وسائل کی تقسیم پرہولناک پراپیگنڈا!

09:04 AM, 21 Jan, 2026


آپ نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل تنویر کا وہ بیان تو سنا ہی ہو گا جب وہ دورہ لاہور کے دوران ہم خیال صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صوبے کو فنڈز نہ ملنے کا رونا دھونا دکھا رہے تھے۔ سہیل آفرید ی نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی وفاق وسائل کی تقسیم میں بالخصوص خیبر پختونخوا سے ناروا سلوک کر رہا ہے اور حصے کے وسائل اور رقم نہیں دے رہا جس سے گویا مسائل جنم لے رہے ہیں۔ سہیل آفریدی نے ضم شدہ اضلاع کے وسائل کی جہاں بات کی وہیں یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی کہ تمام مسائل کی جڑ ہی گویا وفاق ہے۔ یہ ایک ایسا گمراہ کن پراپیگنڈا ہے جو تحریک انصاف کا وتیرہ بنتا نظر آ رہا ہے۔ قوم ان حقائق کو بخوبی جان چکی ہے۔ اگر ہم پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی بات کریں تو پنجاب کو جو حصہ قومی ریونیو سے ملتا ہے، وہ اسے صوبے کی تعمیر و ترقی، خصوصاً صفائی، تعلیم اور بنیادی سہولیات پر صرف کرتا ہے، جس کے نمایاں نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ موجودہ دور میں پنجاب حکومت کی صفائی اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی صوبے کے لیے خوش آئند ہے۔ افسوس اس امر کا ہے خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت حقائق سے نظریں چرا کر تمام ملبہ مسلسل وفاق پر ڈال کر یہ تاثر دے رہی ہے کہ گویا کے پی حکومت ہی قربانی کا بکرا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت مسلسل Scapegoat Fallacy یعنی ”قربانی کا بکرا“ بنانے کے مغالطے کا سہارا لے رہی ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جس میں کوئی فرد یا گروہ اپنی ناکامیوں، بدانتظامی یا غلط فیصلوں کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال کر خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ عوامی احتساب سے بچا جا سکے اور مثبت خود نمائی برقرار رہے۔رواں مالی سال 2025-26 کے سرکاری اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کو وفاق کی جانب سے اربوں روپے منتقل کیے گئے، اس کے باوجود محرومی اور ناانصافی کا شور مسلسل بلند کیا جا رہا ہے۔ ذرا اعداد و شمار ملاحظہ کیجیے۔ وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا کے لیے 1147.76 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے مالی سال کے پہلے ہی کوارٹر میں 316.14 ارب روپے صوبے کو منتقل ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں رواں مالی سال کے دوران 137.91 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 37.99 ارب روپے پہلے کوارٹر میں ہی صوبے کو فراہم کر دئیے گئے۔ اس کے باوجود صوبے میں بدامنی کی صورتحال یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آیا یہ خطیر رقم واقعی پولیس فورس کی تربیت، استعداد کار میں اضافے اور تھانوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر خرچ کی گئی یا نہیں۔ بدقسمتی سے حالات یہ تاثر دیتے ہیں کہ صوبائی حکومت نے اس سرمایہ کو عوامی تحفظ کے بجائے سیاسی مفادات، جلسوں اور طاقت کے مظاہروں پر صرف کیا۔ اس تمام صورتحال پر پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت اپنی عوام کو جوابدہ ہے۔ سٹریٹ ٹرانسفرز کی مد میں خیبر پختونخوا کے لیے 57.11 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے مالی سال کے پہلے کوارٹر میں 12.76 ارب روپے (22%) صوبے کو منتقل ہو چکے ہیں، مگر عملی کارکردگی اب بھی صفر دکھائی دیتی ہے۔ اس کے باوجود مظلومیت کا بیانیہ سب سے بلند ہے۔ نیٹ ہائیڈل منافع کی اگر بات کریں تو یہ معاملہ خیبر پختونخوا کی سیاست میں ہمیشہ ایک ”محرومی کارڈ“ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ رواں مالی سال کے لیے 71.41 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 12 ارب روپے کی پہلی قسط پہلے ہی کوارٹر میں ادا کر دی گئی۔
ہائیڈل منافع کی ادائیگی بجلی کی پیداوار اور واپڈا کے کیش فلو سے مشروط ایک تکنیکی عمل ہے، مگر صوبائی حکومت اسے سیاسی رنگ دے کر عوام کو یہ باور کراتی ہے کہ وفاق ان سے دشمنی کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وفاق اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر رہا ہے اور نااہلی کا بوجھ صوبائی حکومت پر ہی عائد ہوتا ہے۔ ایکسلریٹڈ امپلی منٹیشن پروگرام (AIP) کے تحت 2019-20 میں 23 ارب روپے، 2020-21 میں 24 ارب روپے، 2021-22 میں 25.5 ارب روپے، 2022-23 میں 20 ارب روپے، 2023-24 میں 24.8 ارب روپے اور 2024-25 میں 42.3 ارب روپے جاری کیے گئے۔ جبکہ 2025-26 کے لیے 37 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر خیبر پختونخوا کے لیے 1506.93 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 378.89 ارب روپے (25%) مالی سال کے پہلے ہی کوارٹر میں صوبے کو منتقل ہو چکے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کی اگر بات کریں تو اس پروگرام کے تحت اب تک 130.3 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ 2019-20 میں 14.7 ارب روپے، 2020-21 میں 24 ارب روپے، 2021-22 میں 24 ارب روپے، 2022-23 میں 18.5 ارب روپے، 2023-24 میں 20.8 ارب روپے اور 2024-25 میں 27 ارب روپے جاری کیے گئے، جبکہ 2025-26 کے لیے 28 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یوں خیبر پختونخوا 
حکومت سابقہ فاٹا کی ترقی کے نام پر وفاق سے اب تک 159.6 ارب روپے حاصل کر چکی ہے، مگر زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ سال 2010 سے اب تک وفاق کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں خیبر پختونخوا کو 415.50 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اگر یہ سرمایہ درست سمت میں خرچ کیا جاتا تو آج صوبے میں ایک جدید، مضبوط اور مو¿ثر پولیس فورس موجود ہوتی اور عوام کا جان و مال محفوظ ہوتا۔ پندرہ سالہ اقتدار اور اربوں روپے کے باوجود اگر صوبہ آج بھی خود کو غیر محفوظ قرار دیتا ہے اور مسلسل محرومی کا بیانیہ دہراتا ہے، تو اس کی ذمہ داری وفاق پر نہیں بلکہ صوبائی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت ایک Extractive Economic System پر عمل پیرا ہے، جہاں وسائل عوامی فلاح کے بجائے ایک محدود طبقے کے مفادات کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ایسے نظام میں شفاف نگرانی اور سخت احتساب ناگزیر ہو جاتا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ خیبر پختونخوا حکومت سے گزشتہ برسوں میں فراہم کیے گئے اربوں روپے کا مکمل حساب طلب کرے اور صوبے میں حقیقی ترقیاتی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے واضح اور سخت ہدایات جاری کرے، تاکہ وطنِ عزیز کے تمام صوبوں کی یکساں ترقی اور خوشحالی ممکن ہو سکے۔

مزیدخبریں