ہرانسان کی زندگی میں اس کی جہاں خوبصورتی دیکھی جاتی ہے وہاں آواز کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے وہ آواز اگر خوبصورت ہے تو پھر اپنے پورے ماحول کو پوری فضا کو محسور کردیتی ہے پاکستان میں بہت سے فنکار ایسے گزرے جن کی آوازیں بھی ان کی شناخت تھی چاہے میوزک ، کسی ڈاکو منٹری کے پس منظر میں سنائی دینے والی آواز ،صداکاری سے لے کر اداکاری کرنے والی ایسی ایسی آوازیں جن کو سننے کیلئے بلاشبہ منتظرہوتے ہیں …گزشتہ دنوں ہم ایک بہت ہی خوبصورت آواز سے محروم ہوگئے …88سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ان کے انتقال سے صداکاری میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ شاید ہی پورا ہوسکے ، نعیم طاہر اور طاہرہ نعیم ریڈیو سے پی ٹی وی تک ایک طویل مدت تک آواز کی دنیا میں چھائے رہے اور ایک زمانہ جب یہ بہت مقبول ترین جوڑی تھی جن کے بغیر ہرپروگرام اورہرمحفل ادھوری اور لاہوری ادبی، شاعری اور شام کو لگی محفلوں میں یہ جوڑی سرچڑھ کر بولتی تھی۔
جان ہی دے دی جگر نے آج پائے یارپر
عمر بھر کی بے قراری کوقرار آ ہی گیا
امتیاز علی تاج اور حجاب کی بیٹی اور اداکار صداکار نعیم طاہر کی زندگی کی ہمسفر یاسمین طاہر کی زندگی پرایک نظر ڈالوں تو وہاں آٹھ عشروں سے زائد وہ خاندان جس نے ایک طویل عرصہ تک فنی افق پر حکمرانی کی آزادی سے قبل بھارت اور آزادی کے بعد پاکستان اس خاندان کی طویل خدمات کی الف لیلیٰ کی داستان سے کم نہیں…ایک وہ زمانہ جب ریڈیو کا عروج تھا ان آوازوں کا …اسلام علیکم یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے میں ہوں آپ کی میزبان یاسمین طاہر ۔میٹھا میٹھا لہجہ ، آہستہ آہستہ بولنا ،ٹھہر ٹھہر کر بات کرنا ایک ایسا سحر ایک ایسا جادو جب کانوں میں رس گھولے تو دل کرے کہ وقت ٹھہر جائے اور یہ آواز سنائی دیتی رہے یاسمین طاہر کو فن اور ادب گھر سے ملا جبکہ قدرت نے آواز دے کر دنیا میں رسیلی آواز کا اضافہ کردیا …امتیاز علی تاج کے بارے اگر یہاں لکھنا شروع کروں تو مجھے ایک نہیںکئی لکھنا پڑیں گی پاکستانی ڈرامے کی ایک ایسی تاریخ جس کے ہرورق پر امتیازعلی تاج لکھا نظر آئے گا اگر لاہور سینٹر کے حوالے سے بات کروں تو اس کے فروغ میں انہی کا نام سرفہرست نظرآتا ہے اور یہ اعزاز بھی انہی کو جاتا ہے کہ انہوں نے کئی کلاسیکل ڈرامہ نگاروں کے کھیلوں کو ترجمہ کرکے شائع کرایا البتہ ان کی بدقسمتی کہ جب وہ الحمرا میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے تو اردو تھیٹر کے کھیلوں کے سکرپٹ اور ان کی تاریخ محفوظ نہ کرسکے۔
88 سالہ یاسمین طاہر سے میری کئی ملاقاتیں رہیں ان کی زندگی میں سن اسی میںروزنامہ امروز اور پھر 1991ء میں ان کے گھر واقع ماڈل ٹاؤن میں روزنامہ جنگ کیلئے انٹرویو کے لیے یہ اس دور کی بات ہے جب ان کو بہت سنا جاتا تھا مجھے یاد ہے ذرا ذرا سا میں نے ان کی آواز کے بارے پوچھا کہ آپ کی کامیابی میں آواز کا کتنا عمل دخل ہے اور یہ کہ آواز کسی بھی کریکٹر میں کس قدر کردار اداکرتی ہے تو انہوں نے کہا کہ شکل وصورت اور آواز خدا کی دین ہے میں بے شمار لوگوں سے ملتی ہوں کبھی کبھی تو ان کی آوازوں کو سن کر یقین نہیں آتا کہ اتنی سحر انگیز آواز دل کرتا تھا کہ صرف انہی کو سنا جائے حالانکہ ان لوگوں کا دنیائے فن کے کسی بھی شعبے سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ کہتے ہیں ناں کہ خدا تعالیٰ جب بندے کی تخلیق کرتا ہے تو کسی نہ کسی میں بہت سی خوبیاں اور خامیاں ڈال دیتا ہے میری خوش قسمتی کہ میں اس باپ کی بیٹی ہوں جنہوں نے تخلیقی آرٹ سے پرفارمنگ آرٹ تک کو تراشا اور مجھے بہت کچھ گھر سے ملا اور میں وراثت میں اپنے ساتھ بہت سی چیزیں لے کر آئی تھی میری تربیت میں میرے ابا کا بڑا ہاتھ ہے پھر جب میری شادی نعیم طاہر کے ساتھ ہوئی تو سونے پہ سہاگہ والی بات تھی لہٰذا ساری عمر ڈرامہ، صداکاری میں گزر گئی یہاں میں نے ان سے ایک اور سوال کیا کہ گلوکارہ نورجہاں آواز کو آواز بنانے کیلئے بہت محنت کیا کرتی تھیں تو کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں میرے ساتھ ایسا نہیں ہے آواز قدرت کی دین ہوتی ہے میں نے کبھی ان باتوں پر توجہ نہیں دی۔
یاسمین طاہر نے ایک دن جانا تھا وہ گزشتہ دنوں اپنے رب کے حضور پیش ہوگئیں میں دنیاکی آوازوں کی بات نہیں کروں گا مگر افسوس کے ساتھ یہ ضرور کہوں گا کہ ہم نے یاسمین طاہر جیسی کتنی شخصیات اورکتنے بڑے ناموں کو ان کی زندگیوں کے بعد ایک اثاثے کے طورپر نہ محفوظ کرسکے نہ ان کا متبادل تیار ہوا میرا دعویٰ نہیں آپ نے ماضی وحال میں زندگی میں کتنی عظیم آوازوں کو سنا ہوگا کتنی آوازوں نے آپ پر گہرے اثرات چھوڑے ہوں گے کیا ہم ان آوازوں کو آنے والی نسلوں کیلئے سنبھال پائے میری عمر کے لوگوں کو تو یاسمین طاہر کی سحرانگیز آواز تک تو رسائی ہوئی ہوگی مگر اس نسل کو کیا خبر کہ یاسمین طاہر ہمارے لئے کتنا بڑا اثاثہ اور کتنی بڑی اکیڈمی اور اپنی ذات میں کتنا بڑا ادارہ تھیں وہ واحد صداکارہ تھیں جنہوں نے ساری عمر اسی آواز کو زمانے میں پھیلاتے پھیلاتے گزار دی ۔
چراغ زندگی ہو گافر وزاں ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصل بہارہم نہیں ہوں گے
اور آخری بات …
کتنی عظیم ہستیاں کتنے بڑے لوگ جاتے جاتے بڑے اثاثے چھوڑ گئے اور ہم بے قدرے زمانے کے بے قدرے لوگ، نہ زندگیوں میں ان کی قدر کرسکے نہ ان کے اثاثے سنبھال سکے …آج کی نسل کو کیا علم کہ یاسمین طاہر کتنا بڑا نام، کتنی بڑی ہستی، کتنی بڑی آوازتھیںجو ہمیشہ کیلئے بند ہوگئی…
یاسمین طاہر…خوبصورت آوازجودفن ہوگئی
09:12 AM, 21 Jul, 2025