”ایک سفر جو سب کو طے کرنا ہے“

09:47 AM, 22 Jul, 2026

ارشادِ باری تعالیٰ ہے ”کل نفس ذائقة الموت“ ہر ذی روح نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ جو جان اس دنیا میں آئی اس نے وقتِ مقررہ پر اپنے رب کی طرف بہرحال لوٹ کر جانا ہے۔ اس دنیا کی تخلیق سے ہی یہ نظام چل رہا ہے اور تاقیامت چلتا رہے گا۔ اس فانی دنیا میں رشتے ناطے ربِ ذوالجلال کی بہت بڑی نعمت اور رحمت ہیں۔ کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی موجودگی کا احساس آپ کو زندہ ہونے کی خوشی دیتا ہے، بھائی بھی انہی رشتوں میں سے ایک ہے۔ جب آپ اس رشتہ سے محروم ہوتے ہیں تو آپ جدائی کے حقیقی مفہوم سے آشنا ہوتے ہیں۔14جولائی 2026ءبمطابق 28محرم الحرام 1448ھ کو میرا عزیز بھائی وقاص حبیب اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف رخصت ہو گیا (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ میں جب یہ سطور تحریر کر رہا ہوں میرے بھائی کی وفات کو سات روز گزر چکے ہیں لیکن اِن شب و روز میں کوئی ایک ساعت اور لمحہ بھی ایسا نہ ہو گا، جو ان کی یاد اور تصوّر سے خالی ہو۔ یہ غم سدا بہار ہے اور تادمِ مرگ ہمارے ساتھ رہے گا۔
زندگی میں کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتیں بلکہ انسان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ بظاہر زندگی معمول پر آ جاتی ہے، لوگ تعزیت کر کے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، معمولات دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں مگر دل کے کسی گوشے میں ایک خاموش خلا ہمیشہ کےلئے گھر کر لیتا ہے۔ میرا عزیز بھائی بھی ایسا ہی ایک خلا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوا ہے۔ وقاص صرف میرا بھائی نہیںمیری زندگی کا ایک مضبوط ستون تھا۔ ہمارے درمیان محض خون کا رشتہ نہیں تھا بلکہ اعتماد، محبت، احترام اور لاتعداد مشترکہ یادوں کا رشتہ تھا۔ بچپن کی شرارتیں، جوانی کے خواب، گھر کے خوشی بھرے لمحے، ایک دوسرے کی کامیابی پر خوش ہونا اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑے رہنا۔ یہ سب یادیں آج بھی میرے دل میں اسی طرح زندہ ہیں جیسے کل کی بات ہو۔ ان کا اچانک چلے جانا میری زندگی کا وہ المیہ ہے جس کا خلا تاحیات محسوس ہوتا رہے گا۔
میرے بھائی وقاص کی سب سے بڑی خوبی اس کا خلوص تھا۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا اور گفتگو میں ایسی مٹھاس کہ ہر ملنے والا اپنا محسوس کرتا تھا۔ وہ دوسروں کی مدد کر کے خوش ہوتے اور کبھی اپنی نیکیوں کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ مسجد کے ساتھ ان کا تعلق نوجوانی سے ہی بڑا مضبوط تھا اور مساجد میں آئے اللہ کے مہمانوں کا اکرام ایسے کرتے جیسے اپنے گھر مہمان آئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعد صرف ہمارا خاندان ہی غمزدہ نہیں بلکہ ہر وہ شخص افسردہ دکھائی دیا جس نے انہیں قریب سے جانا اور دیکھا۔ آج ان کے جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اصل دولت مال و دولت نہیں بلکہ وہ محبت ہے جو انسان دوسروں کے دلوں میں چھوڑ جاتا ہے۔ میں نے اپنے کالموں میں دوسروں کے دکھ کو لفظوں میں بھی ڈھالا ہے مگر کبھی یہ تصور نہیں کیا تھا کہ ایک دن مجھے اپنے ہی بھائی کی جدائی کو الفاظ کا لباس پہنانا پڑے گا۔ آج قلم بار بار رک رہا ہے کیونکہ کچھ جذبات ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، بیان نہیں۔ زندگی بعض اوقات آپ کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں الفاظ بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔ کاغذ قلم ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن دل کے اندر برپا طوفان کو لفظوں میں سمو دینا آسان نہیں رہتا۔ انسان بعض حقیقتوں کو جانتے ہوئے بھی ماننے کےلئے تیار نہیں ہوتا۔ شاید اس لیے کہ محبت کا رشتہ جسم سے نہیں، روح سے ہوتا ہے اور روح کی یادیں کبھی نہیں مرتیں۔ 
اپنے بھائی وقاص کے ساتھ گزرا ہوا بچپن، یادوں کا وہ لازوال خزانہ ہے جو انسان کی روح میں رچ بس جاتا ہے۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب ہم صبح سویرے اٹھ کر اکٹھے سکول جانے کی تیاری کرتے اور پھر گھرمیں مل کر کھیلا کرتے تھے۔ میں اور وقاص، ہم دونوں نے نرسری تا میٹرک ایک ہی کلاس میں تعلیم حاصل کی۔ وقاص حبیب صرف میرا بھائی نہیں بلکہ دوست اور رازدار بھی تھا۔ ان کے ساتھ گزارا گیا ہر لمحہ زندگی کی ایک خوبصورت کہانی کی طرح میرے ذہن کے پردے پر نقش ہے۔ ایک بھائی کا ہونا ہی انسان کےلئے بہت بڑا حوصلہ ہوتا ہے۔ وقاص بھائی کی شخصیت میں ٹھہراو¿، مخلصانہ محبت اور اپنائیت تھی۔ وہ ہمیشہ اپنی خوشیوں سے پہلے دوسروں کی خوشیوں کا سوچتے تھے۔ ان کی موجودگی سے گھر کا ہر کونہ رونق سے بھرپور رہتا تھا۔ ان کی موجودگی پورے خاندان کےلئے اطمینان کا باعث تھی۔
موت جیسی اٹل حقیقت جب اپنے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو انسان کو اپنی بے بسی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ اس لمحے دنیا کی تمام کامیابیاں، مصروفیات اور خواہشیں بے معنی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ وقاص حبیب کا یوں اچانک چلے جانا ہماری فیملی کیلئے قیامت سے کم نہیں ہے۔ وہ لمحہ جب زندگی کی نبض رک گئی، جب وہ چہرہ جو ہمیشہ حوصلہ دیتا تھا، ہمیشہ کےلئے خاموش ہو گیا۔ ان کا آخری دیدار، جنازہ و تدفین کے مراحل اور پھر ان کو منوں مٹی تلے چھوڑ کر واپس آنے کا منظر ایک ایسا کرب ہے جسے لفظوں کے قالب میں ڈھالنا ناممکن ہے۔ان کی آخری رسومات میں ہر زبان پر ایک ہی لفظ تھا کہ یہ جنتی روح ہے۔ مجھے تو فی الوقت بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ابھی کہیں سے مسکراتے ہوئے آئیں گے اور مجھے آواز دیں گے لیکن .... ہائے افسوس۔ رہ جاتی ہیں تو صرف یادیں، دعائیں اور وہ نیک اعمال جو انسان اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔
ایک ناقابلِ تردید سچ ہے کہ وقاص حبیب بھائی کے بچھڑ جانے کے بعد زندگی کبھی پہلی جیسی نہیں ہو سکتی۔ لیکن ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہے کہ خدا کی رضا میں راضی رہنا اور اس کے ہر فیصلے کو تسلیم کرنا ہی بندگی کا تقاضا ہے۔ غم کے اس گہرے سمندر میں صبر کا دامن تھامنا اور اللہ سے ہمت مانگنا ہی اب ہمارا واحدسہارا ہے۔رشتے کبھی جسمانی موت سے ختم نہیں ہوتے۔ جو لوگ ہمارے دلوں میں بستے ہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ وقاص بھائی کی باتیں، ان کا پیار، ان کی شفقت اور ان کا اسوہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے پیارے بھائی وقاص حبیب کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے، ان کی لغزشوں کو معاف فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہمیں اس عظیم صدمے پر صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ¿ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

مزیدخبریں