لاہور:پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کمزور پڑنے لگی ہے، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے حکومتی اتحاد میں اپنی پوزیشن پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پارٹی رہنماؤں کی شکایات پر متعلقہ حلقوں سے بات کرنے اور ن لیگ قیادت سے معاملہ اٹھانے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں منعقدہ پارٹی اجلاس کے دوران اکثریتی رہنماؤں نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ بعض ارکان نے یہاں تک تجویز دی کہ اگر صورت حال یہی رہی تو پارٹی کو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ جانا چاہیے۔
اجلاس کے شرکاء نے صدر زرداری پر زور دیا کہ وہ اتحادی رویے میں رکاوٹ ڈالنے والے عوامل سے متعلق "متعلقہ حلقوں" کو اعتماد میں لیں اور واضح پیغام دیں کہ مریم نواز کی قیادت میں سیاسی تعاون ممکن نہیں۔
اس موقع پر صدر زرداری نے کہا کہ وہ ایک ماہ کے اندر سیاسی سطح پر بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ پارلیمانی لیڈر علی حیدر گیلانی کے مطابق زرداری جلد نواز شریف سے ملاقات میں یہ معاملات براہِ راست اٹھائیں گے۔
اجلاس میں قومی سلامتی سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی، جہاں زرداری نے ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سیاسی قیادت کو قومی اتحاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
زرداری نے اس بات کو دہرایا کہ پارٹی کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو صرف ایک صوبے تک محدود ہو، اور ہر اقدام پورے ملک میں یکساں پالیسی کے تحت کیا جائے گا۔