واشنگٹن: امریکی صدر نے ایچ ون اور ایچ ون بی ویزا پر نئی فیسیں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 21 ستمبر سے نافذ ہوں گی۔ اس کے تحت ویزا لینے یا تجدید کروانے والے افراد کو ایک لاکھ ڈالر جمع کروانے ہوں گے، جس سے بھارت سمیت دیگر ممالک کے ہزاروں سکلڈ ورکرز متاثر ہوں گے۔
یہ ویزا بنیادی طور پر ماہر کارکنوں کے لیے ہے، لیکن امریکی حکام کے مطابق اس کا ناجائز استعمال بھارتی شہریوں کی جانب سے بڑھ رہا تھا۔ بھارت کو ایچ ون اور ایچ ون بی ویزا کا سب سے زیادہ حصہ حاصل تھا، جس کی وجہ سے نئی پالیسی کا سب سے زیادہ اثر بھارتیوں پر پڑے گا۔
گزشتہ سال بھارت نے منظور شدہ ایچ-1بی ویزا ہولڈرز میں 71 فیصد حصہ لیا، جبکہ چین کا حصہ 11.7 فیصد تھا۔ 2025 کے پہلے نصف سال میں ایمیزون، مائیکروسافٹ اور میٹا جیسی بڑی کمپنیوں کو ہزاروں ویزا دیے گئے۔
امریکی بڑی ٹیکنالوجی، بینکنگ اور کنسلٹنگ کمپنیوں نے اس فیصلے پر فوری ردعمل دینے سے گریز کیا۔ واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانہ اور نیو یارک میں چینی قونصل خانے نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
کونزیٹنٹ ٹیکنالوجی سلوشنز کے شیئرز تقریباً 5 فیصد گر گئے، جب کہ انفوسیس اور ویپرو کے شیئرز میں بھی 2 سے 5 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ‘کمزور وزیر اعظم’ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی، اور کہا کہ امریکی فیصلے سے بھارت کے لاکھوں ویزا ہولڈر متاثر ہوں گے۔
امریکہ کے اس اقدام پر بھارتی صارفین نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیا ہے، جہاں تشویش اور غم و غصے کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ طویل المدتی اثرات کا باعث بن سکتا ہے اور امریکہ میں رہائش پذیر بھارتیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو گا۔