نیویارک : امریکی تحقیقاتی جریدے ’جسٹ دی نیوز‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان کی زیرِ قیادت افغانستان میں القاعدہ سمیت متعدد عالمی دہشت گرد تنظیمیں دوبارہ سرگرم ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم ان تنظیموں کی صرف نگرانی ہی نہیں بلکہ بھرپور سرپرستی بھی کر رہی ہے۔
افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ ترین ٹھکانہ بن چکا ہے، جہاں سے خطے کے امن کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ’جسٹ دی نیوز‘ کے مطابق طالبان حکومت نے القاعدہ کو وہ تمام سہولیات اور پناہ گاہیں فراہم کر دی ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں میں ان کے پاس نہیں تھیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلق محض نظریاتی نہیں بلکہ انتظامی اور عسکری نوعیت کا ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین نے اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر طالبان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی بند نہ کی تو افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ افغانستان میں ان تنظیموں کی موجودگی عالمی سلامتی کے لیے ایک "ٹائم بم" قرار دی جا رہی ہے۔
افغانستان ایک بار پھر دہشت گردی کا گڑھ: طالبان اور القاعدہ کے درمیان 'خطرناک گٹھ جوڑ' کا انکشاف
10:18 AM, 21 Feb, 2026