امیت شاہ کا بیان غیر ذمے دارانہ، سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ اقدام ممکن نہیں: دفتر خارجہ

08:53 PM, 21 Jun, 2025

اسلام آباد : بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو بحال نہ کرنے سے متعلق بیان پر پاکستان نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امیت شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں کرے گا اور پاکستان کی جانب جانے والے پانی کو راجستھان منتقل کرنے کے اقدامات کرے گا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی اور غیر سیاسی معاہدہ ہے، جس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر تبدیلی یا معطلی کا اختیار حاصل نہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق، بھارت کا ایسا مؤقف بین الاقوامی ضوابط اور باہمی معاہدوں کی روح کے منافی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آبی وسائل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارت معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرتا ہے اور اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور ممکنہ راستہ اختیار کرے گا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے ردعمل میں بھارت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی تو پاکستان اپنے دریاؤں کا دفاع کرنا جانتا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف بھی اس معاملے پر اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے اقدام کو 'آبی جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق مؤثر ردعمل دے گی۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتی حکومت کی مجوزہ آبی منصوبہ بندی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب جموں و کشمیر خود پانی کی کمی کا سامنا کر رہا ہے تو دیگر ریاستوں کو مزید پانی کیوں فراہم کیا جا رہا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق کسی بھی غیر سنجیدہ یا یکطرفہ اقدام سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، بلکہ خطے میں پانی کے بحران اور کشیدگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزیدخبریں