جماعت اسلامی کے حالیہ فیصلے نے ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جو صرف ایک عہدے کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات جماعت کے مستقبل،نوجوانوں کے اعتماد اور میڈیا سے تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی طرف سے نوجوان اور متحرک مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کی جگہ اسلام آباد کے’’بزرگ صحافی‘‘اور جماعت کے دیرینہ رکن شکیل احمد ترابی کو مقرر کرنا بظاہر ایک معمولی تنظیمی فیصلہ نظر آتا ہے مگر اس کے پس منظر میں جھانکنے سے بہت کچھ سمجھ آتا ہے جو جماعت اسلامی جیسے فکری اور نظریاتی ادارے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔۔۔قیصر شریف ایک فعال،باصلاحیت اور میڈیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ فرد کے طور پر جانے جاتے تھے۔۔۔ان کا جماعت اسلامی کے بیانیے کو عصری تقاضوں کے مطابق پیش کرنا،جدید میڈیا پلیٹ فارمز پر موثر انداز میں جماعت کا نقطہ نظر سامنے لانا اور نوجوان نسل کے ساتھ رابطے کو مضبوط بنانا ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔اْن کا تعلق اْس نسل سے ہے جو سوشل میڈیا،ڈیجیٹل دنیا اور جدید صحافتی انداز کو نہ صرف سمجھتی ہے بلکہ اسے بخوبی استعمال بھی کرنا جانتی ہے۔اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں جب میڈیا کی نوعیت یکسر بدل چکی ہے اور جہاں بیانیہ جیتنے کے لیے تیز،جاندار اور موثر کمیونیکیشن ناگزیر ہو چکی ہے،ایسے میں ایک تجربہ کار اور نوجوان شخصیت کو ہٹا کر ایک معمر اور پرانے انداز کے صحافی کو تعینات کرنا نہ صرف حیران کن ہے بلکہ جماعت کی ترجیحات پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔۔۔۔شکیل ترابی اپنی جگہ ایک کہنہ مشق صحافی اور جماعت کے وفادار رکن ضرور ہیں مگر ان کا صحافتی انداز اور میڈیا کے ساتھ روابط اْس تیزی اور چابک دستی کے حامل نہیں جو موجودہ دور کا تقاضا ہے۔۔۔آج کا صحافتی منظرنامہ بدل چکا ہے،اب صرف بیانات جاری کرنا یا پریس ریلیز تقسیم کرنا کافی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر پل پل کی اپڈیٹ،ویڈیو کلپس،وائرل کانٹینٹ اور رائے عامہ کی نبض پر ہاتھ رکھنا لازم ہے۔۔۔ایسی صورت میں ایک ایسے فرد کو لانا جو ان تمام جہات سے ناآشنا ہو،یہ فیصلہ کسی طور پر بھی بصیرت افروز نہیں کہا جا سکتا۔قیصر شریف ایک ایسا نام ہے جس نے صحافت اور سیاست کے سنگم پر اپنی غیر معمولی بصیرت،محنت اور اخلاص کے ساتھ ایک ناقابل فراموش مقام حاصل کیا۔۔۔وہ صرف جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نہیں بلکہ میڈیا کی دنیا میں جماعت کا چہرہ،ترجمان اور روح رواں تھے۔۔۔ان کی شخصیت میں بیک وقت متانت،سلیقہ،شرافت اور حاضر دماغی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔۔۔ان کی میڈیا سے وابستگی محض جماعتی بیانات کے اجراء تک محدود نہ تھی بلکہ انہوں نے تعلقات عامہ(Public Relations)کو ایک نئی جہت عطا کی،جس میں انسانی رشتوں،احساسات اور تحریکی تقاضوں کو نہایت خوش اسلوبی سے ہم آہنگ کیا گیا۔۔۔۔قیصر شریف کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ رشتے نبھانا جانتے ہیں۔۔۔صحافی برادری میں ان کا مقام ایک ترجمان سے کہیں بڑھ کر ہے،وہ ایک دوست،بھائی اور ساتھی کی طرح موجود رہتے۔۔۔۔کسی صحافی کی سالگرہ ہو یا کسی کے اہل خانہ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ،قیصر شریف ان لمحوں میں سب سے پہلے پہنچنے والے فرد ہوتے۔۔۔ان کے لئے میڈیا پر کوریج حاصل کرنا ایک پیشہ ورانہ ضرورت سے زیادہ تعلقات اور اعتماد کی عمارت پر استوار عمل تھا۔۔۔ان کا یہ اسلوب ان کی شخصیت کا آئینہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صحافت کے ہر حلقے میں اپنی جگہ بنائی،چاہے وہ قومی ٹی وی چینل ہو یا کسی چھوٹے شہر کا علاقائی اخبار۔۔۔انہوں نے بطور سیکرٹری اطلاعات نہ صرف سید منور حسن اور سراج الحق جیسے قائدین کے دور میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ انہوں نے ان ادوار میں جماعت کے مؤقف کو عوام تک پہنچانے کے لئے بے شمار نئے ذرائع اختیار کیے۔۔۔ان کی کوششوں سے جماعت اسلامی ایک ایسی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری جس کی پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ ہونے کے باوجود نیشنل میڈیا پر اس کا موقف سنا اور دیکھا جاتا رہا،یہ معمولی کامیابی نہیں بلکہ قیصر شریف کی میڈیا مینجمنٹ کی مہارت،مسلسل رابطوں اور ذاتی انویسٹمنٹ کا نتیجہ ہے۔۔۔ان کی خدمات اور قربانیوں کے باوجود یکایک انہیں اس عہدے سے ہٹا دینا اور ان کی جگہ کسی اور کو لانا جماعت کے اندرونی معاملات میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔شکیل ترابی ایک قابل صحافی اور جماعت کے وفادار رکن ضرور ہیں لیکن جس معیار،توازن اور ہم آہنگی کے ساتھ قیصر شریف نے جماعت اور میڈیا کے درمیان پل کا کردار ادا کیا،وہ کوئی معمولی بات نہ تھی جسے نظر انداز کیا جا سکے۔اس فیصلے کو واپس لینا ممکن نہ بھی ہو مگر جماعت اسلامی کو کم از کم اپنی پالیسیوں پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے،کیونکہ اگر اسی روش پر گامزن رہا گیا،تو نظریاتی سرمایہ رکھنے والی یہ جماعت محض ایک علامتی ادارہ بن کر رہ جائے گی۔
قیصر شریف کی رخصتی،جماعت اسلامی کس ڈگر پر جا رہی ہے ؟
09:15 AM, 21 Apr, 2025