فہیم الرحمن سہگل: وعدوں سے نتائج تک

09:11 AM, 22 Aug, 2026

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جناب فہیم الرحمن سہگل کا بلامقابلہ انتخاب محض ایک تنظیمی فیصلہ نہیں بلکہ لاہور کی کاروباری برادری کے اعتماد، توقعات اور اجتماعی امید کا اظہار ہے۔ وہ اس سے قبل لاہور چیمبر میں نائب صدر سمیت مختلف اہم ذمہ داریاں ادا کر چکے تھے اور کاروباری معاملات، صنعت کے مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے عملی اثرات سے واقفیت رکھتے تھے۔ اُن کا خاندان بذات خود صنعت و تجارت میں استعارہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ فہیم الرحمن سہگل کی قیادت کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ابتدا ہی سے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان رابطے کو محض رسمی ملاقاتوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے معاشی پالیسی سازی کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔ صنعتی پیداوار میں اضافہ، برآمدات کا فروغ، کاروباری لاگت میں کمی، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ان کی ترجیحات میں نمایاں رہے ہیں۔ یہی وہ نکات ہیں جن پر کسی بھی صنعتی و تجارتی قیادت کی کامیابی کو پرکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کی معیشت کو آج سب سے زیادہ ضرورت معاشی ماحول کی ہے جہاں صنعت کار کو پالیسی کا تسلسل، تاجر کو کاروباری سہولت اور سرمایہ کار کو قانون کی ضمانت میسر ہو۔ توانائی کی قیمتیں، ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام، کسٹمز کلیئرنس، ریگولیٹری رکاوٹیں اور بیوروکریسی کے صوابدیدی اختیارات کاروباری سرگرمیوں کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے میں چیمبر آف کامرس کا کردار پالیسی اصلاحات کے لیے ایک منظم، مدلل اور مسلسل آواز بننا چاہیے۔
فہیم الرحمن سہگل کی صدارت میں لاہور چیمبر نے اسی سمت میں بعض اہم پیش رفت کی ہے۔ مئی 2026 میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے لیے کاروباری طبقے کی جامع تجاویز پیش کی گئیں، جو منظور ہوئیں۔چھوٹے اور درمیانے کاروبار پاکستان کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہیں، مگر یہی شعبہ مالی وسائل، بینکاری سہولت اور پیچیدہ ضابطوں کی مشکلات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ جنوری 2026 میں لاہور چیمبر کے ایس ایم ای فنانس اینڈ بینکنگ ایکسپو میں اسٹیٹ بینک اور سمیڈا کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی مالی رسائی پر توجہ اس امر کی علامت ہے کہ کاروباری قیادت نے اس بنیادی مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا۔ اگر چھوٹے کاروبار کو آسان قرض، مناسب شرحِ سود، سادہ ٹیکس نظام اور کم سے کم کاغذی کارروائی میسر آجائے تو ہزاروں نئے کاروبار جنم لے سکتے ہیں اور لاکھوں روزگار پیدا ہو سکتے ہیں۔ آج کی دنیا میں وہی معیشت آگے بڑھتی ہے جو عالمی تجارت، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، ہنرمند افرادی قوت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ساتھ جڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ چین کے ساتھ اقتصادی و تجارتی روابط، سی پیک کے دوسرے مرحلے اور صنعت، جامعات اور تحقیق کے باہمی تعلق پر لاہور چیمبر کی سرگرمیاں اسی وسیع تر وژن کا حصہ ہیں۔ اپریل 2026 کے سی پیک سیمینار میں فہیم الرحمن سہگل کی جانب سے صنعتی اپ گریڈیشن اور ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت پر زور دینا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اصل ترقی وہ ہے جو صنعت کو جدید بنائے اور نوجوانوں کو قابلِ روزگار ہنر فراہم کرے۔
خوش اخلاق و خوش گفتار صدر سہگل کے دور میں لاہور صرف پاکستان کا ایک تجارتی شہر نہیں بلکہ خطے میں صنعتی اور کاروباری روابط کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ لاہور شاپنگ فیسٹیول جیسے اقدامات ہی دیکھ لیں، جو مقامی تجارت اور پاکستانی برانڈز کے فروغ کا سبب بنے۔ 150 سے زائد سٹالز اور چین، ترکیہ اور سری لنکا سمیت غیر ملکی نمائندوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ تجارت صرف مقامی خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان لین دین کا نام نہیں؛ یہ ثقافت، سفارت کاری، برانڈنگ اور عالمی منڈی تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔ سہگل صاحب کی قیادت میں سرگرمیوں، سیمینارز، ملاقاتوں اور تجاویز کو حقیقی معاشی نتائج میں تبدیل کیا جا رہا ہے، یہی وہ نقطہ ہے جہاں فہیم الرحمن سہگل کی قیادت کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ ان کے مطابق ہر بڑے مطالبے کے ساتھ ایک مدت، متعلقہ سرکاری ادارہ اور مطلوبہ نتیجہ متعین ہونا چاہیے۔ مثلاً کسٹمز کلیئرنس کا وقت کتنا کم ہوا؟ کتنے صنعتی یونٹ دوبارہ فعال ہوئے؟ کتنی نئی سرمایہ کاری آئی؟ کتنے نئے روزگار پیدا ہوئے؟ برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا؟ کاروباری لاگت میں کتنی کمی واقع ہوئی؟ اب ان سوالات کے جواب سالانہ بنیادوں پر اعداد و شمار کے ساتھ سامنے آنے لگے گویا چیمبر کی آواز محض نمائندگی نہیں بلکہ معاشی اصلاحات کے لیے ایک مو¿ثر عوامی دباو¿ بن گئی۔
اسی سلسلے میں ایک نہایت اہم مسئلہ دوہرے سیس ٹیکس کا ہے۔ ایک ہی مال کی کراچی میں کسٹمز کلیئرنس کے وقت سندھ حکومت کی جانب سے سیس کی وصولی کے بعد اگر لاہور پہنچنے پر پنجاب حکومت بھی اسی نوعیت کا مالی بوجھ عائد کرے تو اس کے معاشی اور پالیسی اثرات پر سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔ پاکستان کو اس وقت کاروبار کی لاگت کم کرنے، صنعت کو مسابقتی بنانے اور صارف کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے، نہ کہ ہر صوبائی سرحد پر نیا مالی بوجھ کھڑا کرنے کی۔ اس معاملے میں سابق چیف کلکٹر پنجاب جناب محمد صادق کی جانب سے متعلقہ حکام کو خط لکھا جانا بھی قابلِ ذکر ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک تاجر کا مسئلہ نہیں؛ یہ قومی سپلائی چین، قیمتوں، مسابقت اور سرمایہ کاری کے ماحول سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ایک ہی شے پر مختلف سطحوں پر عائد ہونے والے غیر ضروری مالی بوجھ بالآخر صنعت کار، تاجر اور صارف تینوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ٹیکس وصول کیجیے، مگر ایسا کہ تاجر کا چہرہ شکن آلود نہ ہو؛ قانون نافذ کیجیے، مگر ایسا کہ ایماندار کاروباری شخص خود کو مجرم محسوس نہ کرے۔ جہاں واقعی کالی بھیڑیں موجود ہیں، وہاں پورے ریوڑ کو سزا دینے کے بجائے کالی بھیڑ کو پکڑیے۔ بیوروکریسی کے صوابدیدی اختیارات میں کمی، ون ونڈو نظام، تیز رفتار کسٹمز کلیئرنس، شفاف ٹیکس پالیسی، مسابقتی توانائی، آسان ایس ایم ای فنانسنگ اور برآمد کنندگان کے لیے حقیقی سہولتیں وہ اصلاحات ہیں جو فائلوں سے نکل کر کارخانوں کی چمنیوں اور بازاروں کی رونق میں نظر آنی چاہئیں۔
صدر سہگل کی قیادت میں لاہور چیمبر اگر حکومت کے ساتھ تصادم کے بجائے دلیل، تحقیق اور اعداد و شمار کے ساتھ اصلاحات کا مقدمہ پیش کرتا ہے، وہ صرف تاجروں کا نمائندہ ادارہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی پالیسی پر اثرانداز ہونے والا ایک مضبوط فکری و عملی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔صدر سہگل کی قیادت کی سب سے بڑی پہچان عہدہ نہیں، نتائج ہیں۔

مزیدخبریں