خودکش حملہ آوروں کی تیاری

09:06 AM, 20 Oct, 2025

پاکستان ملٹری اکیڈیمی میں پاسنگ آﺅٹ کے موقع پر آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خطاب پاکستان میں نہایت توجہ سے سنا گیا جبکہ ہمارے ہمسایہ ملکوں میں بالخصوص بھارت اور افغانستان میں اس پر اپنے اپنے انداز اور اپنی اپنی ضرورت کے مطابق تبصرے جاری ہیں۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز، ان کے حل اور پاکستان کی پالیسی کے حوالے سے دو ٹوک موقف اختیار کیا گیا ہے، وہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا کہ جب بھی بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کی پاکستان نے اس کا نرم لہجے میں جواب دیا۔ بھارت نے اسے ہماری کمزوری جانا، ماضی کی سول حکومتیں ضرورت سے زیادہ نرم خوئی کا مظاہرہ کرتی رہیں، ان کا زور دوستانہ تعلقات، ثقافتی وفود کے تبادلوں، کرکٹ مقابلوں اور دونوں طرف کے فنکاروں کے دوروں پر نظر آیا اور بھارت کی طرف سے کسی بھی موقع پر اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دیا گیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ اس طرزعمل کو بدلیں گے۔ وہ ان قومی توقعات پر پورا اترے ہیں۔ انہوں نے مختلف موقعوں پر جس لہجے میں پاکستان دشمن عناصر کو مخاطب کیا ہے، اس کے سبب اب ان کی صفوں میں کھلبلی نظر آتی ہے۔ یہ عناصر اب پسپا ہو رہے ہیں جنہوں نے ابھی تک پسپائی کا نہیں سوچا، انہیں گولی کا جواب راکٹ سے، دراندازی کا جواب آرٹلری سے اور بارودی سرنگیں بچھانے والوں کو لڑاکا طیاروں کی سٹرائیکنگ سے موثر ردعمل ملے گا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد سے ہماری خارجہ اور دفاعی پالیسی کا ایک ہی نکتہ تھا ”جیو اور جینے دو“ لیکن بھارت نے ہمیں پرامن انداز میں جینے دیا نہ خود جینا چاہا حتیٰ کہ مئی 2025ءآگیا اس مہینے میں سکھائے گئے سبق کے بعد بھی بھارت کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی، اس کی طرف سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی طرف سے کسی بھی کارروائی کا پہلے سے زیادہ طاقت سے جواب آئے گا لہٰذا وہ صرف دھمکیوں پر گزارا کرتا رہا، اس کا مقصد پاکستان میں مستقل طور پر بے چینی کا ماحول برقرار رکھنا ہے، اس کی سطحی سوچ کی سیاسی اور فوجی قیادت اس بات کا ادراک نہیں کر سکی کہ یہ بے چینی جب بڑھتی ہے تو اس کا اثر بھارت پر بھی پڑتا ہے۔ بھارت ایک بڑا ملک، بڑی آبادی اور بڑی معیشت ہے۔ اسی اعتبار سے بڑھتی ہوئی بے چینی پاکستان کی نسبت بھارت کو پانچ گنا زیادہ متاثر کرتی ہے، جس کا پہلا اور سب سے خطرناک اثر بھارت کی معیشت پر پڑتا ہے۔ بھارت کو اپنے دماغ سے یہ خیال خام نکال دینا چاہئے کہ یورپ اس کی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے آگے بڑھے گا، ایسا ماضی میں ہوتا رہا ہے لیکن یہ سب ماضی کی باتیں ہیں، اب صرف بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی بڑی معیشتوں کے سامنے چین ایسے جن کی طرح کھڑا ہے جو ایک غلط فیصلے یا بے کار کی جنگوں میں الجھنے والوں کو نگل جائے گا۔
بھارت کو اس خطرے کا ادراک کرتے ہوئے جنگ کی بجائے امن کو جگہ دینی چاہئے۔ بھارتی میڈیا آج بھی حکومتی پالیسی کے تحت پاکستان کو للکارنے اور اپنے عوام میں جنگی جنون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کم علم اور کم عقل بھارتی سمجھتے ہیں کہ بھارتی میڈیا شاید بھارت کی بہت بڑی خدمت انجام دے رہا ہے تو ایسا نہیں۔
بھارت نے اپنے جذبہ انتقام کی تسکین کیلئے اب افغانستان کا کندھا استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بھارت آئے افغانستان کے وزیر خارجہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا، بصد اصرار ان کے دورہ بھارت کے قیام کو طویل کرنے کے بعد اسے بھارتی میڈیا نے ”اوورپلے“ کیا، ان کا خیال تھا کہ ان کے اس عمل سے پاکستان میں رقابت کے جذبات پیدا ہوں گے، ایسا نہیں ہوا۔ افغانستان کے بھارت سے تعلقات اور تجارت میں اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان کو اس کا نقصان نہیں فائدہ ہو گا۔ آج افغانستان کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک چلے جائیں، آپ کو ہر چیز ”میڈ ان پاکستان“ ملے گی۔ پاکستانی مصنوعات افغانستان میں جائز اور ناجائز دونوں ذرائع سے پہنچتی ہیں۔ ان میں اہمیت کی حامل آٹا، چینی، دالیں، کپڑا، کوکنگ آئل، گندم، گوشت اور درجنوں دیگر اشیا ہیں۔ ان تمام اشیا میں سے اگر کسی حد تک کچھ اشیا بھارت سے خریدی جاتی ہیں تو پاکستان میں ان چیزوں کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ چیزیں سستی ہو جائیں گی، یوں پاکستان کے عوام کو ریلیف ملے گا۔ بھارت اور افغانستان دونوں کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ بھارتی مصنوعات کو افغانستان پہنچانے میں اس کے ترسیلی اخراجات کیا ہوں گے۔ افغانوں کو بھارت میں تیار کی جانے والی ماروتی کار، پان چھالیہ یا مہنگے آئی فون سے زیادہ دلچسپی نہیں۔ بھارتی مال کے پہنچنے سے بہت پہلے چین اس مارکیٹ پر قبضہ کر چکا ہے۔ افغانستان سی پیک میں حصہ دار بن رہا ہے اور چین اس کے علاوہ افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ بھارتی مصنوعات چینی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ یہ بات سمجھنے کیلئے بس ایک نکتہ ہی کافی ہے۔ بھارت کی ماروتی کار یا الیکٹرک گاڑی دنیا کے کتنے ملک خریدتے ہیں اور چین کی تیارکردہ موٹرسائیکلیں اور چھوٹی بڑی الیکٹرک گاڑیاں یورپ تک پہنچ چکی ہیں۔ بھارت اسلحہ کی تجارت میں نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ چین اور پاکستان کے تیار کردہ لڑاکا جہاز میزائل اور ریڈار سسٹم اب ان تمام ممالک کی ضرورت بن چکا ہے جو مہنگا سامان جنگ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ، بیشتر ملک ایسے ہیں جنہیں کسی سے جنگ تو نہیں کرنی لیکن انہیں اپنی فوج اور ائیرفورس کی تربیت کے لئے بہت کچھ درکار ہوتا ہے۔ اسرائیل کے ایران پر حملے، ایران کے مو¿ثر جواب، امریکہ کے ایران پر حملے، بھارت کے پاکستان پر حملے اور اس کے مو¿ثر ترین جواب، ایران کے اسرائیل پر جوابی میزائل حملوں اور فلسطینیوں کی طرف سے ڈرون یلغار کے بعد مستقبل کی جنگوں میں مختلف اسلحہ استعمال ہوتا نظر آئے گا۔ اس اسلحے کی تیاری میں پاکستان اور چین بھارت سے بہت آگے ہیں جبکہ افغانستان کو تو ابھی روٹی کے لالے پڑے ہیں، انہیں اور دنیا کے دیگر کم وسائل رکھنے والے ممالک کو چین کی عدم جارحیت پالیسی سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ چین نے اپنی آزادی سے لے کر بعد کے کم از کم ساٹھ برس نہایت خاموشی سے اپنی انڈسٹری کو ترقی دی ، وہ اللے تللوں سے دور رہا، اس نے اپنی قوم کی تعلیم و تربیت پر توجہ دی ، سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیا اور سب کچھ اپنی آہنی دیوار کے پیچھے چھپائے رکھا، چین نے دنیا کیلئے اپنے دروازے اس وقت کھولے جب وہ زندگی کے ہر معاملے میں خود کفیل ہونے کے علاوہ دنیا کے ہر کونے تک اپنا مال پہنچانے کے قابل ہو چکا تھا۔ بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان سے جنگ کا خیال دل سے نکال دیں، دونوں کو بڑی ناکامی ہوگی۔ اب یہ دونوں ملک مل کر خودکش حملہ آوروں کے جتھے تیار کرنے لگے ہیں۔

مزیدخبریں