مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ !

09:12 AM, 22 Aug, 2026

پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو طے پانے والے”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ“ کے نام سے منسوب سہ فریقی معاہدے کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا جارہا ہے۔ اس معاہدے کی اس سے بڑھ کر اور کیا پذیرائی ہو سکتی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنی آئے روز کی لایعنی باتوں (بھڑ بونگیوں) کے لئے معروف ہیں نے بھی اس معاہدے کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کی لیڈر شپ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بہت خوشی ہے کہ سعودی، ترکی اور پاکستان نے مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر دستخط کیے ہیں۔ یہ بڑا ، جرا¿ت مندانہ اور اہم اقدام ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کس طرح قریب آ رہے ہیں اور کس طرح وہ اپنا دفاع زیادہ بہتر طریقے سے کرنے کے قابل ہونگے۔(ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کے ممالک کا نام لینا محل نظر ہے کہ پاکستان اور ترکی بہر کیف مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں شمار نہیں ہوتے ہیں) صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کی یہ توصیف یقینا اہم ہے تاہم اس معاہدے کو کئی اور حوالوں سے بھی اہم گردانا جا سکتا ہے ۔ بلا شبہ یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے اور اس کی حیثیت اور قدرمنزلت اس لحاظ سے یادگار سمجھی جا سکتی ہے کہ اس پر مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ میں اللہ کریم کی ارفع ، اعلیٰ اور مقدس ترین عبادت گاہ خانہ کعبہ اور مسجد الحرام سے بالکل جُڑے محل (قصرِ صفا) میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے ہیں۔ یہ جمعہ کے مقد س دن کی بابرکت ساعتیں تھیں جب ان تینوں رہنماﺅں نے اس معاہدے پر دستخط کیے اور پھر امامِ کعبہ کی امامت میں لاکھوں فرزندانِ توحید کی معیت میں جمعتہ المبارک کی نماز بھی ادا کی۔ 
”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ“ کا طے پانا ہر لحاظ سے خوشی ، مسرت ، اطمینان اور فخر و انبساط کا مقام ہے کہ دُنیا کے نقشے پر موجود کم و بیش 200 ممالک اور تقریباً55 ممالک پر مشتمل اسلامی دُنیا میں اہم ترین حیثیت کے مالک تین ممالک پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ اس معاہدے کے فریق ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ستمبر 2025 ءمیں طے پانے والے دو طرفہ سٹریٹیجک دفاعی معاہدے کے بعد اس سہ فریقی معاہدے کا طے پانا اس لیے بھی اہم سمجھا جاسکتا ہے کہ اس سے پچھلی صدی کے دوسرے عشرے میں پہلی جنگ ِ عظیم کے دوران ترکوں اور عربوں کے درمیان پید اہونے والے باہمی اختلافات اور دوری کے بعد جو ایک لحاظ سے عربوں (سعودی عرب) اور ترکوں (ترکیہ) کی ایک طرح کی روایتی مخالفت یا کچھ کچھ رنجش کا پہلو لیے ہوئے تھے ان کا جہاں خاتمہ ہوا ہے وہاں سعودی عرب اور ترکیہ کے ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہونے کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔ 
7 اگست 2026 ءکو سعودی عرب ، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ“ کے مقاصد کا جہاں تک تعلق ہے ، اس کا سب سے بڑا مقصد تینوں ممالک کے خلاف کسی طرح کی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی روک تھام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک پر بھی حملے کو تینوں کے خلاف حملے کے طور پر لیا جائے گا۔ یہ خالص دفاعی معاہدہ ہے جو کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ اس کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ اس سے جہاں تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی وہاں یہ معاہدہ خطے اور اس کے باہر کے ممالک میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام میں بھی مدد گار ثابت ہوگا۔ اسرائیل اس معاہدے کو اپنے لیے خطرے کا باعث سمجھتا ہے تو یقینا اُسے ایسا ہی سمجھنا چاہیے کہ اُس کے جارحانہ عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ وہ گریٹر اسرائیل کے خواب کب سے دیکھ رہا ہے جس میں سعودی عرب کے شمالی علاقوں جن میں تبوک، خیبر اور مدینہ منورہ تک کے علاقے شامل ہیں کو اپنے گریٹر اسرائیل کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ اسی طرح ترکی کے ساتھ بھی پچھلے ایک دو سال سے اُس کے تعلقات میں کافی خرابی آ چکی ہے اور وہ ترکی پر حملے کی دھمکیاں بھی دیتا رہتا ہے۔ پاکستان جغرافیائی طور پر اس سے دوری پر واقع ہونے کی وجہ سے براہ راست اس کے کسی حملے سے محفوظ ہے لیکن بھارت کے ساتھ مل کر وہ ماضی میں پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ پچھلے سال مئی میں بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تو اُس نے اسرائیلی ساختہ ڈرونز استعمال کیے۔ پچھلی صدی کے اسی اور نوے کے عشروں میں جب پاکستان کا ایٹمی پروگرام تکمیل کی منازل طے کر رہا تھا اور پھر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تو میڈیا میں اس طرح کی خبریں اور اطلاعات سامنے آئیں کہ اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلقہ تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ تاہم پاکستان کی طرف سے بروقت سخت اور فیصلہ کن ردِ عمل سامنے آنے کی بنا پر اسرائیل اور بھارت کو اس کی جرات نہ ہوئی ۔ اس کے باوجود یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ بھارت کے ساتھ اسرائیل کا گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور وہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے اپنے دیرینہ عزائم کو بروئے کار لانے کی راہ پر کسی وقت بھی گامزن ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے سے یقینا اُسے ہوش کے ناخن لینے میں مدد ملے گی اور وہ پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں میں سے کسی ایک کو نشانہ بنانے کی حماقت کے بارے میں سوچے گا بھی نہیں، اگر خدانخواستہ وہ ایسا کرتا ہے تو اُسے تینوں ممالک کی طرف سے ایسے سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا تصور بھی محال ہے۔
جہاں تک ایران کا تعلق ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب اور ایران میں زیادہ اور اچھے اور دوستانہ تعلقات قائم نہیں ہیں۔ پچھلی صدی کے ستر کے عشرے کے آخری برسوں میں ایران میں امام خمینی کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ان تعلقات میں زیادہ بگاڑ پید اہوا اس لیے کہ ایران نے بالواسطہ یا بلا واسطہ کم و بیش تمام ہی اسلامی ممالک میں اپنے اسلامی انقلاب کو بر آمد کرنے کی راہ اپنا لی اور اس کے لئے کئی طرح کی پراکسیز کو استعمال کرتے ہوئے اُس نے بطورِ خاص سعودی عرب اور دوسرے اسلامی ممالک کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس طرح ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں خرابی ہی نہ پیدا ہوئی بلکہ وہ پچھلے کئی عشروں سے اُتار چڑھاﺅ کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ اس سال فروری میں ایران پر امریکی حملے کے بعد ان تعلقات میں مزید خرابی پیدا ہوئی اور ایران کئی بار سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں کی آڑ میں تیل کی تنصیبات اور کئی دوسرے مقامات کو اپنے ڈورنز اور میزائلوں کا نشانہ بناچکا ہے۔پاکستان چونکہ سعودی عرب کے ساتھ ستمبر 2025 ءسے سٹریٹیجک دفاعی معاہدے میں منسلک ہے جس کے تحت سعودی عرب یا پاکستان میں سے کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ سمجھا جانے کی شق موجود ہے جو پاکستان نے ایران کو ہمیشہ یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ سعودی عرب کو اپنے ڈرونز اور میزائل حملوں سے نشانہ بنانے سے گریز کرے ورنہ پاکستان کو بھی اس کے مقابلے میں آنا پڑ سکتا ہے ۔ اس ضمن میں دو تین ماہ قبل پاکستان کی طرف سے ایران کو سخت تنبیہ بھی کی گئی ۔ خیر اب سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پانے کے بعد پاکستان کی طرف سے ایران کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ معاہدہ اُس کے خلاف نہیں ہے۔ تاہم ایران میں اس بارے میں شکوک و شبہات بہر کیف موجود ہیں۔ یہاںمیں اپنی ذاتی معلومات اور مشاہدے کی بنا پرایک اہم معاملے کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان اور سعودری عرب کے درمیان سٹریٹیجک معاہدہ پہلی دفعہ ستمبر 2025 ءمیں نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل 1982 ءمیں صدر جنرل محمد ضیا الحق کے دور سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹیجک دفاعی معاہدہ موجود چلا آ رہا ہے۔ اُس دور میں پاکستان کا ایک پورا بریگیڈ تبوک کی چھاﺅنی میں تعینا ت ہوا اور اُس کے ائیر ڈیفنس کے دستے ریاض میںمتعین ہوئے اور کئی برسوں تک وہاں متعین رہے ۔

مزیدخبریں