واشنگٹن : امریکہ کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو واشنگٹن میں شروع ہوگا۔ یہ سفارتی کوششیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان چھ ہفتوں کی لڑائی کے بعد نافذ العمل 10 روزہ جنگ بندی اپنی مدت پوری کرنے والی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق، وزیر خارجہ مارکو روبیو کی سربراہی میں ہونے والے یہ مذاکرات سفراء کی سطح پر ہوں گے۔ 14 اپریل سے شروع ہونے والے اس عمل کو 1993 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے باضابطہ سفارتی مذاکرات قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی بات چیت میں "مثبت پیش رفت" ہوئی ہے اور فریقین کسی مستقل حل کی تلاش میں سنجیدہ نظر آتے ہیں۔
مذاکرات کے ایجنڈے میں سب سے اہم نکتہ جنوبی لبنان میں سیکیورٹی اور حزب اللہ کا مستقبل ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایک بار پھر لبنان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے۔ 10 روزہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے پر پہنچنا ضروری ہے، ورنہ جنوبی لبنان میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان مذاکرات کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک "تاریخی موقع" قرار دے چکے ہیں۔ واشنگٹن میں جمعرات کو ہونے والی یہ بیٹھک طے کرے گی کہ آیا عارضی سیز فائر کو ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
واشنگٹن میں اسرائیل ،لبنان امن مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو؛ مارکو روبیو کی ثالثی میں 'بریک تھرو' کی امید
09:29 AM, 21 Apr, 2026