تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران سے مذاکرات کی دوبارہ بحالی کی پیشکش کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی غلط قرار دیا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے کہا، "امریکی صدر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، تو بہت خوب، انہیں خواب دیکھنے دو۔"
انہوں نے مزید کہا کہ کیا امریکہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ ایران کے پاس جوہری تنصیبات ہونی چاہئیں یا نہیں؟
آیت اللہ خامنہ ای نے ٹرمپ کی مذاکرات کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "ٹرمپ خود کو معاہدہ کرنے والا شخص سمجھتے ہیں، مگر اگر کوئی معاہدہ دباؤ، دھمکیوں اور پہلے سے طے شدہ نتائج کے تحت کیا جائے تو وہ معاہدہ نہیں بلکہ جبر ہوتا ہے، جو مسلط کیا جاتا ہے۔"
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے لیے یہ مفید ہوگا اگر وہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کی بات چیت کر سکے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جون میں 12 روزہ جنگ کے بعد ختم ہوگئے تھے، جس میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی متعدد جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔