فٹ بال، ہاکی اور کرکٹ دنیا کے متعدد ممالک میں کھیلی جاتی ہے۔ کرکٹ برطانیہ کے گوروں کا کھیل تھا۔ برطانیہ کا تسلط جہاں بھی قائم ہوا یہ کھیل وہاں پہنچ گیا۔ برطانیہ نے لاکھ کوشش کی کہ وہ ملک بھی اس کھیل میں شامل ہو جائیں جہاں گوروں کی حکومت نہیں لیکن بیشتر ممالک اس پر تیار نہ ہوئے۔ وہ خاص طور پر ٹیسٹ میچ کو وقت کا زیاں سمجھتے ہیں اور کسی حد تک حق بجانب ہیں۔ ہاکی کا کھیل ایشیا میں زیادہ مقبول تھا۔ ہاکی یورپ میں بھی کھیلی گئی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پیچھے رہ گئی۔ فٹ بال دنیا میں مقبول ترین کھیلوں میں سرفہرست ہے۔ امریکہ یورپ، ایشیا مڈل ایسٹ غرضیکہ فٹ بال کے دیوانے ہر جگہ پائے ہیں اور تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ سیاسی میدان میں اہم ترین میچ چین اور امریکہ کے درمیان کھیلا جا رہا ہے۔ دونوں ملکوں میں کرکٹ اور ہاکی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن فٹ بال حد درجہ مقبول کھیل ہے۔ سیاسی میچ اسی قدر تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے جس رفتار سے فٹ بال، ایک طرف سے کک پڑتی ہے تو دوسری ٹیم کے ہاف میں پہنچ جاتا ہے۔ ایک بال کھلاڑی سے مس ہو جائے تو مخالف کھلاڑی اسے ڈی تک پہنچا دیتا ہے۔ کھیل کے پہلے پندرہ دنوں میں امریکہ کا پلہ بھاری رہا۔ امریکی ٹیم کے کپتان ڈونلڈ ٹرمپ نے خلاف توقع تیز رفتاری سے کھیل کا آغاز کیا اور چین کو پریشان کیا لیکن اب چین سنبھل گیا ہے۔ کھیل اس کے کنٹرول میں آگیا ہے، بال زیادہ تر اس کے پاس نظر آرہا ہے۔ وہ ابتدا میں دفاعی کھیل کھیلتا رہا لیکن اب اس نے حکمت عملی تبدیل کی ہے اور جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے امریکہ کی ڈی میں گھس کر تابڑ توڑ حملے کئے ہیں، جن سے کچھ دیر کیلئے ٹرمپ پریشان بھی ہوا ہے۔ ٹرمپ کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ وہ چین سے سالانہ 439 بلین ڈالر کی درآمد کرتا ہے جبکہ وہ چین کو اس کے مقابلے میں 145 بلین ڈالر کا مال ایکسپورٹ کرتا ہے یوں دونوں ملکوں کی تجارت میں 294 بلین ڈالر کا فرق ہے جسے امریکہ تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود بہت زیادہ کم نہ کر سکے گا اور اس حوالے سے جتنی کوششیں کی جائیں گی اس کا نقصان امریکہ کو ہو گا۔ حیران کن حد تک امریکہ کی طرف سے دنیا بھر کے ملکوں اور خاص طور پر چین پر لگائے جانے والے ٹیرف کے جواب میں چین نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے، جس کا فوری نقصان ا مریکہ کو یوں اٹھانا پڑا کہ امریکہ کے نامور برانڈ بنیادی طور پر چین میں تیار ہوتے ہیں یوں سمجھ لیجئے کہ پانچ ڈالر میں تیار ہونے والا پرس امریکہ میں سو ڈالر اور سو ڈالر والا بیگ یا سوٹ امریکہ میں پانچ سو ڈالر میں بکتا تھا۔ ٹیرف میں اضافے کے بعد امریکی تاجر پریشان ہو گئے۔ انہوں نے جو ایڈوانس دے کر اپنے آرڈر بک کرائے تھے وہ تیار ہو گئے لیکن بڑھتے ہوئے ٹیرف کے باعث وہ باقی ادائیگیاں کر کے مال اٹھانے کی پوزیشن میں نہ رہے۔ نوٹس کے باوجود جب مال نہ اٹھایا گیا تو ایڈوانس کی رقم ضبط ہو گئی، سودا کینسل ہو گیا اور چین نے دنیا کے بہترین برانڈ تمام دنیا کو اونے پونے فروخت کرنے کی آفر کے ساتھ ساتھ لوکل باشندوں کو لاگت کے برابر قیمت پر سب کچھ فروخت کرنا شروع کر دیا۔ دو ارب آبادی ان بین الاقوامی برانڈز کو یوں ہاتھوں ہاتھ لے رہی ہے گویا وہ مفت میں مل رہے ہوں، حقیقتاً ایسا ہی ہے۔ سو ڈالر میں بکنے والا مال پانچ ڈالر میں ملے تو اسے مفت ہی سمجھا جاتا ہے۔ لڑائی کب ختم ہو گی۔ معاملات کہاں طے پائیں گے، نئی شرائط کیا ہوں گی۔ نئی قیمتیں کیا ہوں گی، نئے آرڈر کب بک ہوں گے، کب تیار ہوں گے اور کب ڈلیور ہوں گے۔ اس میں آئندہ دن نہیں بلکہ کئی ہفتے اور مہینے لگیں گے جب تک امریکی کمپنیاں، امریکی کاروباری شخصیات دیوالیہ ہو چکی ہوں گی۔چین نے امریکہ کو رئیل ارتھ میٹریل کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے چینی صدرویت نام اور ملائیشیا کا دورہ کرنے کے بعد ان سے معاہدے کر چکے ہیں اور ان ملکوں کو بہتر قیمت پر یہ چیزیں خریدنے کی آفر دے رہے ہیں، ان کی حکمت عملی ہے کہ دور جدید کی اہم ترین ضرورت یہ معدنیات ہیں۔وہ امریکہ تک ان کی سپلائی روک رہے ہیں۔ انہوں نے میچ کو فیصلہ کن مرحلے تک لے جانے کا ارادہ ظاہر کر دیا
ہے، جس سے امریکہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ معدنیات کے حصول کیلئے اب امریکہ یوکرین کی طرف دیکھ رہا ہے لیکن وہاں اس کے سامنے روس اور برطانیہ دونوں کھڑے ہیں جو اسے ترنوالہ حلق سے اتارنے نہ دیں گے۔ دنیا میں تیار ہو کر فروخت ہونے والا 80فیصد آئی فون چین بناتا ہے۔ بھارت 20فیصد تیار کرتا ہے۔ امریکہ اس گیپ کو بھارت کے ذریعے پر کرنا بھی چاہے تو اسے کئی برس لگیں گے۔ چین دنیا کی سستی ترین کار مارکیٹ میں لا چکا ہے، جس کا مقابلہ کرنا امریکی جاپانی کار کے بس میں نہیں۔ اس میدان میں بھی چین دنیا سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے تمام ملکوں میں استعمال ہونے والی کنزیومر گڈز کا 70فیصد چین سپلائی کرتا ہے۔ اس خلا کو بھی امریکہ اور یورپ مل کر بھی پورا نہیں کر سکتے، معاملہ پھر قیمت کا آتا ہے، چین کی سستی ترین بجلی اور لیبر نے دنیا کو پچھاڑ دیا ہے، اس کا کوئی مقابل نہیں۔ چین کا اگلا ہدف زیادہ آبادی والے ممالک سے بہتر تجارتی اور سفارتی تعلقات ہیں۔ چین روس بھارت بڑے آبادی والے ممالک ہیں، اس کے بعد اسی گروپ میں ایران، بنگلہ دیش، مڈل ایسٹ اور پاکستان ایسی مارکیٹ ہیں جہاں چین کا سامان بکتا ہے۔ یورپ اس پر انحصار کئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا لہٰذا اس پس منظر میں چین کسی بھی طور کسی بھی خسارے میں نہیں رہے گا۔ اس کی مشینیں اس کی لیبر ماضی کی طرح دن رات کام کرتی رہے گی، اس کا مال بکتا رہے گا۔ چین کی نئی مارکیٹوں میں افریقہ بھی شامل ہو چکا ہے، جسے چین کا سامان زیادہ کم قیمت پر ملے گا۔لوکل کرنسی تجارت کی سہولت بھی ملے گی۔ چینی صدر شی پنگ نے ایشیا کو بیدار ہونے کی کال دے دی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ سے جان چھڑانے کا وقت آگیا ہے، ہمیں یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ میچ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوا چاہتا ہے، فتح ہماری ہی ہو گی۔ بادی النظر میں یوں لگتا ہے امریکہ صرف خود ہی نہیں ڈوبے گا بلکہ اس صف بندی میں اس کے ساتھ یورپی ملک کھڑے ہوئے تو ان کی معیشت کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔ امریکہ نے اپنے پائوں اکھڑتے دیکھ کر نومنتخب کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی سے بیان دلوایا ہے کہ اسے اصل خطرہ چین سے ہے۔ چہ پدی چہ پدی کا شوربہ۔ کینیڈا چین کا کبھی ہدف رہا ہی نہیں، نہ ہی اس کی اتنی اوقات ہے۔ کچھ عجب نہیں میچ ختم ہونے کی سیٹی بجے تو معلوم ہو امریکہ درجن بھر گول سے میچ ہار گیا ہے اور ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا ہے۔
سیٹی بجنے کے بعد
08:52 AM, 21 Apr, 2025