ اپنے بھی ہیں جنہیں اچانک جنوبی پنجاب کا خیال آ گیا ہے اور وہ الگ صوبہ مانگ رہے ہیں۔" انہوں نے سوال اٹھایا کہ محرومیاں تو کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں بھی بہت ہیں، کیا وہاں یہ الگ صوبہ مانگتے ہیں؟ کسی کی محرومی کو جواز بنا کر تقریر جھاڑنا بہت آسان کام ہے۔

پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے ایم پی ایز اس وقت شدید دباؤ میں ہیں کیونکہ وہ اپنی قیادت کے بجائے "علیمہ باجی" اور اپنے "سوشل میڈیا ٹائیگرز" کو جواب دہ ہیں۔ یہ ارکان صرف سوشل میڈیا پر گالیوں سے بچنے کے لیے اسمبلی میں شور شرابہ کرتے ہیں، ورنہ ان کے پاس عوام کی بہتری کے لیے کوئی تجاویز نہیں۔ 9 مئی کی تمام ویڈیوز موجود ہیں لیکن ثبوت مانگے جانے پر ان کے پاس پیش کرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے فری ٹرانسپورٹ کے لیے 80 کروڑ روپے کی سبسڈی دی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے طلبہ کے لیے 33 ہزار وظائف اور وہاں 13 ارب روپے کی لاگت سے 'اسکول میل پروگرام' کامیابی سے چل رہا ہے، جس سے عوام براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں۔

مزیدخبریں