معاشی استحکام کیلئے کاروبار میں 10 گنا اضافہ ناگزیر ہے: ایس ایم تنویر

06:16 PM, 20 Oct, 2025

اسلام آباد :یونائیٹڈ بزنس گروپ کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی ترقی اور ٹیکس نیٹ کے فروغ کیلئے کاروباری سرگرمیوں کو 10 گنا وسعت دینا ہو گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر بجلی مہنگی ہے تو صنعتکاروں اور کاروباری طبقے کو چاہیے کہ وہ سولر انرجی جیسے متبادل ذرائع استعمال کریں تاکہ پیداواری لاگت میں کمی آئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت بین الاقوامی سطح پر عزت حاصل کر رہا ہے، اور ہمیں بھی بطور قوم اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ جتنا زیادہ کاروبار پھیلے گا، اتنے ہی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور حکومت کو ٹیکس کی صورت میں زیادہ ریونیو حاصل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سیاست سے وابستہ نہیں بلکہ صرف معاشی بہتری کے خواہاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صحت اور تعلیم کے شعبوں پر 3.2 ٹریلین روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن نتائج بہتر بنانے کیلئے مزید سنجیدہ کوششیں درکار ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی مثال دی جنہوں نے اپنا بچہ سرکاری سکول میں داخل کروایا، جو اصلاحات پر اعتماد کی علامت ہے۔

ایس ایم تنویر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے پاس تیل، معدنیات اور دیگر قیمتی ذخائر موجود ہیں، اس کے باوجود ہم عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کے محتاج ہیں، جو نظام کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ انتظامی بہتری کیلئے ملک کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ  اگر پاکستان میں 33 ڈویژنز ہیں تو 33 صوبے کیوں نہیں؟‘‘۔ ان کے مطابق بھارت نے 1947 میں 9 صوبوں سے آغاز کیا اور آج 30 سے زائد صوبے بنا لیے ہیں، جبکہ پاکستان آج بھی صرف 4 صوبوں تک محدود ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ جب تک اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوں گے، بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے، لیکن ہمیں بھی بطور شہری اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔

مزیدخبریں