بھارت کا سندھ طاس معاہدہ بحال نہ کرنے کا اعلان، پاکستان کے پانی کو راجستھان منتقل کرنے کا منصوبہ

07:55 PM, 21 Jun, 2025

نئی دہلی: بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت، پاکستان کے ساتھ ہونے والے سندھ طاس معاہدے کی بحالی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق، وہ پانی جو پہلے پاکستان کو دیا جا رہا تھا، اب اسے بھارت کے اندرونی علاقوں، خصوصاً راجستھان میں استعمال میں لایا جائے گا۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے امیت شاہ کا کہنا تھا کہ "پاکستان کو وہ پانی اب کبھی نہیں ملے گا، جو اسے ماضی میں بلاوجہ فراہم کیا جا رہا تھا۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی دہلی نے مستقل طور پر یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اس معاہدے کو بحال نہیں کیا جائے گا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے مابین تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ پاکستان متعدد مرتبہ واضح کر چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس سے یکطرفہ علیحدگی ممکن نہیں، اور اگر بھارت پانی روکنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ایک "جارحانہ اقدام" تصور کیا جائے گا۔

قانونی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کے مطابق، دریائی پانیوں کے معاملے میں زیریں علاقوں کو قانونی حق حاصل ہوتا ہے، اور سندھ طاس معاہدہ اسی اصول پر قائم ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کے پاس ان دریاؤں پر تاریخی اور قانونی دعویٰ موجود ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امیت شاہ کا یہ بیان خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، اور عالمی سطح پر بھارت کی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا ماحولیاتی، آبی اور سیاسی چیلنجز سے دوچار ہے۔

مزیدخبریں