امریکی حکومت اور عدلیہ میں بڑا ٹکراؤ: سپریم کورٹ کا فیصلہ ’قانون شکنی‘ قرار

09:24 AM, 21 Feb, 2026

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ’لاقانونیت‘ قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ایک نیا ہیجان پیدا کر دیا ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے حالیہ بیان میں عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے درج ذیل موقف اختیار کیا۔ عدالتی فیصلہ امریکی صنعتوں اور سپلائی چین کے تحفظ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ وینس کے مطابق یہ فیصلہ "صاف اور سادہ الفاظ میں قانون شکنی" ہے۔
 صدر ٹرمپ امریکی ورکرز کے دفاع کے لیے اپنے تمام تر اختیارات استعمال کریں گے۔عدالتی دھچکے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا ہے کہ ٹیرف کے نفاذ کے لیے اب دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا۔انتظامیہ اپنی تجارتی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے متبادل راستے تلاش کر چکی ہے۔سکاٹ بیسنٹ   کاکہنا ہے کہ صدر کے پاس ٹیرف عائد کرنے کے متعدد اختیارات اب بھی موجود ہیں جنہیں بروئے کار لایا جائے گا۔

مستقبل کی صورتحال
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔

مزیدخبریں