دور جدید میں بھی بچے غیر محفوظ

08:54 AM, 21 Apr, 2025

بچوں کے خلاف تشدد ایک ایسا سنگین عالمی مسئلہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دور حاضر میں نگرانی کے جدید ذرائع میسر ہونے کے باوجود بچوں کا تحفظ یقینی بنانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ بچے نہ تو گھروں میں محفوظ ہیں، نہ سکول اور محلوں میں۔ ابلاغ کے نئے ذرائع نے جہاں زندگیوں کو آسان بنایا ہے وہیں بچوں کیلئے آن لائن جیسی غیر محفوظ ایک نئی دنیا کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ایسی جگہیں جہاں انسان سوچتا ہے کہ بچے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور ان کو پروان چڑھانے کے لیے ان کی اچھی نشوونما ہو رہی ہے، وہیں پر ہی زیادہ تر بچوں کو ذہنی، جسمانی اور جنسی تشدد جیسے حالات کا سامنا ہے۔ ذرا ان بچوں کے بارے میں سوچیں جو معاشی تنگدستی کے باعث سکول نہیں جا پاتے اور کم عمری میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، انہیں کس جبر سے گزرنا پڑتا ہو گا۔ گذشتہ دنوں بچوں پر تشدد کے حوالے سے ایک رپورٹ نظر سے گزری۔ اس کے اعداد و شمار دہلا دینے والے ہیں۔ پھول کی مانند بچوں کو جس طرح سے مسلا جا رہا ہے وہ انتہائی پریشان کن ہے۔ دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں ہر 4 منٹ میں ایک بچہ تشدد کی وجہ سے موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ دنیا میں اب تک 9 کروڑ سے زائد بچے ایسے ہیں جنہیں جنسی تشدد سے گزرنا پڑا اور 65 کروڑ خواتین اور لڑکیاں جنسی تشدد کا شکار ہوئی۔ سالانہ اوسطاً 20 سال سے کم عمر کے ایک لاکھ 30 ہزار بچوں کی زندگی پُرتشدد واقعات کے ذریعے ختم ہو جاتی ہے جبکہ ہر 4 منٹ میں دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں 1 بچہ تشدد کے باعث موت کے منہ میں جاتا ہے۔ جسمانی تشدد سے مرنے والے بچوں میں لڑکوں کی تعداد لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ جنسی تشدد کے واقعات میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں 1.6 ارب بچے کسی نہ کسی صورت میں پُرتشدد رویوں سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک میں مسائل کا اک انبار لگا ہوا ہے۔ مہنگائی کرپشن، غربت اور بیروزگاری نے ملک کو جکڑ رکھا ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لیے پالیسی وضع کرنا اور اس پر عملدرآمد کرنا ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔ چند دن قبل پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم ایس ایس ڈی او نے سال 2024 کے دوران بچوں پر تشدد کے واقعات پر رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ اعداد و شمار ہماری ترجیحات کا بھی پردہ چاک کرتے ہیں۔ اس رپورٹ کی اہم بات یہ ہے کہ اس کا ڈیٹا پولیس سے حاصل کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس ملک بھر میں بچوں میں تشدد کے کل 7608 واقعات رپورٹ ہوئے جس میں جنسی زیادتی کے 2954، اغوا 2437، جسمانی تشدد 683، بچوں کی سمگلنگ 586، چائلڈ لیبر 895 اور کم عمری میں شادی کے 53 واقعات شامل ہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک بھر میں روزانہ اوسطاً 21 بچے تشدد کا نشانہ بنے ہیں۔ تشدد کی زیادہ تر کیٹیگریز میں سزا کی شرح 1 فیصد سے بھی کم رہی۔ جزا و سزا کے اس بوسیدہ نظام کی کارکردگی دیکھیں کہ جنسی زیادتی کے کیسز میں قومی سطح پر سزا کی شرح صرف 1 فیصد رہی، اغوا کے کیسز میں سزا کی شرح 0.2 فیصد، جبکہ کم عمری کی شادی کے مقدمات میں کسی کو بھی سزا نہیں سنائی گئی۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے جس کی ترقی اشتہارات میں خوب نظر آتی ہے۔ لگتا ہے کہ دودھ و شہد کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ اس صوبے میں سب سے زیادہ 6083 کیسز رپورٹ ہوئے۔ جن میں جسمانی تشدد کے 455 مقدمات میں صرف سات مجرموں کو سزا ملی، جنسی زیادتی کے 2506 مقدمات میں صرف 28، اغوا کے 2189 مقدمات میں صرف چار مجرموں کو سزا دی گئی۔
خیبر پختونخوا میں کل 1102 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں جسمانی تشدد کے 208 اور جنسی تشدد کے 366 مقدمات شامل تھے۔ یہاں بھی کسی کو سزا نہیں ملی۔ یہ وہ واقعات ہیں جو پولیس میں رپورٹ ہوئے۔ ہمارے نظام انصاف کی دگرگوں صورتحال کو نظر میں رکھا جائے تو اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انصاف کسی بھی معاشرے کو مضبوط کرتا اور عوام کو اعتماد دیتا ہے۔ تاریخ بتاتی 
ہے کہ جب عدل ناپید ہو جائے تو ملک کمزور ہوتے اور بالآخر صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ اس ملک کی کرتا دھرتا اشرافیہ کو تاریخ سے کچھ سیکھنا چاہیے۔ جس ملک میں 2 کروڑ 62 لاکھ کے قریب بچے سکولوں سے باہر ہوں، وہاں بچوں کے لیے محفوظ ماحول کی ضمانت کون دے گا؟ بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرنا سرکار کی بنیادی ذمہ داری ہے اور آئین بھی اس کی ضمانت دیتا ہے۔ مگر یہاں ایسے کاموں پر حکمران توجہ نہیں دیتے جو عوام دکھائی نہ دے سکیں۔ سارا زور سڑکوں، پلوں، لیپ ٹاپ، میٹرو، اورنج لائن جیسی بڑی بڑی سکیموں پر ہوتا ہے جو دور سے سب کو نظر آئیں چاہے اس کیلئے ملک کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی ہی کیوں نہ رکھوانا پڑے۔ اندازہ لگائیں کہ صرف صوبہ پنجاب میں ایک کروڑ 11 لاکھ سے زائد بچے سکول سے باہر ہیں۔ جبکہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ آئے روز کسی نہ کسی یونیورسٹی میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے پہنچ جاتی ہیں۔ بنیادی تعلیم کی کوئی فکر نہیں۔ اصل مسائل کی جانب ایک قدم بھی نہیں بڑھایا جا رہا۔ کھوکھلی ترقی کا منجن ہمیشہ سے بیچا جا رہا ہے اس قوم کو اور ہم اسی میں خوش ہیں۔ نہ جانے یہ حکمران کس دنیا کے باسی ہیں جنہیں اصل مسائل کا یا تو ادراک نہیں یا پھر یہ جان بوجھ کر اس قوم کو باشعور نہیں بنانا چاہتے۔ بچوں کو بہترین تعلیم دئیے بغیر پاکستان حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ہی بنیادی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم کی سہولیات اور تقریباً 100 فیصد شرح خواندگی پر ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی شرح خواندگی 96 فیصد سے زیادہ ہے۔ کچھ ممالک جیسا کہ ناروے، فن لینڈ، لگسمبرگ، نارتھ کوریا اور کچھ دیگر ممالک کی شرح خواندگی 100 فیصد ہے، جبکہ پاکستان کا صرف 62 فیصد جبکہ یہاںدستخط کرنے والے کو بھی پڑھا لکھے کی کیٹیگری میں شامل کیا جاتا ہے۔ جب تک حکومت بچوں کی تعلیم و تربیت اور محفوظ ماحول کی ضمانت نہیں دے گی، عدالتی نظام فوری انصاف نہیں دے گا، پولیس بچوں کے خلاف تشدد کرنے والوں کے گرد شکنجہ نہیں کسے گی بچوں کی حفاظت کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ یہاں چائلڈ رائٹس آرگنائزیشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سکول اور محلوں میں کمیونٹی سطح پر آگاہی مہم چلائیں تا کہ بچوں کی آئندہ نسل کو محفوظ بنا جا سکے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ صرف بند کمروں میں پالیسیز بنانے اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں کانفرنسز کرنے سے بچوں کو جسمانی، ذہنی اور جنسی زیادتیوں سے تحفظ فراہم کرنا ممکن نہیں۔

مزیدخبریں