جب امریکا اور اسرائیل کی بمباری ایران کے شہروں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے عین اسی دوران دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز ایک ایسی کہانی بن گئی ہے جس کا مرکزی کردار ایک سابق ایرانی صدر ہے جو کئی ماہ سے عوامی منظر سے تقریباً غائب تھا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تیرہ جولائی دو ہزار چھبیس، بروز پیر، اپنی ویب سائٹ پر ایک طویل اور تفصیلی رپورٹ شائع کی جو اگلے روز، یعنی چودہ جولائی کے پرنٹ ایڈیشن میں فرنٹ پیج کی خبر بنی۔ اس مبینہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل نے کئی برسوں پر محیط ایک خفیہ منصوبے کے تحت سابق صدر محمود احمدی نژاد کو اپنے لیے ایک انٹیلی جنس اثاثے کے طور پر تیار کیا، بڈاپسٹ میں ان سے ملاقاتیں کیں اور جنگ کے ابتدائی دنوں میں انہیں تہران سے نکال کر ایک محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش بھی کی۔
انڈپینڈنٹ فارسی کی چیف ایڈیٹر کاملیا انتخابی فرد نے اپنے تجزیے میں اسی بیانیے پر کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کہانی اپنے اندر ایک واضح تضاد لیے ہوئے ہے۔ اگر اسرائیل واقعی احمدی نژاد کو مستقبل کا رہنما بنانا چاہتا تھا تو پھر ان کی رہائش گاہ کو بمباری کا نشانہ کیوں بنایا گیا، جس میں وہ خود ہلاک بھی ہو سکتے تھے؟ اور اگر موساد انہیں کامیابی سے محفوظ مقام تک پہنچا چکا تھا تو یہ منصوبہ ناکام کیسے ہوا؟ کاملیا انتخابی کے بقول یہی تضاد پوری داستان کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ وہ یہ بھی لکھتی ہیں کہ احمدی نژاد اپنی صدارت میں اسرائیل کے خلاف جس شدت کے بیانات دیتے رہے، ہولوکاسٹ کے انکار سے لے کر اسرائیل کے خاتمے کے نعروں تک۔ اس پس منظر کو نظر انداز کر کے انہیں راتوں رات قابلِ بھروسہ اسرائیلی اثاثہ قرار دینا مضحکہ خیز ہے اور سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ایسا گمنام انکشاف اسی وقت کیوں سامنے آتا ہے جب اس سے فائدہ اٹھانے والا کوئی فریق موجود ہو۔
ایک زاویہ ایران کی اندرونِ خانہ سیاست کا ہے۔احمدی نژاد کا اصل مسئلہ کبھی اسرائیل نہیں بلکہ خود ایران کا اقتدار ی ڈھانچے پر ان کی رائے ہے۔ صدارت کے دوران ہی وہ پاسدارانِ انقلاب اور سپریم لیڈر کے دفتر سے وابستہ نیٹ ورکس کے ساتھ ٹکرا¶ میں آ چکے تھے،
انہوں نے سمگلنگ برادرز جیسی اصطلاح متعارف کرا کر پابندیوں کی آڑ میں ہونے والی مالی بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کے طاقتور حلقوں نے ان کے قریبی ساتھیوں کو انتخابات سے باہر کر دیا اور خود انہیں بھی دوبارہ صدارتی امیدوار بننے سے
روک دیا۔ نیویارک ٹائمز کی سٹوری پرا یران میں داخلی سطح پر خاموشی کی ممکنہ وجہ ایران میں احمدی نژاد کی دیہی اور پسماندہ طبقات میں مقبولیت ہے جوموجودہ سیٹ اپ کے لئے اندرونی چیلنج بن سکتی ہے۔ اسرائیلی ایجنٹ کا لیبل لگنے پر دراصل اس داخلی چیلنج پر خاموشی سے ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ مبینہ رپورٹ چار ناموں سے سامنے آئی ہے۔ مارک مزیٹی، سی آئی اے اور امریکی خفیہ اداروں کے رپورٹر، جولین ای بارنز، جن کی بیٹ امریکی انٹیلی جنس ہے، فرناز فسیحی، جن کی تہران کے حلقوں تک رسائی مشہور ہے اور رونن برگمین، اسرائیلی صحافی جو موساد پر کتاب لکھ چکاہے۔ بظاہر متوازن ٹیم لگتی ہے، مگر عملاً رپورٹ کی بنیاد مکمل طور پر امریکی، ایرانی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کے گمنام بیانات پر رکھی گئی ہے۔ جو صحافی خود موساد پر مستند سمجھا جاتا ہو، جب اسی ایجنسی سے متعلق حساس کہانی کا شریک مصنف بنے تو غیر جانب داری سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ خود اسرائیلی انٹیلی جنس کے کچھ سابق اہلکاروں (جیسا کہ حنان گیفن) نے بھی اس رپورٹ کی منطق پر تحفظات ظاہر کیے کہ اگر مقصد احمدی نژاد کو رہنما بنانا تھا تو حامیوں کی منظم بھرتی کا کوئی سلسلہ کہیں نظر نہیں آتا۔ گویا اس رپورٹ پر شک تل ابیب کے اندر بھی موجود ہیں۔ یاد رکھیں عراق کی مثال کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ نیویارک ٹائمز نے دو ہزار تین میں عراق پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں جو رپورٹنگ کی تھی، وہ بعد ازاں مکمل طور پر غلط ثابت ہوئی۔ امریکی حملے کے بعد کچھ نہ ملا اور اخبار کو اپنے قارئین سے معذرت کرنا پڑی کہ اس نے جلاوطن عراقی ذرائع پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیا۔ اس رپورٹنگ نے ایک ایسی جنگ کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا جس نے لاکھوں جانیں لیں اور خطے کو عشروں کی بدامنی میں دھکیل دیا۔ ایک ادارہ جو اتنی بڑی تباہی کے بعد صرف تحریری معذرت پر اکتفا کر لے۔ لہٰذا آج بھی اس کی۔ جنگ کے دوران بیانیے کی جنگ اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی میدانِ جنگ کی۔ ایک اور اینگل سے دیکھیں، اگر ایران کے اندر یہ تاثر پھیلایا جا سکے کہ حکومت کے اندر ہی غیر ملکی ایجنٹ موجود تھے، تو یہ عدم استحکام خود بخود پاسدارانِ انقلاب کی اندرونی گرفت کو بھی کمزور کرتا ہے اور اس علاقائی حکمتِ عملی کو تقویت دیتاہے جو امریکا اور اسرائیل مل کر ترتیب دیتے آئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی اس کہانی میں کچھ جزوی واقعات درست ہو سکتے ہیں لیکن نسبتاً مبالغہ آمیزی زیادہ لگتی ہے۔ ایک ذمہ دار قاری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ گمنام ذرائع، متضاد تفصیلات اور وقت کے تال میل پر سوال اٹھائے، خاص طور پر جب ماضی میں اسی ادارے کی رپورٹنگ ایک پوری جنگ کا جواز بن چکی ہو۔
احمدی نژاد، موساد اور نیویارک ٹائمز کی سٹوری!
09:49 AM, 22 Jul, 2026