اُبھرتی اور ڈوبتی اُمیدیں 

09:05 AM, 22 Apr, 2026

کالم کو ضبط تحریر اور اسکی اشاعت تک پاکستان میں ممکنہ طور پر منعقد ہونے والے امریکہ ، ایران مذاکرات اپنے آخری وقت تک غیر یقینی صورت حال سے نبرد آزما ہیں اسلام آباد میں تمام تیاریاں مکمل اور مذاکرات کی میز سج چکی ہے تاہم تہران کے ممکنہ ردعمل کا اندازہ لگانا ابھی خاصامشکل ہے۔ بروز بدھ یا اسکے بعد یہ مذاکرات منعقد ہوتے ہیں اور انکے نتیجے میں مستقل سیز فائر ہوتا ہے یا نہیں ، سچ مانیے راقم الحروف اس ضمن میں اگرچہ مایوس نہیں تاہم بہت زیادہ پر ا±مید بھی نہیں۔ جہاں تک حکومت پاکستان اور میڈیا کا تعلق ہے تو وہ پاکستانی عوام کو یہ یقین دلانے میں ایک دوسرے سے بازی لیجاتے نظر آتے ہیں کہ مذاکرات بھی ہونگے اور انکے نتیجے میں کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر خطے میں پائیدار امن کی راہیں بھی استوار ہونگی ہمارے ایک دوست انجینئر مقصود کمبوہ جو اس وقت امریکہ میں مقیم اور امریکی حکومت و اپوزیشن میں گہرے روابط رکھتے ہیں اس حوالے سے خاصے پر امید ہیں ان کا کہنا ہے کہ رب تعالیٰ نہ کرے کہ مذاکرات ناکام ہوں اگر ایسا ہوا تو نہ صرف پوری دنیا بلکہ امریکہ پر بھی اسکے سخت منفی اثرات مرتب ہونگے انکا کہنا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت اس جنگ کے خلاف ہے اور وہ اسے اپنی جنگ نہیں سمجھتے موجودہ حالات میں امریکہ میں مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے 
قارئین! ایران کا امریکہ سے مذاکرات سے حالیہ انکار محض ایک وقتی سیاسی ردعمل نہیں بلکہ ایک گہری سٹرٹیجک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ چند برس میں ایران اور امریکہ کے تعلقات مسلسل اتار چڑھاو¿ کا شکار رہے ہیں، جن میں جوہری معاہدہ 2015 کی بحالی کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ تاہم حالیہ کشیدگی، پابندیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے اس امکان کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کا مذاکرات سے انکار مکمل اور حتمی نہیں ہوتا، بلکہ یہ عموماً دباو¿ بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہوتی ہے۔ ایران ماضی میں بھی سخت مو¿قف اپنانے کے بعد بالآخر مذاکرات پر آمادہ ہوتا رہا ہے، لیکن اس کے لیے وہ ہمیشہ اپنی شرائط کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر امریکہ اپنی اقتصادی پابندیوں میں نرمی دکھاتا ہے یا خطے میں اپنی عسکری موجودگی کم کرتا ہے تو ایران کے مو¿قف میں لچک آنے کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم اگر دباو¿ اور خلیج میں ناکہ بندی برقرار رکھتاہے تو ایران کے جھکنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
اگر ایران مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتا تو اس کے اثرات سب سے پہلے مشرق وسطیٰ کے خطے پر پڑیں گے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی ایک نازک جغرافیائی اور سیاسی صورتحال سے دوچار ہے جہاں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسی صورت میں پراکسی جنگوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر لبنان، شام اور یمن جیسے ممالک میں جہاں ایران کے اثر و رسوخ کے حامل گروہ موجود ہیں۔ اس سے خطے میں عدم استحکام مزید گہرا ہوگا اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھے گا۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال نہایت حساس ہے۔ پاکستان ایک جانب ایران کا ہمسایہ ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو ایک مشکل سفارتی توازن قائم رکھنا پڑے گا۔ ایک طرف وہ ایران کے ساتھ سرحدی سلامتی اور اقتصادی تعاون کو برقرار رکھنا چاہے گا، جبکہ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اپنے اقتصادی اور عسکری تعلقات کو بھی نقصان نہیں پہنچانا چاہے گا۔
اقتصادی طور پر بھی پاکستان متاثر ہو سکتا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر پڑے گا۔ پہلے ہی مہنگائی اور زرمبادلہ کے مسائل سے دوچار معیشت کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، اگر ایران پر پابندیاں مزید سخت ہوتی ہیں تو پاکستان اور ایران کے درمیان ممکنہ گیس پائپ لائن منصوبے جیسے اقتصادی مواقع بھی متاثر ہوں گے۔
امریکہ کے لیے بھی یہ صورتحال آسان نہیں ہوگی۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کا مطلب یہ ہوگا کہ واشنگٹن کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ اگر امریکہ دباو¿ کی پالیسی کو جاری رکھتا ہے تو اسے خطے میں مزید فوجی وسائل مختص کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے اس کے عالمی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، چین اور روس جیسے ممالک ایران کے قریب آ سکتے ہیں، جس سے امریکہ کی عالمی برتری کو چیلنج درپیش ہوگا۔ اس تناظر میں چین کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔ چین پہلے ہی ایران کے ساتھ اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھا رہا ہے۔ اگر ایران امریکہ سے دور ہوتا ہے تو چین اس خلا کو پ±ر کرنے کی کوشش کرے گا، جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح روس بھی ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کر سکتا ہے، خاص طور پر دفاعی اور توانائی کے شعبوں میں۔
اسرائیل کے لیے ایران کا مذاکرات سے انکار ایک تشویشناک پیش رفت ہوگی۔ اسرائیل پہلے ہی ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ اگر سفارتی راستے بند ہو جاتے ہیں تو اسرائیل ممکنہ طور پر عسکری آپشنز پر غور کر سکتا ہے، جس سے ایک بڑے پیمانے پر جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ایسی کسی بھی جنگ کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ 
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ایران کا مذاکرات سے انکار ایک پیچیدہ اور کثیر الجہتی مسئلہ ہے جس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی سیاست پر پڑیں گے۔ اگرچہ فوری طور پر مذاکرات کی بحالی مشکل نظر آتی ہے، لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مکمل تعطل کبھی مستقل نہیں ہوتا۔ بالآخر تمام فریقین کو کسی نہ کسی مرحلے پر مذاکرات کی میز پر آنا پڑتا ہے کیونکہ جنگ اور کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہوتی۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس صورتحال میں محتاط اور متوازن پالیسی اپنائے، تاکہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکے بلکہ خطے میں امن کے قیام میں بھی مثبت کردار ادا کر سکے۔ یہی راستہ اس پیچیدہ بحران کا واحد پائیدار حل ہو سکتا ہے۔اس امر پر بھی غور کرنا پڑے گا کہ کہیں واشنگٹن پاکستان کو استعمال تو نہیں کر رہا کیونکہ پاکستان کی قیادت کی بھرپور کوششوں سے ایران ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہو چکا تھا امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی برقرار رکھ کر ایرانی آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کا اقدام خود عارضی سیز فائر اور پاکستان کی امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے مترادف ہے ۔

مزیدخبریں