"پہلے وعدے پورے کریں، پھر مذاکرات کی بات ہوگی":ایران کا امریکہ کو حتمی جواب

11:25 AM, 21 Apr, 2026

تہران : ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل کی ناکامی کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "تاریخی عدم اعتماد" دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران اب کھوکھلے بیانات پر یقین نہیں رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ  کسی بھی نئے مذاکراتی دور کے لیے امریکہ کا اپنے پرانے وعدوں پر عمل کرنا لازمی شرط ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے آنے والے غیر تعمیری اور متضاد بیانات نے ماحول کو مزید خراب کر دیا ہے۔ایرانی صدر نے امریکی حکمتِ عملی کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن مذاکرات کی آڑ میں ایران کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکہ دراصل ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ہم کسی بھی دباؤ یا طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق تہران کا موقف ہے کہ جب تک امریکہ اپنی "میکسی مم پریشر" کی پالیسی اور دھمکی آمیز لہجہ تبدیل نہیں کرتا، تب تک سفارتی سطح پر کسی بڑی پیشرفت کی امید رکھنا فضول ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر ہی کسی میز پر بیٹھے گا۔

مزیدخبریں