پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مسلح جھڑپوں نے خطے کے امن کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ دو برادر مسلم ممالک، جو ایک طویل سرحد، مذہب، ثقافت اور تاریخ کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، اب بارود اور دھوئیں کے بادلوں میں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ جنگ کیوں چھڑی؟ اس کے پسِ پردہ قوتیں کون سی ہیں؟ اور اس کے اثرات کتنے دور رس ہو سکتے ہیں؟ آئیے اسکا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
افغان طالبان حکومت کو اس وقت شدید داخلی بحران کا سامنا ہے۔ معاشی بدحالی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اور بین الاقوامی تنہائی نے کابل حکومت کو عوامی غصے کا نشانہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو دشمن بنا کر داخلی دباو¿ کم کرنا طالبان کے لیے ایک سیاسی حکمتِ عملی بن گئی ہے ۔
تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے ساتھ انکی نظریاتی اور تنظیمی قربت نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ کابل حکومت نے TTP کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں کھل کر سہارا دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان کے لیے صبر ممکن نہ رہا۔ افغان سرزمین سے پاکستان کے سرحدی علاقوں ژوب، چمن اور شمالی وزیرستان پر حملوں نے براہِ راست ہماری قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا۔
پاکستان کی جوابی کارروائی دراصل دفاعی نوعیت کی تھی۔ کابل اور قندھار کے اطراف میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں اسامہ گارڈن جیسے ناموں سے جانا جاتا تھا۔ اسامہ گارڈن کی افغان طالبان کے لئے علامتی اہمیت تھی۔ پاکستان دہشت گردی کی خطے میں تمام علامتوں کو ختم کر کے عالمی سطح پر اپنی امن و استحکام سے متعلق پالیسی واضح کر دینا چاہتا ہے۔ ان مراکز سے تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان کے دہشت گرد پاکستان کے اندر کارروائیاں کر رہے تھے۔ یہ حملے افغان عوام یا حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ان عناصر کے خلاف تھے جو افغانستان کی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔ پاکستان کی یہ حالیہ عسکری کارروائیاں نہایت محدود، درست نشانے پر مبنی اور خالصتاً دفاعی تھیں۔
پاکستان کی جوابی کارروائی سے قبل واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان خاموش رابطے ہوئے۔ امریکہ اس وقت طالبان حکومت سے سخت نالاں ہے کیونکہ کابل انتظامیہ نے نہ تو خواتین کے حقوق پر وعدے پورے کیے نہ شمولیتی حکومت قائم کی۔ مزید یہ کہ طالبان نے چین اور روس کے قریب جا کر امریکہ کو مزید ناراض کر دیا۔ ایسے میں واشنگٹن کے لیے پاکستان کا ردعمل دوہرا فائدہ رکھتا تھا امریکہ چاہتا تھا کہ ایک طرف طالبان کو سخت پیغام ملے، دوسری طرف چین کے اثرو رسوخ کو محدود کیا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے پسِ پردہ گرین سگنل دے کر پاکستان کو جوابی کارروائی کی اخلاقی اور سفارتی چھوٹ دے دی۔
گزشتہ برس چین نے بڑی کوشش سے چین۔پاکستان۔افغانستان سہ فریقی امن معاہدہ کرایا تھا جس کا مقصد سرحدی تعاون، انسدادِ دہشت گردی اور تجارتی راہداریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔ لیکن طالبان حکومت نے اس انتہائی اہم معاہدے پر عمل درآمد سے گریز کیا۔
وجہ سادہ تھی ،طالبان سمجھتے ہیں کہ چینی سرمایہ کاری اور اثرورسوخ ان کی خودساختہ انقلابی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ یہ وہ غلط فہمی تھی جس نے امن کے نادر موقع کو ضائع کر دیا اور خطے کو ایک نئی محاذ آرائی کی طرف دھکیل دیا۔ طالبان کا پاکستان کے ساتھ تنازع دراصل طاقت کے توازن کا کھیل ہے۔ کابل حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان دباو¿ میں آ کر انہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرے۔ ساتھ ہی طالبان اپنے عوام کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ کسی بیرونی طاقت کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ اسی سوچ کے تحت طالبان ٹی ٹی پی کی پشت پناہی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ”اسلامی بھائی چارہ“ نہیں بلکہ ایک تزویراتی ہتھیار ہے، جس کے ذریعے وہ پاکستان کے اندر سیاسی دباو¿ پیدا کر سکتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پالیسی طالبان حکومت کے لیے الٹا بوجھ بن رہی ہے۔ اشرف غنی حکومت کے خاتمے پر افغان طالبان کی جب اگست 2021 میں کابل واپسی ہوئی تو طالبان صرف افغانستان ہی نہیں پورے خطے میں اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے تھے چنانچہ تحریک طالبان پاکستان قائم کرکے انہوں نے اپنے ایجنڈے کے حوالے سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ اس دوران ہم گڈ اور بیڈ طالبان کی مضحکہ خیز اصطلاحوں میں غلطاں رہے۔
حالیہ پاکستان۔افغانستان جنگ کے اثرات صرف سرحد تک محدود نہیں رہیں گے۔ سب سے پہلے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) براہِ راست خطرے میں ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بڑھتا ہوا عدم استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے۔ اسی طرح ازبکستان۔افغانستان۔پاکستان ریلوے منصوبہ، جو وسطی ایشیا کو گوادر بندرگاہ سے ملانے کا ایک تاریخی منصوبہ ہے، غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔ اگر افغانستان میں بدامنی جاری رہی تو تاپی گیس پائپ لائن اور دیگر توانائی منصوبے بھی تعطل کا شکار ہو جائیں گے۔
عسکری لحاظ سے بھی یہ جنگ دہشت گردی کی نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔ داعش خراسان، TTP اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کو اس انتشار سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، جو پورے خطے خصوصاً پاکستان کے لیے خطرناک ہو گا۔ پاکستان۔ افغانستان جنگ کسی فریق کے حق میں نہیں۔ یہ لڑائی دراصل ان قوتوں کے لیے فائدہ مند ہے جو پاکستان، چین، روس اور خطے کے ابھرتے اتحاد کو کمزور کرنا چاہتی ہیں اور بلا مبالغہ یہ طاقتیں بھارت، اسرائیل اور مغرب ہیں۔
پاکستان کو اس وقت عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ سفارتی بصیرت برقرار رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ چین، روس، ایران اور او آئی سی کے تعاون سے ایک نیا علاقائی امن فریم ورک تشکیل دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان اور عالمی برادری کو طالبان حکومت کو واضح پیغام دینا ہو گا کہ دہشت گردوں کی پناہ اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کی اجازت مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ بات محض ٹی ٹی پی کی ہی نہیں افغان طالبان، القاعدہ، بی ایل اے، داعش، ای ٹی آئی ایم اور دیگر کو خطے میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے افغانستان میں مستحکم اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔
اگر افغان طالبان حکومت نے ہوش سے کام نہ لیا تو یہ جنگ صرف دو سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے جنوبی و وسطی ایشیا کی ترقی، تجارت اور امن کو نگل سکتی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ افغان طالبان بارود کی گونج پر نہیں، مذاکرات کی زبان پر یقین کریں ورنہ تاریخ افغانستان میں ایک اور المیے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ افغانستان کو پاکستان کی عسکری صلاحیت اور استعداد کا اندازہ ہونا چاہئے۔ افغان طالبان یاد رکھیں کہ ماضی میں پاکستان افغانستان کی طاقت تھا لیکن اب انہی طالبان نے اسی طاقتور پاکستان کو افغان طالبان کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ افغان طالبان کو اگر اب بھی پاکستان کی عسکری طاقت کا اندازہ نہیں تو مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد کے بھارت سے پوچھ لیں۔ اگر افغان طالبان نے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والی بھارتی پراکسیوں کو لگام نہ دی اور اپنی روش سے باز نہ آئے تو پاکستان افغانستان کا سرمہ بنا کر رکھ دے گا۔
طالبان کو پاکستان سے دشمنی کتنی مہنگی پڑے گی؟
09:07 AM, 20 Oct, 2025