تبت : بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی کے بعد اب اس کے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ چین تبت میں ایک بڑا ڈیم بنا رہا ہے جس کا پانی بھارت اور بنگلادیش تک پہنچتا ہے۔ چین نے یرلنگ سنپوڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بننے جا رہا ہے۔
چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اس ڈیم کی بنیاد رکھی، جس پر تقریباً 168 ارب ڈالر لاگت آئے گی اور یہ ڈیم سالانہ 300 ارب کلو واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ چین نے 2020 میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا، اور اس کی حتمی منظوری 2024 میں متوقع ہے۔
اس ڈیم کا پانی دریائے برہم پترا کے ذریعے بھارت اور بنگلادیش تک پہنچتا ہے، جس سے ان دونوں ممالک میں پانی کی کمی اور ماحولیاتی اثرات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ چین اس ڈیم کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، جس سے نہ صرف بھارت کی ریاستوں میں پانی کی کمی ہوگی بلکہ بنگلادیش بھی متاثر ہو گا۔
اس ڈیم کی تعمیر کے بعد دو بھارتی ریاستوں اور بنگلادیش کے کئی علاقے پانی کی کمی کے باعث ممکنہ طور پر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ بھارت کے لیے یہ نیا بحران بن سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ پاکستان کے پانی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین کا یہ منصوبہ علاقے میں پانی کی تقسیم اور ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کر رہا ہے، جس سے پورے خطے کی سیاست اور ماحولیاتی صورتحال پر اثر پڑ سکتا ہے۔