اسلام آباد مذاکرات: مستقبل کے امکانات اور چیلنجز

09:07 AM, 22 Apr, 2026

 آج کا کالم لکھنے کے لیے قلم میرے ہاتھ میں ہے اور موضوع ایک ہی ہے مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کا بطور ثالث کردار۔ عالمی سیاست کے افق پر پاکستان نے ایک بار پھر اپنی تزویراتی اہمیت اور سفارتی مہارت کا لوہا منواتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ایسے وقت میں واحد اور بہترین ثالث کا کردار ادا کیا جب خطہ جنگ کی لپیٹ میں تھا۔ حالیہ دنوں میں اسلام آباد نے جس طرح واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا ، اسے عالمی میڈیا ایک ”تاریخی سفارتی کامیابی“قرار دے رہا ہے۔ اس ماہ اسلام آباد میں ہونے والے ”اسلام آباد مذاکرات“ نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ اگرچہ 11 اور 12 اپریل کو ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، لیکن دونوں فریقین نے پاکستان کے ذریعے پیغام رسانی کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس دوران ایران نے واضح موقف اختیار کیا کہ وہ امریکہ سے مذاکرات صرف پاکستان میں ہی کرے گا کیونکہ اسے پاکستانی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔ پاکستان کی اس سفارتی مہم جوئی میں چند پہلو انتہائی نمایاں رہے جن کاتذکرہ ازحد ضروری ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو بارہا سراہا۔ پاکستان نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی امن منصوبہ ایران تک پہنچایا، جس پر ان سطور کو تحریر کرنے تک تہران میں غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے خود کو ایک غیر جانبدار اور موثر ثالث کے طور پر پیش کیا جس کی تصدیق وائٹ ہاو¿س کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ان الفاظ میں کی کہ ”پاکستان اس عمل میں واحد ثالث ہے اور امریکی صدر اس عمل سے مطمئن ہیں۔“ پاکستان کے لیے یہ ثالثی محض ایک سفارتی مشق نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بھی ہے۔ خطے میں طویل جنگ پاکستان کے معاشی اور سکیورٹی مفادات کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی تھی۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی تھی، جس کے کھلنے کا سہرا بھی پاکستانی سفارتکاری کے سر سجے گا۔ مذاکرات کا اگلا مرحلہ اسلام آباد میں متوقع ہے جس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اگرچہ آج ختم ہونے والی جنگ بندی (Ceasefire) کی مدت کے باعث صورتحال نازک ہے لیکن پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کو مسلسل رابطے میں رکھنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف جغرافیائی طور پر اہم نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک ناگزیر ریاست ہے۔ اگر یہ مذاکرات کسی دیرپا امن معاہدے پر منتج ہوتے ہیں، تو یہ نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ کرے گا بلکہ خطے میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہوگا۔
 مشرق وسطیٰ کے دہکتے ہوئے میدان خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اپریل 2026 ئ میں ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی تھی جہاں دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی۔ ایسی نازک صورتحال میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان شٹل ڈپلومیسی اور ثالثی کے ذریعے حالات کو ٹھنڈا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 28 فروری 2026 ءکو ایران پر ہونے والے مشترکہ امریکی،اسرائیلی حملوں کے بعد پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کوششیں صرف خطے کے لیے نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہی ہیں۔ ایران،امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کا کردار گزشتہ تمام کوششوں سے زیادہ نمایاں رہا۔اس ماہ کے دوسرے ہفتے میں پاکستان کی فعال سفارت کاری کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی طے پائی۔ اس جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میز سجی جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اعلیٰ ایرانی حکام نے شرکت کی۔ یہ مذاکرات گو کہ فوری طور پر کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تھے لیکن ان کا انعقاد بذاتِ خود پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی تھی۔ اس سفارتی کامیابی میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ذاتی دلچسپی اور کوششیں انتہائی اہم رہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے 'بڑوں‘ نے خطے کے مختلف ممالک کے دورے کیے اور سفارتی رابطوں کو تیز کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا تین روزہ دورہ اور وہاں ایرانی قیادت سے مذاکرات اس حوالے سے اہم موڑ ثابت ہوئے۔ ایرانی وزارت خارجہ اور دیگر حکام نے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا اور اسے ’اچھا میزبان‘ قرار دیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان نے اس نازک موڑ پراپنی غیر جانبدارانہ ساکھ کو بحال رکھا۔ بہت ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اس ثالثی کردار سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ پاکستان، ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے، اور وہ اپنی مغربی سرحد پر کسی بھی قسم کی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خطے میں امن پاکستان کی اپنی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ ایک غیر مستحکم ملک کے تاثر کو ختم کر کے پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار اور بین الاقوامی سطح پر قابل اعتماد سفارتی پارٹنر کے طور پر ثابت کیا ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں کا پاکستان کی کوششوں پر اعتماد کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد اب بھی مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اہم وزن رکھتا ہے۔ اس ثالثی کردار کے باوجود پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا جبکہ موجودہ تنازع میں اسرائیل ایک بڑا فریق ہے۔ اسرائیل نے پاکستان کو ایک قابل اعتبار ثالث ماننے سے گریز کیا ہے۔ امریکہ-ایران کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج بہت گہری ہے۔ جنگ بندی کے باوجود حتمی معاہدہ اور اس پر عملدرآمد ایک مشکل چیلنج ہے۔ امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی ایک بہادرانہ اور ضروری اقدام ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب دنیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے، پاکستان نے سفارت کاری کے ذریعے امن کی راہ ہموار کی۔ یہ سفارتی کامیابی بلاشبہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا موڑ ہے، لیکن اس کی پائیداری کا انحصار اب بھی فریقین کی لچک اور خطے کے دیگر ممالک کے تعاون پر ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ تلوار کی دھار پر چل کر بھی امن کا پیغام پہنچا سکتا ہے۔ پاکستان کی امن کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں اس کا اندازہ آئندہ چند دنوں میں ہو جائے گا۔

مزیدخبریں