’’بیساکھی کا دن آیا، خوشی کا پیغام لایا‘‘

08:54 AM, 21 Apr, 2025

اسلام علیکم!۔۔۔ چاچا رفیق نے چوپال میں آتے ہیں بلند آواز کے ساتھ سب کو سلام کیا۔ ان کے ساتھ آج دو سکھ یاتری تھے۔ نتھو اور پھتو نے پوچھا چاچا رفیق یہ کون ہیں ان کا کچھ تعارف کرائیں۔ چاچا رفیق نے کہا کہ ٹھہرو ذرا مجھے سانس تو لینے دو۔ چاچا رفیق نے چوپال میں ساتھ آنے والے مہمانوں کو لسی کی آفر کی۔ نتھو بھاگ کر ملک کی دکان پر گیا اور دو گلاس پیڑے مار کے لسی کے گلاس لے کر آیا۔
اسی اثنا میں چپ سائیں بھی کھنگورا مارتے ہوئے اور لاٹھی ٹیکتے ہوئے آ گئے۔۔ چپ سائیں جی نے چوپال میں آنے والے سکھ مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور چاچا رفیق سے تعارف کرانے کا کہا۔ چاچا رفیق بولے۔۔ بھئی یہ ہرنام سنگھ اور کرنام سنگھ جی ہیں۔ یہ بیساکھی کے لیے آئے ہیں، میری دکان پر کپڑے خرید رہے تھے، میں نے ان کی مہمان نوازی اور خاطر مدارت کی اور دکان سے سیدھا چوپال میں آپ سے ملانے کے لیے لے آیا۔۔۔ ہرنام سنگھ نے کہا کہ ہم دونوں جڑواں بھائی ہیں۔ ہم بیساکھی کے لیے پاکستان آئے ہیں۔ ہمیں یہاں آ کر دلی سکون ملتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے کہ ہم اپنے ہی پنجاب میں ہیں۔ کرنام سنگھ بولا۔۔ پاکستان کے لوگ بہت محبت کرنے والے ہیں۔ بھائیو! سکھ یاتری جب پاکستان میں بیساکھی یا دیگر مذہبی مواقع کیلئے آتے ہیں تو وہ صرف مذہبی زیارت ہی نہیں کرتے بلکہ مختلف شہروں میں خریداری کا شوق بھی پورا کرتے ہیں۔ کرنام سنگھ بولا سکھ یاتری پاکستانی روایتی لباس جیسے شلوار قمیض، کھسہ اور ہاتھ کی کڑھائی والے کپڑوں کو خاص دلچسپی سے خریدتے ہیں، خصوصاً لاہور، حسن ابدال اور ننکانہ صاحب جیسے شہروں سے۔
ہرنام سنگھ اور کرنام سنگھ بولے پاکستانی مٹھائیاں جیسے رس گلہ، برفی، گلاب جامن، پتیسہ اور حلوہ سکھ یاتری بڑے شوق سے کھاتے ہیں، ساتھ ہی پاکستانی مسالہ جات، اچار، چٹنیاں اور دیگر ذائقہ دار اشیاء بھی خاص دلچسپی کا باعث ہوتی ہیں۔ ہرنام اور کرنام دونوں چپ کر گئے۔ چاچا رفیق نے کہا کہ سائیں جی اب آپ بھی کچھ کہیں!
چپ سائیں نے خاموشی کا قفل توڑا، بولے۔۔۔ دوستو! پہلے تو آپ کو خوش آمدید۔۔ میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ ہماری حکومت نے اس بار بیساکھی کے لیے آنے والے یاتریوں کے لیے بہت اچھے انتظامات کیے ہیں اور آپ کے پنجاب سے لوگ کثیر تعداد میں یہاں آئے ہیں۔۔ چپ سائیں پھر چپ کر گئے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد بولے۔۔۔ میری دادی ہمیں بتایا کرتی تھی کہ تقسیم سے قبل سب یہاں ایک ساتھ رہتے تھے۔۔ سرحدوں کی قید نہیں تھی۔۔۔ ہمارے سکھ بھائی ہماری عزتوں کے محافظ اور ہمارے اپنے لوگ بھی ان کی خواتین کے محافظ تھے۔۔ جب کبھی کوئی تہوار آتا تو ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا۔۔۔ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں اپنی اپنی سوغاتیں بھجواتے۔۔۔ جب کبھی فصل کی کٹائی کا وقت آتا تو ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ جاتی تھی۔۔ ڈھول کی تھاپ پر پنجابی، سکھ سب لوگ بھنگڑے ڈالتے تھے۔۔۔ پورے پنجاب میں ہر طرف خوشی کا رنگ ہی رنگ ہوتا تھا۔۔ توقف کے بعد بولے ۔۔۔ پھر بٹوارہ ہوا اور نجانے کس کی نظر لگ گئی۔۔ خیر ۔۔۔ خیر ۔۔۔ چپ سائیں چپ کر گئے اور دوبارہ گویا ہوئے۔۔ صاحبو! بیساکھی کا دن سکھوں کے لیے ایک انتہائی اہم مذہبی موقع ہے، جس کا تعلق نہ صرف فصلوں کی کٹائی کے جشن سے ہے بلکہ سکھوں کی تاریخ کا ایک سنگ میل بھی ہے۔ یہ دن سکھوں کے لیے گورو گووند سنگھ کی جانب سے خالصہ پنتھ کی بنیاد رکھنے کی یادگار ہے اور یہ سکھوں کی عقیدت و روحانیت کا ایک اہم نشان ہے۔ اس دن کی مذہبی اہمیت کی بدولت، سکھ یاتری ہر سال پاکستان آ کر اپنے مذہبی عقیدے کی پیروی کرتے ہیں اور اس موقع پر دونوں ممالک، پاکستان اور بھارت، کے درمیان مذہبی ہم آہنگی اور دوستی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان، جس کی سرزمین سکھوں کے مقدس مقامات سے سجی ہوئی ہے، بیساکھی کے دن سکھ یاتریوں کے لیے اپنے دروازے کھولتا ہے۔ اس دوران، سکھ یاتری پاکستان آ کر ان مقدس مقامات کی زیارت کرتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں،یہ مواقع دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کی مضبوطی کا بھی ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔
چپ سائیں بولے پاکستان نے سکھ یاتریوں کی آمد کو خوش آمدید کہنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ دوستو! بیساکھی پر سکھ یاتری اپنے ثقافتی رنگ بھی دکھاتے ہیں، جیسے کہ روایتی رقص ’’بھنگڑا‘‘ اور سکھ موسیقی کی محافل۔ یہ ثقافتی سرگرمیاں نہ صرف سکھوں کے لحاظ سے اہم ہوتی ہیں بلکہ پاکستان کی ثقافتی وراثت کا ایک حصہ بھی بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں سکھ یاتریوں کی آمد اور بیساکھی کا جشن مذہبی، ثقافتی اور سماجی طور پر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لیے مختلف سہولتیں فراہم کی ہیں تاکہ وہ اپنے مذہبی رسومات ادا کر سکیں اور اپنی روحانیت کو بڑھا سکیں۔ اس کے علاوہ، یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی ہم آہنگی اور دوستی کی ایک مضبوط علامت بھی ہے۔ سکھ یاتریوں کو سہولت، حفاظت دے کر ہمارے وطن کے قائدین نے انقلابی قدم اٹھایا ہے۔

مزیدخبریں