غزہ پر قبضہ،امت مسلمہ کہاں ہے…؟

09:17 AM, 21 Aug, 2025

قرآن میں ہے کہ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں جیسے کہ اب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ،اس کی افغانستان کے بارے میں پالیسی اور ہے پاکستان کے بارے میں اور ہے ،ایران اور روس کے بارے میں روش دوغلی ہے اور بھارت اور اسرائیل کے بارے میں پالیسی مختلف ہے کیونکہ اس کے اپنے مفادات ہیں منافقانہ سوچ کا مالک امریکہ گھاٹے کا سودا نہیں کرتا جہاں اسے اپنا مفاد نظر نہ آئے وہاں اس کی پالیسی کچھ اورہی ہوتی ہے اور جہاںفائدہ ہو وہاں دوڑا چلا آتا ہے جیسے کہ سعودیہ اور قطر وغیرہ ،وہاں ٹرمپ نے کھربوں ڈالر کے معاہدے کیے اسلحہ کے ذخیرے بھر دئیے جوکل کلاں کو کسی مسلمان ملک کیخلاف ہی چلیں گے ایک وقت تھاکہ امریکہ اور بھارت اتنے قریب تھے کہ ہوا بھی بیچ میں سے نہ گزر سکتی تھی اب حال یہ ہے کہ دونوں میں مفادات کی جنگ ہو رہی ہے اسی تناظر میں پاکستان کی طرف واشنگٹن کا زیادہ جھکائو ہے امریکہ مودی کو دبائومیں لانے کیلئے ٹرمپ ٹیرف میں روز اضافہ کر رہا ہے جبکہ بلوم برگ کے مطابق پاکستان نے اپنے پتے بڑی ہوشیاری سے شو کیے ہیں جس پر امریکہ پاکستان کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے جبکہ یہ کوئی باجے بجانے والی بات نہیں اس لئے کہ امریکہ اور بھارت دونوں ہی اسلام دشمن ہیں پاکستان دشمن ہیں وقتی طور پر ایک دوسرے کیخلاف گنیں تانے کھڑے ہیں وقت آنے پر دونوں بغلگیر اور اسلام آباد کیخلاف ہونگے اسی طرح جیسے ماضی میں پاکستان کو افغان جنگ میں دھکیلا گیا اور جب مطلب نکل گیا تو ساتھ ہی امریکہ نے آنکھیں پھیر لیں امریکہ کی اسرائیل کے بارے میں پالیسی دنیا سے مختلف ہے ساری دنیا ایک طرف اور اسرائیلی مفاد ایک طرف ہیں جن کیلئے امریکہ کچھ بھی کرسکتا ہے جیسے وہ یوکرین اور روس کی جنگ بند کرانے کیلئے تو مرا جا رہا ہے لیکن غزہ کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسی ہے ہی نہیں جہاں جسم تو ہیں جان نہیں ڈھانچے کی شکل میں کسی کا دھڑ نہیں تو کسی کا سر نہیں کوئی ٹانگوں سے محروم ہے تو کوئی دونوں بازئوں سے، بچے بڑے اورخواتین زندگی کی آہ بکا کر رہے ہیں زندگی ناپید ہوتی جا رہی ہے کھانے کو کچھ ہے نہ پینے کو،ہسپتال بمباری سے بچے ہیں اور نہ سکول ،پناہ گاہیں بھی اسرائیلی درندگی سے محفوظ نہیں سوشل ورکرز اور صحافی بھی بارود کی نذر ہو رہے ہیں لیکن ٹرمپ کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا، اس لئے کہ اسے اسرائیل کا مفاد عزیز ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یوکرین اور روس کی جنگ بند کرانے کی بڑی فکر ہے لیکن جب غزہ کی بات ہو تو کہتے ہیں یہ اسرائیل کا ذاتی معاملہ ہے یہ بھول کر کہ غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے اور اسرائیل کسی قاعدہ قانون کو نہیں مانتا ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین کے لوگوں کی خوشحالی چاہتے ہیں لیکن غزہ میں انسا نیت سسک رہی ہے وہاں جنگ بندی کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا جا رہا حالانکہ ٹرمپ کی ایک ہی دھمکی پر نیتن یاہو ’’لما‘‘پے جائے گا؟ ٹرمپ یہودیوں کے زیر عتاب ہے وہ اسی لئے غزہ میں جنگ بندی نہیں کرانا چاہتا دنیا کی جنگیں بند کرانے کا کریڈٹ لینے والا ٹرمپ غزہ کیلئے کچھ نہیں کر رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ روس یوکرین جنگ رُکوانے کے مشن پر ہیں جبکہ دوسری طرف اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے غزہ سٹی پر قبضے کے منصوبے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، فیصلے کے بعد آئندہ ہفتے اسرائیلی وزیر دفاع سے بھی اس منصوبے کی توثیق کی توقع کی جارہی ہے، غیر ملکی میڈیا کے مطابق دو ہفتوں کے اندر فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کی کارروائی کی جائے گی جس کی ابتدا ایک بڑے فوجی آپریشن سے ہوگی، اس کے بعد مرحلہ وار اسرائیلی فوج شہر میں داخل ہوکر غزہ سٹی پر مکمل قبضہ کرے گی، اسرائیلی حکام اس منصوبے کو باضابطہ طور پر امریکی حکام کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی پشت پر ہے اسی بنا پروہ غزہ میں خون کی ہو لی کھیل رہا ہے اور غزہ میں اسرائیلی بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے، علاقے میں خوف اور بے چینی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ حماس نے غزہ کو خالی کرانے کے اسرائیل کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اس کو نسلی کشی اور فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی ایک نئی مہم قرار دے دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا غزہ سٹی کے شہریوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ لاکھوں شہریوں کی نسل کشی اور بے گھر کرنے کی ایک نئی مہم ہے ہم کسی صورت جھکیں گے نہیں ،اسرائیل کی جانب سے جنوبی غزہ میں خیمہ اور پناہ گاہیں بنانے کے دیگر طریقے کھلم کھلا دھوکا ہے، اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو شروع 
کی گئی جنگ میں اب تک غزہ میں لاکھوںفلسطینی شہید ہوگئے ہیں اور لاکھوں بے گھر اور زخمی ہیں جبکہ امدادی راستے روکنے کی وجہ سے غزہ میں غذائی قلت قحط کی شکل اختیار کر گئی ہے، اسرائیلی بارود تو غزہ والوں کو موت نہ دے سکا لیکن لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اسرائیل نے فیصلے پر عملدرآمد کیا تو غزہ میں نئی تباہی جنم لے گی جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے، غزہ پر مکمل قبضے کا یہ منصوبہ مزید بڑے پیمانے پر نقل مکانی، ہلاکتوں اور شہریوں کے لیے ناقابل برداشت تکالیف کا سبب بنے گا، غزہ پر قبضے سے تنازع میں خطرناک طور سے مزید شدت آئے گی، لاکھوں فلسطینیوں کے لیے تباہ کن حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہو گا دوسری طرف امت مسلمہ نیند کے مزے لے ر ہی ہے اور کوئی بھی غزہ کے مظلوموں کیلئے آواز اٹھانے کو تیار نہیں کہ کہیں امریکہ ناراض نہ ہو جائے، مغربی کنارے میں اسرائیل کی کارروائیوں سے انسانی حالات بگڑ رہے ہیں اسرائیلی فوج ٹینک اور بکتر بند گاڑیوں سمیت اسلحہ کے ڈھیرغزہ میں سات اکتوبرکی کارروائی کیلئے تیار کھڑے ہیں اور ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟؟؟۔

مزیدخبریں