یہ تو وہی جگہ ہے

09:14 AM, 22 Aug, 2026


انگریز دور میں کہتے تھے کہ ” جگے ماریا لائل پور ڈاکا تے ٹلیاں کھڑک گئیاں “ ۔ وہ ٹلیاں تو انگریز سرکار کے لئے کھڑکتی تھیں لیکن انگریز چلے گئے اور آزادی کے بعد اکثر ٹلیاں سیاست دانوں کے لئے کھڑکتی ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کی ” ٹلی “ تو کسی اور کے لئے کھڑکی ہے لیکن ہمارے نواز لیگ کے دوست بلا وجہ ہی پریشان ہو رہے ہیں یا یہ کہہ لیں کہ شاید پریشان ہونے کی اداکاری کر رہے ہیں اس لئے کہ پاکستانی سیاست کی کیمسٹری سے جو واقف ہے انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقلی کرنے کی جو ” ٹلی “ کھڑکی ہے اگر وہ مسلم لیگ نواز کے لئے ہوتی تو کشمیر میںالیکشن کے نتائج مختلف بھی ہو سکتے تھے لیکن اس ” ٹلی“ جو کچھ لوگوں کے لئے ایک بہت بڑے ” ٹل “ کی حیثیت رکھتی ہے اس پر بعد میں بات کریں گے پہلے نواز لیگ کے ادھار چکانے کی انتہائی شاندار صلاحیت کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی ۔ آپ کو یاد ہے کہ جب2022میںتحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو اس وقت کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اس تحریک کو غیر ملکی (امریکن ) سازش کہہ کر مسترد کر دیا تھا لیکن بعد میں سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کے اس اقدام کو آئین کے منافی قرار دے کر اس تحریک پر ووٹنگ کا حکم دیا گیا اور اس کے لئے ایک 9اپریل کی ڈیڈ لائن بھی دی تھی اور پھر جب قیدیوں کی گاڑی قومی اسمبلی کے باہر آ گئی تو اس کے بعد 9اور10اپریل کی درمیانی رات کو سپریم کورٹ کی دی ہوئی ڈیڈ لائن کے آخری لمحات میں عمل ہوا تھا ۔ اب بھی اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم سپریم کورٹ سے ہی آیا اور سپریم کورٹ نے جو ڈیڈ لائن دی تھی حکومت نے بھی تحریک انصاف کی حکومت کا ادھار چکاتے ہوئے خان صاحب کو سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن سے کچھ دیر پہلے پمز ہسپتال منتقل کیا لیکن ٹھیک پانچ گھنٹے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا ۔ 
خیر بات ہو رہی تھی ٹلیاں کھڑکنے کی تو یہاں ایک بات تو کہنی بنتی ے کہ ” نئی خبر آئی ہے “ ۔ اب کون کون بھائی ہے اس کا اندازہ قارئین خود لگا لیں ۔ ہر بات ضروری تو نہیں کہ بیچارے کالم نویس ہی کہیں ۔ اب بات کرتے ہیں کہ یہ ٹلیاں کس کے لئے کھڑکی ہیں تو کم از کم مسلم لیگ نواز کے لئے تو بالکل بھی نہیں کھڑکیں ۔ اس لئے کہ ملک میں جو بحث چل رہی ہے وہ نئے صوبوں کے قیام اور این ایف سی ایوارڈ کے متعلق ہو رہی ہے تو اس میں مسلم لیگ نواز تو اس نظام کے ایک بڑے سیاسی کھلاڑی کے طور پر ہر جگہ موجود ہے لیکن کسی ایک نقطہ پر بھی کم از کم ابھی تک اس کی مخالفت نظر نہیں آئی تو پھر ٹلیاں کھڑکیں یا ٹل کھڑکیں اس سے مسلم لیگ نواز کی صحت پر کیا اثر پڑے گا ۔ اس وقت نئے صوبوں کے قیام کے لئے جو آئینی ضروریات ہیں انھیں موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے ہی پورا کیا جانے کی حکمت عملی کی شروعات ہو چکی ہیں ۔ کسی بھی آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ آئین کی کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ مطلوبہ دو تہائی اکثریت کسی خاص سیاسی جماعت کے ارکان کی ہو گی تو آئین میں ترمیم ہو سکے گی بلکہ آئین میں ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت کا ذکر ہے اب وہ چاہے کسی بھی جماعت یا جماعتوں کے ارکان کی اکثریت ہو اس سے آئینی ترمیم ہو جائے گی ۔ نئے صوبوں کے قیام اور این ایف سی ایوارڈ دونوں مسائل پر مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے مقابلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پوزیشن کافی مختلف ہے اور وہ بوجہ ان دونوں کے حق میں ووٹ نہیں دے سکتی اور اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اس وقت اندرون سندھ جو اس کی سیاست کا مرکز ہے اس سے ہاتھ دھو بیٹھے گی ۔اس لئے یہ ٹلیاں جو اب کھڑکنا شروع ہو گئی ہیں ہماری رائے میں یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے ہیں کہ راضی خوشی ووٹ دے دو ورنہ دو تہائی اکثریت کے حصول کے لئے حکومت کے پاس تحریک انصاف کی شکل میں دوسرا آپشن موجود ہے ۔
 کچھ دو اور کچھ لو کے تحت ہی معاملات طے ہوں گے لیکن ” اب جیل کے تالے ٹوٹیں گے قائد ہمارے چھوٹیں گے “ والا فی الحال کوئی معاملہ نظر نہیں آتا بلکہ بانی سے جیل میں ملاقاتیں جو کافی عرصہ سے بند تھیں انھیں دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے اور سب سے پہلے بانی کی وہ بہن کہ جس پر چند روز پہلے ایک بیان دینے پر بڑی لے دے ہو رہی تھی انہی سے ملاقات کے بعد یہ تاثر بھی عوام میں گیا ہے کہ ” ستے خیراں نیں “ ۔ اب ایک تو ملاقاتیں بحال ہو گئیں اور دوسرا تین سال بعد اس شدید گرمی اور حبس کے عالم میں ایک پرائیویٹ ہسپتال کے ٹھنڈے ٹھار کمرے میں منتقلی کسی نعمت سے کم نہیں اور کون کافر ہے جو اس نعمت سے انکار کرے گا اور نئے صوبوں کا قیام اور این ایف سی ایوارڈ جیسے مسائل تحریک انصاف کے کسی ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں اور نہ ہی ان کے لئے یہ کسی قسم کے کو ئی حساس ایشوز ہیںتو انھیں اس پر ووٹ دینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ۔ رہی پاکستان پیپلز پارٹی کی بات تو اس کے پاس یہ بہترین موقع ہو گا کہ وہ آنے والے انتخابات میں اگر کچھ بہتر نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے تو اپنے آپ کو حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار کر لے ۔ 

مزیدخبریں