محمود خان اچکزئی کی سیاسی موت

09:04 AM, 21 Jan, 2026

محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر بنا دیئے گئے۔ وہ بلامقابلہ اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئے ہیں، ان کے مقابلے میں کسی دوسرے نے کاغذات نامزدگی داخل ہی نہیں کئے تھے۔ عمران خان نے انہیں نامزد کیا تھا۔ محمود خان اچکزئی ایک قوم پرست پشتون ہیں اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ہیں۔ 2024ءمیں اچکزئی این اے 266 سے الیکشن جیت کر قومی اسمبلی کے ممبر بنے، ان کی پارٹی کی قومی اسمبلی کی یہی واحد سیٹ ہے گویا اسمبلی میں ایک نشست رکھنے والی پارٹی کا ممبر/چیئرمین اپوزیشن لیڈر بن چکا ہے۔ فروری 2013ءمیں کہا گیا کہ اچکزئی صاحب کو کیئر ٹیکر وزیراعظم بنایا جا رہا ہے لیکن انہوں نے انکار کیا کہ وہ الیکشن لڑنا چاہتے تھے بہرحال محمود خان اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر منتخب ہونا قومی سیاست میں کسی نئے اور مثبت باب کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اچکزئی کا بلوچستان سے پشتون لیڈر ہونا ایک اہم فیکٹر ہے، ان کا سیاسی کیرئیر، ان کی حالیہ تقاریر اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ وہ قومی یکجہتی کے داعی ہیں۔ سیاست میں مذاکرات کے حامی ہیں۔ وہ ایسا کہتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان کی تقاریر میں ایسا ہی کچھ کہا جاتا رہا ہے۔ وہ نواز شریف، آصف علی زرداری کا نام لے کر انہیں مذاکرات میں شامل کرنے کا کہتے رہے ہیں۔ پانچ بڑوں کے مل بیٹھنے اور سیاسی تعطل کو دور کرنے کی تجویز اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ محمود نواز شریف، آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، عمران خان اور فیلڈ مارشل کے مل جل کر بیٹھنے اور ملک کو سیاسی دلدل سے نکالنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔محمود خان اچکزئی سخت سے سخت بات بھی احسن انداز میں کرنے کے لئے مشہور ہیں۔ وہ سیاسی دانشور کے طور پر تاریخی حوالے دیتے ہیں اور پھر عملی سیاست دان کے طور پر مسائل کے حل کی تجاویز بھی دیتے ہیں۔
حالیہ سیاسی کشمکش اور دھڑے بندیوں کے دور میں جس سے پاکستان گزر رہا ہے، محمود خان اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان نے مئی 2025ءمیں بھارت کو چنے چبوا کر، شکست فاش سے دوچار کر کے، عالمی سطح پر اپنا ایک نام اور مقام پیدا کیا ہے۔ سفارتی سطح پر پاکستان ایک اہم ملک کے طور پر، ایک مضبوط عسکری قوت کے طور پر سامنے آیا ہے لیکن پاکستان کی قومی معیشت اس قدر مضبوط نہیں ہے۔ معاشی میدان میں پاکستان ابھی جدوجہد کے مراحل طے کر رہا ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر، اس کی طے کرد پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے امید کی جا رہی ہے کہ قومی معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے، عملاً صورتحال یہ ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی اور قدر زر میں استحکام کے علاوہ دیگر عوامی میں تیزی کے آثار تک نظر نہیں آرہے ہیں۔ سرمایہ کاری پر جمود طاری ہے۔ روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے ہیں۔ توانائی کی بلند قیمتوں نے معاشی پھیلاﺅ کو روک دیا ہے۔ بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ورلڈ بینک کی گزشتہ برس اگست 2025ءمیں شائع کردہ رپورٹ کے مطابق 44.7 فیصد پاکستانی آبادی خط غربت سے نیچے زندگیاں گزار رہی ہے۔ 110 ملین افراد غریب ہیں۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شدید غربت میں زندگیاں گزارنے والوں کی شرح 4.9فیصد سے بڑھ کر 16.5فیصد ہو گئی ہے۔ فی کس آمدنی بڑھنے کے باوجود غربت میں اضافہ معاشی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان معاشی شعبے میں بہتری کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ کامیابی کے راستے میں بڑی رکاوٹ سیاسی عدم استحکام ہے۔ سیاسی اضطراب، معاشی بہتری کی راہیں کھوئی کررہا ہے۔ الیکشن 2024ءکے واقعات نے ایک ایسی فضا کو جنم دیا ہے جس سے کشمکش اور اضطراب نے جنم لیا ہے۔ پی ٹی آئی و ہمنوا سیاسی استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکمرانوں کی سیاسی حکمت عملی بھی باعث اضطراب ہے۔ ایسے کو تیسا کی حکمت عملی نے بھی سیاسی اضطراب میں اضافہ کیا ہے۔ عمران خان جاری نظام کے ناقد ہی نہیں بلکہ منکر ہیں۔ وہ کسی کو نہیں مانتے، ان کی سوچ منفی، بالکل نیگیٹو ہے، ان کے تربیت یافتہ چاہنے والے مکمل طور پر نیگٹو ہو چکے ہیں۔ میں نہ مانوں کی سیاست کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں محمود خان اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر اہم ہے وہ کیونکہ افہام و تفہیم کی بات کرتے رہے ہیں۔ وہ نواز شریف، آصف علی زرداری اور شہباز شریف کا نام لے کر سیاسی مذاکرات کی بات کرتے رہے ہیں۔ اب ایک اہم پوزیشن پر بیٹھ کر وہ اپنے اعلان کردہ افکار و نظریات کو عملی شکلے دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی تجزیہ نگار اسے ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔اللہ کرے ایسا ہو کیونکہ ایسا ہونا پاکستان کے لئے اچھا ہے۔ 
ایسے زمینی حقائق کی موجودگی میں مذاکرات ہوں گے یا نہیں؟ اگر ہوئے تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہو سکے گا؟ کیا جاری حالات میں معاشی تعمیر و ترقی کا خواب حقیقت بن سکے گا؟ ایسے زمینی حقائق کی موجودگی کیا کہتی ہے؟ حکمران اتحاد خوش ہے، اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے۔ مئی 2025ءکی عظیم فتح نے اس کی پذیرائی میں اضافہ کر دیا ہے۔ استحکام کا تاثر راسخ ہو چکا ہے۔ عمران خان کو جیل میں ڈال کر اس کی سٹریٹ پاور کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔ دوسری طرف عمران خان جیل میں بیٹھ کر اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا تاثر دے کر اپنی سیاسی پذیرائی اور اہمیت بڑھا رہے ہیں۔ انہیں جاری حالات سوٹ کرتے ہیں۔ مذاکرات کا کھیل کسی انجام کا شکار ہو گا؟ سردست کچھ پتہ نہیں ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ اگر یہ کھیل جاری رہا اور کسی حتمی انجام کی طرف گامزن ہونے لگا اور سیاسی استحکام میں معاون ثابت ہونے لگا تو عمران خان حرکت میں ضرور آئیں گے کیونکہ ایسا عمرانی سیاست کے لئے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ سیاسی استحکام حکمران اتحاد کے لئے فائدے مند اور عمران خان کے لئے، ان کی سیاست کے لئے موت ہو سکتی ہے، اس لئے وہ اس سے پہلے ایسا کرنے والے کو سیاسی موت کی گھاٹ اتارنے میں کوئی بھی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کریں گے۔ محمود خان اچکزئی کو عمران خان نے ہی اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کیا ہے۔

مزیدخبریں