تہران / یروشلم:ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، جنگ کے نویں دن ایران نے میزائل حملوں کی اٹھارہویں لہر چلاتے ہوئے اسرائیل کے حساس اور اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ تازہ حملوں میں فضائی اڈوں، فوجی مراکز، دفاعی صنعتوں اور کمانڈ و کنٹرول مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ حملے "انتہائی طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور وزنی میزائلوں" سے کیے گئے، جن کا مقصد اسرائیل کی جنگی صلاحیت کو مفلوج کرنا ہے۔ ایران کے مطابق حملے کے دوران اسرائیل کے کم از کم دو بڑے فضائی اڈے بھی نشانے پر آئے۔
عرب اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب، حیفا، جنوبی اور شمالی اسرائیل میں ایئر ڈیفنس سائرن بجائے گئے جبکہ مقبوضہ بیت المقدس اور ایلات میں بھی خطرے کے سائرن سنائی دیے۔ حیفا کی بندرگاہ کے قریب ایک میزائل گرنے کی اطلاع ہے۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق حملوں میں کم از کم 27 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں تین کی حالت نازک ہے، جبکہ تل ابیب، نقب اور ہولون سمیت کئی شہروں میں رہائشی و تجارتی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ وسطی اسرائیل کے علاقے ڈین گش میں میزائل کا ایک ٹکڑا گرنے سے ایک رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک اپارٹمنٹ پر کیے گئے حملے میں قدس فورس کے سربراہ سعید یزد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید جاری نہیں کی۔
ادھر ایک اور دعویٰ میں اسرائیلی اہلکار نے کہا ہے کہ تہران میں ایک ایرانی جوہری سائنسدان کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ سائنسدان ہتھیاروں کے نظام پر کام کر رہا تھا اور اُس وقت نشانہ بنا جب اُسے ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل کیا جا رہا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے اصفہان میں واقع ایک جوہری تنصیب پر حملہ کیا، تاہم ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی خطرناک مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ جوہری سائنسدانوں، فوجی کمانڈرز اور نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنایا جانا ایک مکمل جنگ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔