وطن عزیز مسلح جتھوں، پراکسی دہشتگردوں، حزب المنافقین، سیاسی دشمنوں اور خوارج کے نرغے میں ہے، سکیورٹی فورسز اندرونی اور بیرونی محاذوں پر الجھی ہوئی ہیں، صورتحال انتہائی تشویشناک، اپنوں نے موقع غنیمت جانا اور بلا سوچے سمجھے چڑھ دوڑے۔ عقل و فہم سے کام لیتے، ملکی حالات کا ادراک کرتے تو کبھی سڑکوں پر نہ آتے۔ اعلیٰ حضرت فافضل بریلوی امام اہل سنت عاشق رسول حضرت مولانا احمد رضا خان ؒ کی محبت اور عقیدت میں رِضوی کہلانے والے قائد باقاعدہ جتھے کی شکل میں مسجد رحمة اللعالمین سے نکلے اور بدقسمتی سے تشدد کی علامت بن گئے، رحمت دو عالم نے تو جانی دشمنوں کو بھی دعاﺅں سے نوازا تھا۔ پھر عرض کریں گے اپنے لوگ ہیں مگر حافظ صاحب جوانی کے جوش میں وہ کچھ کر بیٹھے جو نہیں کرنا چاہیے تھا جو کیا وہ ”سب سے اعلیٰ و اولیٰ ہمارے نبی“ کے نام و ناموس پر لبیک کہنے والوں کو ہرگز زیب نہیں دیتا، سڑکوں پر کیوں نکلے غزہ کے شہیدوں اور فلسطینیوں کے قتل عام پر احتجاج کرنا تھا، دو سال تک قتل عام جاری رہا، جماعت اسلامی کے کراچی اور اسلام آباد میں پُر امن مظاہروں کے سوا کسی نے سڑکوں پر نکلنے کی کال نہ دی، دو سال بعد شرم الشیخ میں تاریخی امن معاہدے پر دستخطوں کے بعد جب غزہ میں جشن منایا جا رہا تھا، شہری غزہ میں واپس آ رہے تھے، بیویوں بچوں سے جذباتی انداز میں مل رہے تھے ماﺅں کے قدموں کو آنسوﺅں کی جھڑی میں بوسے دے رہے تھے اپنے شہر لاہور میں مار دھاڑ شروع ہو گئی، فلسطینی بھائیوں کو موت، بھوک اور خوف سے نجات ملی لیکن بدقسمتی سے فتنہ خوارج کے خود کش حملوں اور سکیورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ سے موت، عدم استحکام کے سبب مہنگائی سے بھوک اور سڑکوں پر جتھوں کے پٹرول بموں، غلیلوں اور گولیوں سے خوف پاکستان منتقل ہو گیا۔ افسوس ناک صورتحال یہود و نصاریٰ نے ہمیں درود اور بارود والے مسلمانوں کے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا، ایک سیانے کا قول یاد آیا کہ ہم مساجد کے لیے سر کٹانے کو تیار لیکن مساجد میں سر جھکانے کو تیار نہیں، نبی رحمت کا نام سنتے ہی جھوم جاتے ہیں لیکن آپ کا حکم سنتے ہی گھوم جاتے ہیں، کہتے ہیں میری رگ رگ میں ہے نبی نبی لیکن پڑھتے ہیں نماز کبھی کبھی، شاہدرہ پل اور مرید کے میں جو کچھ ہوا، کاش وہ نہ ہوتا، طبل جنگ بجا دیا گیا ایک طرف مسلمان پولیس کی قطاریں دوسری طرف ”جنتی مجاہدین“ کا لشکر جرار، پگڑیاں اور دوسروں پر سفید رومال باندھے جنگجو، ایک کروڑ کا کنٹینر اس کے ارد گرد جانباز علامہ سعد رضوی نے تو کفن تک پہن لیا۔ ایس ایچ او کو بکتر بند گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور اس کے سینے میں 21 گولیاں اتار دیں کہنے لگے۔ مظاہرین کے پاس اسلحہ نہیں تھا، بجا فرمایا، نیکو کار گھر سے اسلحہ لے کر نہیں نکلتے بلکہ پولیس سے اسلحہ چھین کر انہیں اونچی عمارتوں سے نشانہ بناتے ہیں گزشتہ دس سال میں کتنی قتل و غارت ہوئی، مرید کے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے کون پُرسان حال ہو گا؟ 250 پولیس اہلکار زخمی ہوئے 69 زندگی بھر کیلئے معذور حکومت کے خزانے سے کروڑوں روپے امداد دی جائے گی، اپنا خزانہ ساڑھے 11 کروڑ گھر پر چھاپہ مار کر پولیس لے گئی، مذہبی سیاسی جماعت سے مذاکرات بھی ناکام رہے۔ کراچی میں ہمارے قابل احترام پڑوسی مفتی منیب الرحمن اور دیگر جید علماءکرام نے بھر پور کوشش کی مگر لاحاصل، حافظ صاحب اور ان کے بھائی غائب ہو گئے کہتے ہیں چہرے پر رومال ڈالے گلی میں جاتے دیکھے گئے پنجاب پولیس کے قابو نہ آ گئے ہوں۔ صوبائی حکومت نے پارٹی پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی، وفاقی حکومت کو مراسلہ بھیج دیا، کالعدم ہونے کے بعد سب کچھ سیل، کروڑوں ضبط، غزہ والوں کے آنسو تھم گئے ہمارے آنسو تھمنے میں دیر لگے گی۔
جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو،حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے سچ فرمایا تھا، افغانوں کو چالیس سال اپنے پاس پناہ دی ہمارے مہمان بن کر آئے دشمن بن کر واپس گئے میزبانوں کے ساتھ یہ سلوک افغانوں کی فطرت، پاکستان پر مسلسل حملے، خود کش دھماکے 10347 حملوں میں ہمارے جانبازوں نے جام شہادت نوش کیا سیکڑوں زخمی ہوئے، لیکن جب اللہ کے شیروں نے فتنہ خوارج قرار دے کر خرب المنافقین کو نیست و نابود کرنے کی ٹھانی تو تین دنوں کے اندر 108 خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا، سرحد کے ساتھ ان کی 21 چوکیوں پر قبضہ کر کے سبز ہلالی پرچم لہرا دئیے بے غیرتوں کو لاشیں اٹھانے کی مہلت نہ مل سکی، لاشیں کیسے اٹھاتے 46 لاشیں تو گدھوں پر لاد کر لے گئے تھے 108 جہنمیوں کو دفنانے کیلئے ایمبولینسوں کی ضرورت تھی۔ ملا امیر متقی کو بھارت بھیجا مودی کے پاﺅں پڑے، دفاعی معاہدہ کیا۔ اپنے پھٹے پرانے میزائلوں اور ڈرونز کی مرمت کا وعدہ لیا۔ بھارتی مشیروں اور 6 ایمبولینس گاڑیاں لے کر واپس پلٹے تو پاکستان نے کابل قندھار پر ایئر سٹرائیک کر دیا، کابل میں مکمل بلیک آﺅٹ، افغانوں نے آسمان پر ڈرونز اور میزائل آتے دیکھے تو چیخ و پکار کرتے گھروں میں گھس گئے کہ کابل پر جنات نے حملہ کر دیا ہے، چھپ کر وار کرنے والی بزدل قوم نے پاکستانی فوج کے حملوں سے بوکھلا کر گھٹنے ٹیک دئیے، دو بار سیز فائر پر اتفاق لیکن ہر بار خوارج کی جانب سے خلاف ورزی پاک الرٹ میزائل اور ڈرون حملوں نے دن میں تارے دکھا دئیے۔ بھارت اور امریکا سپورٹر، امریکا نے 3 برس میں 21 کروڑ ڈالر کابل کو فراہم کیے۔ افغانستان سے واپس جانے والے امریکی فوجی 4 ارب کا جدید ترین اسلحہ اپنے ماموں کو دے گئے اسی اسلحہ سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں، امریکا ابھی تک ہر ماہ 4 ملین ڈالر طالبان حکومت کو فراہم کر رہا ہے۔ تاہم پاکستانی فوج کے پے در پے حملوں اور افغانوں کی آبادکاری نے افغان حکومت کے سیاسی فہم و فراست سے عاری ملاﺅں کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ خانہ جنگی کا خطرہ سروں پر منڈلانے لگا ہے۔ دوسری طرف اپنا خان خارجیوں پر دل و جان سے فدا اور صدقے واری جا رہا ہے۔ مائی ڈیئر خان کو اپنے مستقبل سے زیادہ افغانوں کے انخلا اور خوارج کے واصل جہنم ہونے کی فکر کھائے جاتی ہے۔ وہ شاید اسی وعدے پر لائے گئے تھے۔ کے پی کے وزیر اعلیٰ بھی اسی وعدے پر لائے گئے ہیں لیکن لگتا ہے کہ ان کے اقتدار کے دن شروع ہونے سے پہلے ہی گنے جا چکے ہیں۔ وہ خان کے کھودے گڑھے میں جا گرے ہیں ادھر خان کو بھی فوج کی تحویل میں جانے کا یقین ہو چلا ہے اسی لیے وہ ”آخری ملاقاتوں“ کا پیغام دے رہے ہیں۔
جتھوں کی یلغار، جنات کا حملہ، نیا وزیراعلیٰ
09:04 AM, 20 Oct, 2025