ای نون پلان

09:10 AM, 21 Jul, 2025

اسرائیل کا رقبہ 22,145کلومیٹر، اس کی کسی بھی طرف سے زیادہ سے زیادہ لمبائی 420 کلومیٹر اور چوڑائی 115 کلومیٹر ہے۔ 2025ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی پچانوے لاکھ کے قریب ہے یہاں بسنے والوں میں 73.6 فیصد یہودی، 19فیصد مسیحی اور 18فیصد مسلمان ہیں جبکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے 4.8 فیصد ہیں۔ یہاں شرح پیدائش خطے کے دیگر ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے، اس کی بنیاد یہودیوں کے مذہبی عقائد ہیں۔ وہ چاہتے ہیں زیادہ سے زیادہ یہودی پیدا ہوں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جتنے زیادہ یہودی ہوں گے اتنی ہی ان کی آواز دنیا میں زیادہ سنی جائے گی، جتنی تعداد زیادہ ہوگی اتنے ہی زیادہ ہاتھ بروئے کار لا کر دنیا کے ہر میدان میں آگے بڑھا جا سکے گا۔ اسرائیل کا شمار ترقی یافتہ ترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں فری مارکیٹ اکانومی کا تصور رائج ہے۔ وہ ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ اور سروسز مہیا کرنے کے شعبوں میں بہت ترقی کر چکا ہے۔
کہنے کو تو پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی آبادی سے بہت کم آبادی والا اور پاکستان کے متعدد شہروں سے کم رقبے والا اسرائیل ایک چھوٹا ملک ہے لیکن اس کی پشت پر امریکہ کے علاوہ نصف سے زائد یورپی ممالک کھڑے ہیں جن کی دولت ٹیکنالوجی، حمایت و نصرت ہر وقت اسرائیل کے ساتھ ہے، اس کی وجہ صرف ایک نکتے پر مبنی ایجنڈا ہے، یہ تمام ممالک آج سے نہیں بلکہ سیکڑوں برس قبل سے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت غلبہ اسلام کی رفتار سے خوفزدہ ہو گئے۔ سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ جہاں جہاں مسلمان ترقی کر رہے ہیں، طاقت حاصل کر رہے ہیں، وہاں وہاں ضرب کاری لگائی جائے گی۔ یہ نکتہ دنیا میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے بچے بچے کی سمجھ میں آچکا ہے۔ اگر نہیں سمجھ میں آیا تو دنیا کے بیشتر مسلمان حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ امریکہ اسرائیل یورپ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مسلمان ممالک میں محب وطن حکومتیں تبدیل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنی کوششیں کرتا رہتا ہے۔ وہ ہر ملک میں ملی اور مذہبی ثقافتی تشخص پر یقین رکھنے والی شخصیات ، سیاسی جماعتوں اور خاندانوں کو پیچھے دھکیل کر کاروباری سوچ کی حامل سیاسی جماعتوں اور خاندانوں کو آگے لانے میں دلچسپی رکھتا ہے، جن کا اوڑھنا بچھونا کاروبار اور منافع ہو، جو تمام ترجیحات ترک کر کے حتیٰ کہ اپنے مذاہب سے بھی قدرے فاصلہ اختیار کر کے ان کے رنگ میں رنگے جائیں، ان کے ایجنڈے پر بخوشی چلنے پر راضی ہوں ، ان کی سوچ کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو اسے ’’نیو امریکی ورلڈ آرڈر‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ملکوں کو کمزور کرنے ، ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کیلئے ڈراتا ہے، جو نہ ڈرے اور مقابلے پر اتر آئے اس پر سب مل کر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یو این فورسز کا کردار اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے جو صرف اور صرف فقط اسی ایجنڈے کی تکمیل میں معاون نظر آتا ہے۔
اسرائیل عرب دنیا کے قلب میں ایک خنجر کی طرح پیوست ہے۔ 1950ء سے لے کر آج تک وہ درجن بھر سے زیادہ جنگیں لڑ چکا ہے اور اپنے چاروں طرف موجود ممالک کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے ان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے۔ اس نے صحرائے سینا چھین لیا، وہ گولان کی پہاڑیوں پر قابض ہو گیا، اس نے اردن کا وسیع علاقہ ہتھیا لیا۔ اب وہ فلسطینیوں سے فلسطین مکمل طور پر خالی کرانا چاہتا ہے، اس کے ایجنڈے میں مصر، شام اور سعودی عرب کے علاقوں تک قبضہ کرنا شامل ہے۔
خلافت عثمانیہ جیسی مضبوط حکومت کے حصے بخرے کرنا اسی ایجنڈے کا شاخسانہ تھا، جس کے دفاع کیلئے لڑی جانے والی جنگ میں مسلمانوں نے اہم قربانی دی۔ وہ جنگ میں شریک ہوئے، ان کی خواتین نے اپنے زیور اتار کر سامان جنگ خریدنے اور جنگی ضروریات پوری کرنے کیلئے پیش کئے۔ یہ قربانی تاریخ میں سنہرے حروف میں محفوظ ہے۔ کئی دہائیوں بعد پاکستان میں تباہ کن سیلاب آئے تو سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ترکی نے پاکستان کی بہت مدد کی۔ ترکی کے اس وقت صدر اور ان کی بیگم پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو ان کی بیگم نے ایک امدادی تقریب میں اپنے گلے میں پہنا بیش قیمت سونے اور ہیروں سے بنا ہار اتارا اور سیلاب زدگان کے امدادی فنڈز میں دے دیا، ان کا یہ عمل دراصل اس بات کا مظہر تھا کہ زندہ اور باغیرت قومیں اپنے کڑے وقت میں کسی کے کئے گئے احسان کو فراموش نہیں کرتیں۔
اسرائیل نے دو برس میں چار جنگیں چھیڑی ہیں۔ اس نے غزہ اجاڑ دیا پھر وہ بھارت کے ساتھ درپردہ مل کر پاکستان کے خلاف برسر پیکار رہا۔ ٹھیک چند روز بعد اس نے ایران پر حملہ کر دیا۔ اب وہ شام کی سرحدوں کے اندر گھس گیا ہے۔ لاہور شہر سے کم آبادی رکھنے والا ملک اسرائیل کیا یہ سب کچھ تنہا کر رہا ہے۔ کیا اس نے اس سے قبل متعدد عرب ممالک کے خلاف تنہا ہی جنگ لڑی اور انہیں ناکوں چنے چبوائے یقینا نہیں امریکہ اور یورپی ممالک کی مدد سے یہ سب کچھ ممکن ہوا، مسلمان ملکوں میں کسی ایک نکتے پر اتحاد نہ ہو سکا، سب باری باری اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں اور دوسروں کو اسی انجام سے دوچار کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپی بدمعاش اب مل کر دنیا کے سب سے بڑے جارح کو دنیا کے تمام مسلمان ملکوں سے تسلیم کرانے کیلئے وار کرنے کیلئے پرتول رہے ہیں۔ اسرائیل کو مستحکم کرنے کیلئے پہلے برطانیہ نے یہاں جنگیں چھیڑیں، اب امریکہ ان کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ 1984ء میں تیار کئے گئے ماسٹر پلان میں تحریر کیا گیا ہے جسے ای نون پلان کہتے ہیں کہ ہمیں شام کی طاقت کو ختم کرنے کیلئے اس کے تین حصے کرنا ہوں گے یہاں تین ریاستیں قائم کرنا ہوں گی۔ علوی ریاست لیپو میں ہو گی۔ دروس قبیلے کو گولان میں سیٹ کیا جائے گا جبکہ دمشق میں سنی ریاست قائم کی جائے گی۔ تمام ریاستوں میں اسرائیل امریکہ اور یورپ دوست حکومتیں ہوں گی۔ چالیس برس تک ہتھیار بکف، صلاح الدین ایوبی کے وارث کردوں کو بھی رام کیا جا چکا ہے۔ سب کچھ ای نون پلان کے مطابق چل رہا ہے، آگے بڑھ رہا ہے ایک اور ٹریجڈی سر پر کھڑی ہے، ہم بے خبر سوئے ہوئے ہیں بلکہ اس ٹریجڈی میں معاون بننے والے ہیں۔

مزیدخبریں