پنجاب کی جیلوں میں ہنر، محنت اور امید کا نیا سورج

08:53 AM, 21 Apr, 2025

زندگی ایک مسلسل رقصِ تضاد ہے، جہاں روشنی کا مفہوم تاریکی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور آزادی کا تصور قید کی فکری جہتوں کے بغیر نا مکمل رہتا ہے۔ انہی تضادات میں جیل خانہ جات کا شعبہ بھی پوشیدہ ہے جو انسانی فہم کی سطحی نگاہوں سے اوجھل، اپنے باطن میں ایک مکمل فلسفہ تمدن، تہذیب اور اصلاح کا امین ہے۔ انسانی وجود کا فلسفہ ایک سادہ ترین حقیقت پر مبنی ہے کہ ہر انسان کی تقدیر میں ایک لمحہ ایسا ضرور آتا ہے جب وہ خطا کا ارتکاب کرتا ہے، اور پھر معاشرہ بطورِ ردعمل ایسے ادارے وجود میں لاتا ہے جو محض سزا ہی نہیں بلکہ تزکیہ و تہذیب نفس کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی جیلیں صرف سزا دینے کے بجائے اصلاحِ احوال، تطہیر باطن، تربیت اور تعمیر کردار کا مرکز بن جائیں، تو سمجھ لیجئے کہ وہاں اندھیرے کو مات دینے کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ کبھی زندانوں کو محض زنجیروں اور اندھیروں کا استعارہ سمجھا جاتا تھا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ جہاں شعور بیدار ہو وہاں دیواریں بھی در بن جاتی ہیں۔ پنجاب کی جیلیں جو کبھی عبرت کی علامت سمجھی جاتی تھیں آج تعمیرِ نو، ہنر مندی اور انسانی وقار کے مراکز میں ڈھل رہی ہیں۔ یہ تبدیلی کسی معجزے سے کم نہیں بلکہ ایک مدبر قیادت کے تدبر 
اور اخلاص کا مظہر ہے جس نے سزائوں کے سخت دھاروں میں اصلاح و احوال کی نرم خو خوشبو شامل کی۔ موجودہ حکومت نے جیلوں کو صرف قید و بند کی علامت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ انہیں معاشرتی بحالی اور اقتصادی سرگرمیوں کا فعال مرکز بنانے کی کاوش کی۔ یہ ایک ایسا وژن ہے جو سزا کو شعور، قید کو تعلیم اور جرم کو جد و جہدِ نو کی طرف گامزن کرنے کا نام ہے۔ پنجاب کی مختلف جیلوں میں قائم کیے جانے والے صنعتی مراکز نا صرف اس بصیرت افروز پالیسی کا عملی مظہر ہیں بلکہ امید کے وہ چراغ ہیں جو جرم کی دنیا میں گم انسانوں کے لیے روشنی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ان صنعتوں میں کام کرنے والے قیدی نا صرف معاشی طور پر خود کفیل ہو رہے ہیں بلکہ ان کے اندر خود اعتمادی، نظم و ضبط اور ذمے داری کا احساس بھی پروان چڑھ رہا ہے۔ جیسا کہ عاصم رضا کہتے ہیں:
یوں تو بے رنگ ہے کہنے کو کتابِ ہستی
اتنی بے رنگ کے خوشیوں کا کوئی باب نہیں
پھر بھی اڑتا ہوا چھوتا ہوں فلک کو اکثر
جیل میں جسم مقید ہے مِرے خواب نہیں
جیلوں کے اندر موجود صنعتی مراکز اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ حکومتِ پنجاب نے قیدیوں کو شعور کے سنگھاسن پر براجمان اور مقصد کے مینار تلے کھڑا کیا۔ جدید خطوط پر مبنی کارخانوں کا قیام، قیدیوں کو دی جانے والی ہنرمندی کی تربیت حکومتِ وقت کے اس عزم کو نمایاں کرتے ہیں کہ ہر انسان کو دوسرا موقع ملنا چاہیے۔ یہاں جیل خانہ جات کی انتظامیہ کو خاص طور پر خراجِ تحسین دینا لازم ہے کہ جنہوں نے بوسیدہ روایتوں سے منہ موڑ کر انسانی وقار کی حفاظت کو اپنا نصب العین بنایا۔ ان کے شب و روز کی کاوشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اگر نیت میں خلوص اور سوچ میں بلند نظری ہو تو قید ایک مکتب اور مجرم ایک مصلح بن جاتا ہے۔ اس دورِ مکدر میں جہاں بیشتر ادارے انتشار اور افتراق کی علامت بن چکے ہیں وہیں پنجاب کی جیلیں ایک وحدت کا پیغام دیتی ہیں۔ ایک ایسا پیغام جو انسان کو اس کے اصل مقام یعنی خلیفۃ اللہ فی الارض کی طرف لوٹاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کا چہرہ رحم، عدل اور فہم کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ اگر پنجاب کی جیلوں کو عصرِ جدید کی زندہ، با مقصد اور مہذب اصلاح گاہ کی حیثیت حاصل ہوئی ہے تو اس میں ایک درخشاں کردار ایڈیشنل سیکرٹری جیل خانہ جات عاصم رضا کا بھی ہے، جن کی بصیرت، قلبی وابستگی، فکری گہرائی اور انسان دوست طرزِ عمل نے اس ادارے کو فقط نظم و ضبط کا قلعہ نہیں بلکہ تربیت، تعلیم اور فکری ارتقا کا مرکز بنا دیا۔ اڈیالہ جیل وہ نام تھا جسے سنتے ہی ذہن تاریک گمانوں کی دھند میں اتر جایا کرتا تھا، سنگی دیواروں، سلاخوں کے پیچھے دم توڑتی امیدوں اور قوانین کی سردمہری میں لپٹے انسانی وجود کا تصور جو صدیوں سے جیل کے مفہوم کے ساتھ پیوست چلا آ رہا ہے مگر جب ہمیں اس فصیل در فصیل دنیا کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو تمام دقیانوسی خیالات ایک ایک کر کے تحلیل ہونے لگے۔ یہ قید خانہ نہیں لگا بلکہ ایک ایسا مقام نظر آیا جہاں نظم و ضبط اور انسان دوستی کا امتزاج ایک نئے فکری افق کو چھو رہا تھا جہاں ہر قدم پر محسوس ہوا کہ قید صرف بدن کی نہیں بلکہ شعور کی بھی اصلاح کا ذریعہ بن چکی ہے۔ جیل کی بلند فصیلوں کے پیچھے ہمیں صرف دیواریں نہیں بلکہ ایک نظریہ نظر آیا، ایسا نظریہ جس کی بنیاد محض سزائوں پر نہیں بلکہ اصلاح، تربیت اور انسانی توقیر پر رکھی گئی ہے۔ وہاں موجود قیدیوں کی آنکھوں میں مایوسی نہیں بلکہ مستقبل کا عکس موجود تھا۔ یہ دورہ ہمارے لیے ایک مشاہداتی سفر نا تھا بلکہ ایک فکری اور جذباتی بیداری کا لمحہ بھی تھا جس نے سکھایا کہ اگر نظام نیت اور بصیرت سے آراستہ ہو تو بند دروازے بھی شخصیت کے در وا کر سکتے ہیں۔ اڈیالہ جیل کی اس فکری و اخلاقی نمو کے پیچھے جہاں ادارہ جاتی حکمتِ عملی کار فرما ہے وہیں چند درخشندہ شخصیات ایسی بھی ہیں جنہوں نے اس ادارے کواپنے کردار، جذبے اور خلوص سے نئی روح عطا کی۔ ان میں سرِفہرست سپرنٹنڈنٹ غفور انجم ہیں جن کی شخصیت انتظامی سختی اور انسانی ہمدردی کا ایسا حسین امتزاج ہے جو قیدیوں کے لیے خوف نہیں بلکہ اعتماد کی علامت بن چکی ہے۔ ان کا طرز ِ عمل اس بات کی زندہ مثال ہے کہ قیادت صرف احکامات سے نہیںبلکہ کردار سے پنپتی ہے۔ انکے نظم و ضبط سے مزین مگر دلنواز رویے نے جیل کے ماحول کو صرف محفوظ ہی نہیں بلکہ پُر امن بھی بنایا۔ اسی سلسلہ فہم و ضبط میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ الفت نسیم کا نام بھی قابلِ ذکر ہے، ان کی شخصیت میں وہ بذلہ سنجی، معاملہ فہمی اور عملی بصیرت ہے جو کسی بھی نظام ِاحتساب کو حقیقی انسانی خدمت میں ڈھالنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انکی موجودگی جیل کے نظم و نسق میں ایک ایسی ضامن حیثیت رکھتی ہے جہاں سختی کے ساتھ اخلاق کی نرمی ہم آہنگ ہو کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیتی ہے جو قیدیوں کے قلب و ذہن پر اثر انداز ہو سکے۔ جب بات انسانی روح کی گہرائیوں میں جھانکنے کی ہو تو وہاں ماہرِ نفسیات سارہ غضنفر کا کردار مثلِ خورشید سامنے آتا ہے۔ ان کی علمی گہرائی، مشتفقانہ لب و لہجہ اور نفسیاتی تدبر نے درجنوں قیدیوں کو حوصلہ، امید اور ذہنی سکون عطا کیا جن کے اندر ماضی کا بوجھ ایک بھاری زنجیر بن چکا تھا۔ سارہ غضنفر فقط ایک ماہر نفسیات نہیں بلکہ ایک مرہم، ایک گوشِ شنوا، ایک نجات دہندہ کی حیثیت رکھتی ہیں جنہوں نے دکھتے ذہنوں کو دوبارہ جینے کا سلیقہ بخشا۔ ان جیلوں کے افسران، مشیران اور نفسیات دان سب کے سب اب فقط نگہبان نہیں بلکہ مربی، محسن اور مرشد ہیں۔ جیل خانہ جات کا محکمہ اب محض محافظ ِ در و زندان نہیں بلکہ ایک ایسا حکیم بن چکا ہے جو معاشرے کے زخم خوردہ ناسوروں پر مرہم رکھتا ہے۔ حکومتِ پنجاب کی اس کوشش کا مقصد صرف جیلوں کی حالت میں بہتری نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرتی نظام قائم کرنا ہے جس میں ہر فرد کی عزت و وقار کا تحفظ ہو اور جو خطا کے باوجود اپنی اصلاح اور بحالی کی راہوں پر گامزن ہو سکے۔

مزیدخبریں