محترم و مکرم سینیٹر عرفان صدیقی 19 دسمبر 1943ء کو راولپنڈی کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تقریباً 83 سال کی خوبصورت و پروقار اور شاندار زندگی گزارنے کے بعد 10 نومبر 2025ء کو مختصر علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کے ساتھ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، آمین۔ ان کا انتقالِ پر ملال مجھے ہمیشہ کے لیے مغموم کر گیا کیونکہ وہ میرے فادر اِن لا ہونے کے ساتھ میرے بہت ہی اچھے دوست، محسن اور مینٹور بھی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی جدائی کا غم مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور اس شدید صدمے سے نکلنے میں شاید مجھے کئی ماہ و سال لگیں۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی صاحب سیاست، صحافت اور تعلیم کے میدان کا ایک خوبصورت، مثبت اور روشن چہرہ تھے۔ وہ حکمت و دانش، فہم و فراست اور تدبیر و بصیرت کا عملی استعارہ تھے۔ وہ عاجزی و انکساری، شائستگی و ملنساری اور نرم خوئی و رحمدلی کا پیکر تھے۔ وہ دیانت، متانت، حسنِ اخلاق اور حسنِ کردار کا مجسم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ خوبیوں، صلاحیتوں اور اوصاف سے نوازا ہوا تھا۔ جسکی وجہ سے تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی طبقات انہیں بے حد عزت و احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی صاحب انتہائی زیرک، دانش مند اور صاحبِ حکمت شخصیت تھے۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں محنت، دیانت اور جہدِ مسلسل کے قائل تھے۔ ان کا یہ پختہ یقین تھا کہ اگر آپ رب کریم اور اس کی دی ہوئی صلاحیتوں پر بھروسہ کر کے زندگی کے کسی بھی میدان میں مسلسل محنت کرتے رہیں تو کامیابی ہر حال میں آپ کے قدم چومے گی۔ وہ میرٹ اور محنت پر یقین رکھتے تھے اور سفارش کلچر کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے زندگی کے ہر میدان میں محنت سے کامیابیاں سمیٹیں۔ خاص طور پر سیاست، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں اپنی محنت، لگن اور دیانت سے نہ صرف نیک نامی کمائی بلکہ اپنے ہم منصب اور ہم عصر ساتھیوں میں بھی ہمیشہ سرفہرست رہے۔ ان کی ملک و قوم کے لیے بے پناہ علمی، ادبی، صحافتی، سیاسی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے مارچ 2014ء میں انہیں "ہلالِ امتیاز" اور اگست 2025ئ میں پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ "نشانِ امتیاز" عطا کیا۔
"عرفان صدیقی" محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک عظیم فلسفے، نظریے اور سوچ کا نام ہے۔ اس فلسفے کی بنیاد تہذیب، شائستگی اور احترامِ انسانیت پر مبنی ہے جو رنگ و نسل، ذات پات اور معاشی و معاشرتی تفریق سے کوسوں دور ہر انسان کو برابری کی سطح پر حقوق کے حصول کی علمبردار ہے۔ امن و سلامتی، محبت و آشتی، خلوص و وفا، صبر و تحمل اور عفو و درگزر اس نظریے کی اساس ہیں۔ اپنے مخالفین کے لیے بھی نرم خوئی، تحریم، تعظیم اور تکریم اس سوچ کی روح ہیں۔ مرحوم عرفان صدیقی کا فلسفہ حیات ہمیں جہدِ مسلسل، عزمِ صمیم، دیانت داری، خودداری اور عجز و انکساری کا درس دیتا ہے۔ ان کی تحریریں، تقریریں اور عملی زندگی پاکستانی قوم کے ہر فرد کے لیے مشعلِ راہ اور روشن مثالیں ہیں۔
مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے کیریئر کا آغاز "سرسید کالج راولپنڈی" میں تدریس سے کیا اور بعد ازاں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ سرسید کالج میں تدریسی خدمات کے دوران ہی انہوں نے ادب، شاعری اور ڈرامہ نگاری پر کام شروع کر دیا۔ کالج کی ادبی سرگرمیوں اور میگزین کی تدوین و اشاعت کے ساتھ ساتھ وہ طلبہ کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ ان کے شاگردوں میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر حیات، سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد، جسٹس اطہر من اللہ اور سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق اور ڈاکٹر انوار الحق شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فوج، سول بیوروکریسی، عدلیہ اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں کے سینکڑوں اعلیٰ افسران ان کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ مگر آپ کی عظمت و خودداری اور استغناء کو سلام کہ آپ نے زندگی بھر اپنے طلبا سے کوئی ذاتی کام نہ لیا بلکہ ایک شفیق استاد ہونے کے ناتے سب کی بے لوث رہنمائی، حوصلہ افزائی اور سرپرستی جاری رکھی۔
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی بنیادی طور پر ایک معلم تھے اور انہوں نے قوم کی تعلیم و تربیت کا جو سلسلہ سرسید کالج سے شروع کیا وہ تمام عمر جاری رہا۔ سرسید کالج سے ریڈیو پاکستان، صحافت، سیاست، ایوان صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ اور سینیٹ آف پاکستان تک جہاں بھی گئے قوم کی کردار سازی، اخلاقی اقدار کی پاسداری، حب الوطنی اور اسلام سے محبت ان کی تعلیمات کا بنیادی محور رہا۔ سرسید کالج میں کلاس روم اور طلبہ ان کی تربیت کا اصل میدان ہوتے، جہاں وہ پوری محنت، لگن، دیانت اور مہارت کے ساتھ نوجوانوں کی کردار سازی کرتے۔ مٹی کے ان بے شعور پتلوں کو دینِ اسلام، قائداعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کی حقیقی تعبیر کے مطابق ڈھالتے۔ آپ کے اندر عشق رسولؐ اور جذبہ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور یہ رنگِ عشق و مستی آپ اپنے طالب علموں کے روح و قلب میں بھی منتقل کرتے تھے۔
نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
ہر سال 19 دسمبر کو ساری فیملی ان کی رہائشگاہ پر ان کی سالگرہ کی تقریب مناتی، ان کے ساتھ تحائف اور خوشیاں بانٹتی اور ڈنر کرتی تھی۔ 2024ء میں اپنی اکیاسویں سالگرہ کے موقع پر وہ بہت خوش اور پرجوش تھے۔ 15 دسمبر کو دفتری امور کے سلسلے میں مجھے ایک ہفتے کے لیے کراچی جانا تھا۔ جب انہیں علم ہوا تو کہنے لگے اس دفعہ سالگرہ کی تقریب "اسپیشل" ہے اور آپ کی شرکت ضروری ہے ورنہ آپ اسے "زندگی بھر مس کریں گے"۔ حسب وعدہ میں نے ان کی سالگرہ کی تقریب میں اپنی شرکت یقینی بنائی اور انہوں نے اس پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔ اس بار 19 دسمبر 2025ء کا دن خاندان کے لیے بہت ہی دکھی اور غمناک ہے۔ آج پھر ساری فیملی ان کی رہائشگاہ پر اکٹھی ہے لیکن اس بار ان کی سالگرہ کی تقریب نہیں بلکہ ان کے لیے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کے لیے جمع ہے۔ دسمبر 2024ء میں مجھے کہے گئے ان کے یہ الفاظ "آپ اس سالگرہ کو زندگی بھر مس کریں گے"، آج میرے کانوں میں بہت درد اور کرب سے گونج رہے ہیں۔ انکل جی! یقیناً آج ہم سب اپ کو اور آپ کی آخری سالگرہ کی تقریب کو اپنی آنکھوں میں آنسو، دل میں ارمان اور آپ کے لیے ڈھیروں دعائیں لیے بہت شدت سے مس کر رہے ہیں۔ آج آپ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن آپ کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔ آپ کی عقیدت ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ آپ کی حسین مسکراہٹ ہمیشہ ہماری آنکھوں میں چمکتی رہے گی۔ آپ کی شفیق آواز ہمیشہ ہمارے کانوں میں گونجتی رہے گی۔ آپ ہمیشہ ہماری دعاؤں میں شامل رہیں گے۔ آپ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر سال 19 دسمبر آپ کی سالگرہ کو ہم "یومِ عرفانِ علم و دانش" کے طور پر مناتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی وسیع رحمتوں کے سائے میں اپنے مقرب بندوں کے ساتھ جگہ عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
یومِ عرفانِ علم و دانش ... !!!
09:11 AM, 21 Dec, 2025