اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ اور واٹس ایپ ہیکنگ کے واقعات کے پیش نظر اپنے صارفین کو احتیاط برتنے کی تجویز دی ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم کے ماہر افراد سوشل انجینئرنگ کے ذریعے صارفین کو فریب دے کر ان کی ذاتی معلومات اکٹھی کرتے ہیں، جنہیں بعد میں مالی دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق، صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی شخص کے ساتھ اپنی ذاتی معلومات، موبائل پر آنے والا او ٹی پی کوڈ یا دیگر حساس ڈیٹا کبھی بھی شیئر نہ کریں۔ فراڈ کرنے والے مختلف چالاک طریقوں سے لوگوں کا اعتماد جیت کر ان سے معلومات حاصل کرتے ہیں، اور پھر ان معلومات کا استعمال بینک اکاؤنٹس یا ڈیجیٹل والٹس تک رسائی کے لیے کیا جاتا ہے۔
پی ٹی اے نے وضاحت کی کہ بعض حالات میں واٹس ایپ ہیکنگ کے لیے فراڈ کرنے والے خود کو کوریئر سروس کے نمائندے کے طور پر ظاہر کر کے او ٹی پی کوڈ حاصل کرتے ہیں، اور کچھ صورتوں میں جعلی پولیس کالز کے ذریعے صارفین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے کسی رشتہ دار کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
مزید براں، پی ٹی اے نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ مالی دھوکہ دہی سے بچنے کے لیے کسی بھی تصدیق کے بغیر پیسہ منتقل نہ کریں، مشکوک کالز یا پیغامات فوراً متعلقہ حکام کو رپورٹ کریں اور اپنے اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنائیں۔