بلوچستان میں جبری گمشدیوں (مسنگ پرسنز) کا بیانیہ فتنہ الہندوستان کے پروردہ ایجنٹوں کے ہاتھوں نہ صرف پروان چڑھایا گیا بلکہ عالمی سطح پر ریاست پاکستان کے خلاف ایک منفی پراپیگنڈا مہم کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہر تھوڑے عرصے بعد کسی نہ کسی شخص کو ’’جبری گمشدہ‘‘ بنا کر اس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کی جاتی ہے، پھر فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیموں کا سیاسی ونگ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی)، ماہ رنگ لانگو، سمی دین بلوچ اور صبیحہ بلوچ جیسے غدار ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کر دیتے ہیں، پھر اچانک سے وہی شخص کسی نہ کسی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث پایا جاتا ہے، جن کے ثبوت آن ریکارڈ موجود ہیں۔ 12 اگست 2018ء کو عبدالودود ساتگزئی مچھ سے ازخود غائب ہوا، اس کو لیکر بڑے احتجاج کیے گئے، اس کی بہن گلزاری بلوچ نے اپنے بھائی کو جبری گمشدہ قرار دیکر، ماہ رنگ لانگو کے ساتھ مل کر ریاستی اداروں کے خلاف خوب زہر اگلا، اور پھر جب کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں نے مورخہ 29 اور 30 جنوری 2024ء کی رات بلوچستان کے علاقے مچھ اور کولپور کمپلیکسز پر حملے کیے جنہیں جوانوں نے بڑی بہادری سے ناکا م بنا دیا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران 24 دہشت گردوں کو جہنم رسید کیا، تو ان دہشت گردوں میں عبدالودود ساتگزئی بھی شامل تھا، جس کو لاپتا افراد میں شامل کر کے ریاست کے خلاف پراپیگنڈا کیا جا رہا تھا، واضح رہے کہ گلزاری بلوچ اپنے بھائی کے ٹھکانے کے بارے میں بخوبی جانتی تھی، کہ وہ بی ایل اے کے کیمپ میں تھا، اس بات کا واضح ثبوت اس کا یہ بیان ہے ’’میرا بھائی ریاست کی شکایات کی وجہ سے اپنی مرضی سے پہاڑوں پر چلا گیا ہے‘‘۔ اسی طرح 18 مارچ 2014ء کو اسد اللہ کو بھی مسنگ پرسن قرار دیکر ریاستی اداروں کے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا وہی اسد اللہ بلوچ، جو گوادر میں پی سی ہوٹل پر خود کش حملے میں ملوث تھا اور جہنم رسید ہوا، اسی طرح 9 جون 2018ء کو امتیاز ولد رضا محمد کو جبری گمشدہ بنا کر خوب واویلا کیا گیا، جو بی ایل ایف کا کمانڈر تھا اور آواران میں دہشت گردانہ کارروائی کو انجام دینے کی کوشش میں اپنے انجام کو پہنچا، اسی طرح 2 نومبر 2019ء کو دوستین کو بھی مسنگ پرسن قرار دیا گیا، وہی دوستین بی ایل ایف کا کمانڈر تھا، جو سکیورٹی فورسز کی دہشت گروںکے خلاف ایک کارروائی میں اپنے ابدی ٹھکانے دوزخ میں پہنچ گیا، اسی طرح کریم جان، جو 25 مئی 2022ء کو تربت سے روپوش ہوا، اس کو جبری گمشدہ بنا کر ریاستی اداروں کے خلاف زہر افشانی کی گئی، بعد ازاں 20 مارچ 2024 کو بلوچ لبریشن آرمی نے اپنی جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا کہ کریم جان نے گوادر حملے میں ایک فدائی کی حیثیت سے حصہ لیا، اس کی تصویر بھی شائع کی گئی۔ یاد رہے کہ کریم جان بلوچ کی بہن نے اس کی لاش کی حوالگی کے لیے سول ہسپتال گوادر کو درخواست دی، جس میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ کریم جان ایک عرصے سے بی ایل اے کے (مجید بریگیڈ) کا حصہ تھا اور گوادر حملے میں مارا گیا، اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیموں کے سیاسی ونگ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی طرف سے مسنگ پرسن کی لسٹ میں شامل تھا، کریم جان کے چچا نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان کی لاعلمی میں کریم جان بلوچ کی جعلی گمشدگی کا ڈرامہ رچا کر ’’سی ٹی ڈی‘‘ کے خلاف اس کی گمشدگی کا کیس بھی چلایا گیا۔ اسی طرح 4 جنوری 2022ء کو تربت سے صغیر احمد ولد نور بخش عیسیٰ زئی کے بڑے بھائی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی کہ اس کا بھائی کل 3 جنوری سے غائب ہے، بعد ازاں یہی مسنگ پرسن بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این اے) کا مسلح دہشت گرد نکلا جو 16 فروری 2022 کو اپنے انجام کو پہنچا۔ اسی طرح تربت، بلیدہ سے سترہ سالہ نوجوان حافظ عبداللہ 13 نومبر 2022 کو مدرسہ میں دوران تدریس کلاس سے نکل کر روپوش ہوا، اس کو لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا، پھر کالعدم تنظیم بی ایل ایف نے اپنی پریس ریلیز جاری کی جس میں لکھا کہ حافظ عبداللہ، گذشتہ ایک سال سے تنظیم سے منسلک تھا، پنجگور پروم کے پہاڑی علاقے تولگ زنگ میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے دوران واصل جہنم ہوا۔ اسی طرح آواران سے عادل بلوچ کو جبری گمشدہ قرار دیا گیا، جو کہ دہشت گرد تنظیم بی ایل ایف کا مسلح دہشت گرد تھا اور 11 اکتوبر 2024ء کو آواران کے علاقے پیر اندر سورک کور میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے دوران فورسز کے ہاتھوں مارا گیا۔ اسی طرح 17 دسمبر 2023ء کو گوادر سے ذاکر عبدالرزاق کو مسنگ پرسن قرار دیا گیا، جبکہ وہ فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیم بی ایل اے کا اہم کمانڈر تھا، پہلے اس کی گمشدگی کا پراپیگنڈا کیا گیا، بعدازاں اس کی بازیابی کا ڈرامہ رچایا گیا، حقیقت تو یہ ہے کہ وہ کبھی مسنگ تھا ہی نہیں، بلکہ پہاڑوں پر موجود تھا۔ اس حقیقت سے پردہ 14 دسمبر 2024ء کو اس وقت اٹھا جب یہ نام نہاد مسنگ پرسن دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے ایک کامیاب آپریشن میں جہنم کا ایندھن بنا۔ 4 اپریل 2024 کو کوئٹہ ائیرپورٹ سے ازخود روپوش ہونے والا طیب بلوچ، جس کے بھائی محی الدین بلوچ نے باقاعدہ تھانہ ائیر پورٹ کوئٹہ میں اس کی مسنگ کی ایف آئی آر درج کرائی تھی، بھی انہی نام نہاد مسنگ پرسنز کی لسٹ میں شامل تھا، مگر درحقیقت وہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کا اہم کمانڈر تھا، جو 2022ء میں بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ہوا، اس سے قبل وہ بیرون ملک اپنی خوش گوار زندگی گزار رہا تھا مگر ملک دشمن عناصر کی برین واشنگ سے گمراہ ہو کر دہشت گردی کو آزادی کا راستہ سمجھ بیٹھا اور 27 اگست 2024 کو اس نے بیلہ کیمپ پر خود کش حملہ کر کے ہمیشہ کے لیے اپنی دنیا و آخرت تباہ کر لی۔ اسی طرح آصف بلوچ، رشید بلوچ اور شہزاد بلوچ بھی ’’لاپتا افراد‘‘ کی فہرست میں شامل تھے۔ بلوچستان میں ’’جبری گمشدیوں‘‘ لاپتا افراد اور مسنگ پرسنز کا بیانیہ دراصل ایک من گھڑت ڈرامہ ہے جو پاکستان کے غدار ماہ رنگ لانگو، سمی دین بلوچ، صبیحہ بلو چ کی جانب سے رچایا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان دشمن ایجنڈے کی تکمیل ہے۔
بلوچستان میں جبری گمشدیوںکی حقیقت
09:10 AM, 21 Jul, 2025