بنیادی طور پر ہم ایک ایسا معاشرہ ہیں جہاں بچپن سے ہی درد کو برداشت کرنا سکھایا جاتا ہے مگر اس پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ تکلیف کو دانتوں تلے دبا کر مسکرا دینا وقار کی علامت ہے اور اپنے دکھ کو زبان دے دینا کمزوری اور سماج کمزور لوگوں کے لیے نہیں بنا۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم سب مضبوط نظر آنے کی ایک طویل تربیت سے گزرتے ہیں۔ ہمیں شروع سے یہی بتایا جاتا ہے کہ "رونا نہیں"، "سب ٹھیک ہو جائے گا"، "لوگ کیا کہیں گے؟"وغیرہ وغیرہ۔یہ جملے بظاہر تسلی دینے اور حوصلہ بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں مگر حقیقت میں یہ درد، ناانصافی اور ظلم کو خاموشی سے سہنے کی مشق ہوتے ہیں۔ ہم سیکھ جاتے ہیں کہ سوال نہیں کرنا، شکایت نہیں کرنی اور اگر اندر کچھ ٹوٹ بھی رہا ہو تو باہر سے مضبوط دکھائی دینا ہے۔ جس کے بعد موت تک ہم ایک لگی بندھی زندگی گزارتے ہیں ،ہم تھک جاتے ہیں، ہم بوجھل ہو جاتے ہیں مگر مسکراتے رہتے ہیں،ہم اندر سے ٹوٹتے ہیں مگر باہر سے ثابت قدمی سے کھڑے رہتے ہیں۔ یقین کیجئے کہ مضبوط نظر آنا کمزور نظر آنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
یہی رویہ آہستہ آہستہ ہماری نفسیات کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہم اپنے ہی دکھ کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے شاید ہم ہی کمزور ہیں، شاید باقی سب تو سب کچھ سنبھال رہے ہیں، صرف ہم ہی ہیں جو بکھر رہے ہیں اور یوں ہم مدد مانگنے کی بجائے خود کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں۔نفسیاتی مدد ہمارے ہاں اب بھی عیاشی یا کمزوری سمجھی جاتی ہے۔ اگر کوئی کہہ دے کہ وہ ڈپریشن میں ہے تو فوراً اس کے کردار، ایمان یا شکرگزاری پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ جیسے اداسی یا ذہنی تھکن کوئی اخلاقی جرم ہو۔ جیسے ذہنی بیماری کا مطلب یہ ہو کہ انسان نے خدا پر بھروسا چھوڑ دیا ہے یا زندگی کی نعمتوں کی قدر نہیں کی۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ شکرگزاری اور ذہنی صحت دو الگ چیزیں ہیں اور ایک کا ہونا دوسرے کی نفی نہیں کرتا۔مردوں کو کہا جاتا ہے کہ "مرد بنو، مرد روتے نہیں" ،"مردوں کو درد نہیں ہوتا"۔ عورتوں کو کہا جاتا ہے "صبر کرو، اچھی عورتیں صبر کرتی ہیں"۔ بچوں کو کہہ دیا جاتا ہے کہ "یہ سب بہانے بازی ہے,تمہیں کیا ہوا ہے؟"اور یوں ہر عمر، ہر جنس اور ہر رشتے کے لوگ خاموش رہنا سیکھ لیتے ہیں یا انہیں خاموش رہنا سیکھا دیا جاتا ہے۔
یہ خاموشی وقتی نہیں ہوتی بلکہ یہ سالوں جمع ہوتی رہتی ہے۔ یہ دل میں گانٹھ بن جاتی ہے، ذہن میں بوجھ، اور جسم میں تھکن اوڑھ کر بیٹھ جاتی ہے۔ ہم مدد اس لیے نہیں مانگتے کیونکہ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ ہمیں کمزور سمجھ لیا جائے گا۔ ہمیں خوف ہوتا ہے کہ لوگ ہمیں نااہل، ناشکرے یا ناکام قرار دے دیں گے۔ ہمیں یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ ہماری بات مذاق بن جائے گی، ہماری حالت افواہ اور ہماری تکلیف تماشہ۔ اسی خوف میں ہم خود کو سنبھالے رکھتے ہیں، اتنا سنبھالے رکھتے ہیں کہ ایک دن سنبھلنا ہی بھول جاتے ہیں۔یہ معاشرہ ہمیں دکھ جھیلنا تو سکھاتا ہے، مگر سہارا لینا نہیں۔ ہمیں قربانی اور برداشت کی مثالیں تو دی جاتی ہیں مگر مسائل کے حل کے راستے نہیں بتائے جاتے۔ "سب ٹھیک ہو جائے گا" کہنا بہت آسان ہے مگر کب اور کیسے ٹھیک ہو گا، اس پر بات کرنا مشکل اور غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے خود کو تسلیوں کے جملوں سے بہلانا سیکھ لیا ہے، اصل مسئلے کا سامنا کرنا نہیں۔
میں نے کہا میں ٹھیک نہیں ہوں، انہوں نے کہا شکر کرو اور آگے بڑھو، میں آگے بڑھ گئی،مگر خود کو وہیں چھوڑ آئی۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان واقعی تنہا ہو جاتا ہے۔ لوگوں کے بیچ رہتے ہوئے بھی اکیلا۔ اس کے پاس ہجوم تو ہوتا ہے، مگر سمجھ نہیں کہ کس سے کیسے کہے کہ وہ مشکل میں ہے۔ مشورے دینے والے تو بہت ہوتے ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں۔ ایسے میں انسان آہستہ آہستہ خود سے بھی بات کرنا چھوڑ دیتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اگر باہر کوئی نہیں سمجھ سکا تو شاید اندر بھی کوئی نہیں سمجھے گا۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ مدد مانگنا کمزوری نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے۔ جو انسان اپنی تھکن پہچان لیتا ہے وہی اسے دور بھی کر سکتا ہے۔ جو اپنے زخم مان لیتا ہے وہی بھرنے کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ انکار شفا نہیں دیتا، اعتراف دیتا ہے۔ خاموشی مسئلہ حل نہیں کرتی اسے مزید گہرا کر دیتی ہے۔نفسیاتی مدد کوئی فیشن نہیں، یہ ضرورت ہے۔ جیسے جسم بیمار ہو تو ڈاکٹر کے پاس جانا شرم کی بات نہیں، ویسے ہی ذہن اور قلب کے زخموں کا علاج بھی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے۔ ہم جسم کے درد کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، مگر ذہنی درد کو نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اصل مسئلہ بیماری نہیں، اصل مسئلہ اس پر خاموشی ہے۔
ہم مدد کیوں نہیں مانگتے؟
09:09 AM, 21 Dec, 2025