بلوچستان! کالعدم تنظیمیں اور ڈیجیٹل دہشت گردی

08:53 AM, 21 Apr, 2025

سوشل میڈیا کے استعمال کے مثبت اور منفی دونوں قسم کے پہلو سے انکار ممکن نہیں۔ یہ موجودہ صدی کا سب سے بڑا انقلاب ہے جس نے پوری دنیا کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ انسان نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پوری دنیا سمٹ کر اس کے ہاتھوں میں ایک موبائل ڈیوائس کے ذریعے سما جائے گی۔ گویا سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو صحیح معنوں میں ایک گلوبل ویلج کی شکل دے دی ہے۔ سوشل میڈیا اس وقت دنیا کا برق رفتار ہتھیار ہے، مختلف سوشل میڈیا ایپلی کیشنز نے پوری دنیا میں رہنے والے آٹھ ارب سے زائد افراد کو اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، جو ڈیجیٹل عہد کہا جاتا ہے۔ دور حاضر کے تقاضوں سے عہدہ برا ہونے کے لیے سوشل میڈیا کو ذمہ داری سے استعمال کرنا بہت اہم ہے، تا کہ اس کے مثبت پہلوئوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور منفی اثرات سے بچا جا سکے۔ سوشل میڈیا نے مطالعے کے ذریعے نئے رجحانات کی ابتدا کی ہے۔ آن لائن لائبریریاں، ای بکس دستیاب ہیں جنہیں ہم اپنی مرضی سے جب چاہیں پڑھ سکتے ہیں، کسی بھی موضوع پر بروقت معلومات جیسے صحت، سپورٹس اور دیگر موضوعات کی اپ ڈیٹس فراہم کرتا ہے۔ سوشل میڈیا آن لائن تعلیم کی ضمن میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مختلف فورم کے ذریعے بے شمار لوگوں کو آن لائن روزی کمانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس کے منفی پہلو بھی انتہائی خطرناک ہیں۔ اس تناظر میں اگر اب ڈیجیٹل ٹیررازم کے اصطلاح استعمال کی جا رہی ہیں تو وہ کسی طرح بھی غلط نہیں ہے عصر حاضر میں قوموں اور ملکوں کے خلاف جنگو ں کے روایتی طریقے اب فرسودہ تصور کر کے متروک ہوتے جا رہے ہیں، اس وقت اگر کسی ملک کے خلاف جنگ میں کوئی مؤثر اور مہلک ہتھیار ہو سکتا ہے تو وہ پروپیگنڈے کا ہتھیار ہے جو اس وقت پاکستان خصوصاً بلوچستان کے دشمن بھر پور طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں درپیش معاشی چیلنج سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں، وہاں پر دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لیے ہماری بہادر سکیورٹی فورسز اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر اندرونی و بیرونی ملک دشمنوں سے برسرپیکار ہیں۔ بلوچستان میں بی ایل اے، بی ایل ایف، بی آر پی جیسی دیگر کالعدم دہشت گرد تنظیمیں اپنے مذموم مقا صد کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھر پور طاقت اور بیرونی وسائل کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں۔ بی وائی سی، پانک، بساک، بلوچ وومن فورم اور دیگر دہشت گردوں کی پراکسیز کی طرف سے پاکستان کی ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کن پراپیگنڈا مہم بڑی شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔ ملک دشمن ایجنٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستان کی سلامتی و بقا کو خطرے میں ڈالنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان میں انتشار اور انارکی صوتحال پیدا کر دی جائے۔ بلوچستان میں بلوچ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے بھارت سمیت دیگر دشمن ممالک میں بیٹھے ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا اکائونٹس کو ہینڈل کر رہے ہیں۔ جس کا مقصد عوام کو گمراہ کن خبروں، قیاس آرائیوں اور افواہوں کے ذریعے ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانا ہے۔ یہ ڈیجیٹل دہشت گرد کبھی پاکستان کے سری لنکا بننے کی پیش گوئی کرتے ہیں، کبھی یہ اسے بنگلہ دیش بنانے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں، کبھی کسی کی پگڑی اچھالتے کبھی کسی کی ٹرولنگ کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل دہشت گردی اور ففتھ وار جنریشن نئے چیلنجز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں روایتی دہشت گردی کے برعکس ڈیجیٹل دہشت گردی زیادہ خطرناک ہے۔ بلوچستان میں شدت پسند، علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیمیں اپنے غیر ملکی آقائوں جن میں خصوصاً بھارت ملوث ہے نے ڈیجیٹل دہشت گردی کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے۔ ڈیجیٹل دہشت گردی کا مقصد پاکستانی قوم میں نفاق اور مایوسی پھیلانا ہے۔ فوج کو کمزور کرنا ہے جو پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، مگر دشمن عناصر پچھلے 78 سال سے فوج اور قوم کے اعتماد کو رشتے کو نہ کمزور کر سکے ہیں اور نہ کر سکیں گے۔ اس وقت بلوچستان میں دشمن عناصر اپنے جھوٹے بیانیوں، ڈیپ فیک ویڈیوز اور نفسیاتی حربوں سے عوام کوبغاوت کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ ہمارے دشمن صرف وہ نہیں جو سرحد پار بیٹھے ہیں، بلکہ وہ بھی ہیں جو ہماری صفوں میں گھسے ہوئے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو سوشل میڈیا پر جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلاتے ہیں، قوم کو تقسیم کرتے ہیں اور دہشت گردی کو ’’مزاحمت‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ اس وقت بلوچستان میں کوئی آزادی کی جنگ نہیں لڑی جا رہی بلکہ اپنے ذاتی مفادات کی لڑائی ہے، جس کو بلوچ یکجہتی جیسی جعلی کمیٹیاں، پانک جیسے انسانی حقوق کے نام نہاد ادارے سوشل میڈیا کے ذریعے سے تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو محرومیوں اور ریاستی ناانصافیوں کی جھوٹی کہانیاں سنا کر ریاست کے خلاف گمراہ کر رہے ہیں۔ آج سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کا سدباب کرنا سول اور عسکری قیادت کا ایک اہم فیصلہ ہے۔ آج ملک دشمن خفیہ ایجنسیاں ہمارے خلاف اسی ہتھیار کو استعمال کر رہی ہیں۔ اس وقت بلوچستان میں ملک دشمن ایجنٹ اپنے بیرونی آقائوں کے ایما پر ’’مسنگ پرسن‘‘ کے جھوٹے اور من گھڑت ڈرامے کو پیش کر کے سوشل میڈیا پر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی ہمدردی اور مالی فنڈنگ حاصل کی جا رہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دشمن اب جنگ کے میدانوں کے بجائے ہمارے ذہنوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حملہ آور ہو چکے ہیں۔ ریاست پاکستان نے سوشل میڈیا پر جھوٹے پراپیگنڈے اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے قلع قمع کرنے کے لیے جامع اقدامات اٹھائے ہیں۔ سول اور عسکری قیادت یہ تہیہ کر چکی ہے کہ ڈیجیٹل محاذ پر دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ بحیثیت ایک مسلمان ہمیں حکم خداوندی ہے کہ ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لاعلمی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو اور پھر تمہیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے‘‘ مگر سوشل میڈیا کہتا ہے کہ Forwarded As Received ہے۔ آج من حیث القوم ہماری ذمہ داری ہے کہ ہمارے پاس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے جب کوئی خبر آئے تو ہم پہلے تحقیق کریں اور پھر اس کو آگے پھیلائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم غلطی میں کسی جھوٹ کو آگے پھیلا بیٹھیں۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں ریاستی اداروں کے خلاف سب سے زیادہ جھوٹ پھیلانے والی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سوشل میڈیا ٹک ٹاک پر 107 اکائونٹس ہیں جن سے ریاست کے خلاف منفی پراپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں