بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ، ترقی کا عمل مشاورت سے آگے بڑھائیں گے: وزیراعظم

05:41 PM, 21 Aug, 2026

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال اور پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے، بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے، جبکہ صوبے کے مسائل کا حل باہمی مشاورت، مکالمے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ممکن ہے۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بلوچستان ورکشاپ کے تمام شرکا کو خوش آمدید کہتی ہے۔ بلوچستان بلوچ اور پشتون اقوام پر مشتمل خطہ ہے اور بلوچ قوم کی تاریخ بہادری، مہمان نوازی، رواداری اور عظیم روایات سے عبارت ہے۔ عزت و وقار کا معاملہ ہو تو تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ قوم نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ مکالمے کا مقصد بلوچستان کے عوام اور شرکا کی بات سننا ہے۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور بلوچ عمائدین و عوام نے اپنی مرضی اور دل کی آواز پر پاکستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس لیے یہاں مسائل بھی زیادہ ہیں۔ صوبہ معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، تاہم ان وسائل سے سب سے پہلے بلوچستان کے عوام کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام اکائیاں ترقی کے عمل میں برابر کی شریک ہیں اور وفاق صوبوں کے ساتھ مل کر ترقی کا سفر جاری رکھے گا۔

دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے دشمن ممالک کا ہاتھ ہے اور فتنہ الخوارج بیرونی عناصر سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل حاصل کرنے کی آڑ میں بندوق اٹھانے والا محب وطن نہیں ہو سکتا۔

شہباز شریف نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تحفظ کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کا سفر جاری رکھا جائے گا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر کراچی سے چمن تک این-25 شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ خطے کی اہم ترین بندرگاہوں میں شامل ہے، جہاں ایک لاکھ ٹن تک کا مال بردار جہاز لنگر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ گوادر ایئرپورٹ پاکستان کے عظیم دوست چین کی جانب سے تحفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطالبے پر 22 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا۔ اس 70 ارب روپے کے منصوبے میں وفاق نے 40 ارب روپے فراہم کیے۔ وزیراعظم کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے موقع پر بلوچستان کے لیے وفاقی فنڈنگ میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ پنجاب نے بھی بلوچستان کو 11 ارب روپے فراہم کیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے کے وسائل سے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ حلقوں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گی۔

مزیدخبریں