اسلام آباد: آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ میں پاکستان کے شوگر سیکٹر میں غیر شفاف اقدامات اور اشرافیہ کے ساتھ حکومتی گٹھ جوڑ کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی سبسڈیز، حفاظتی ڈیوٹیز اور ریگولیٹری رعایتیں شوگر ملز کے حق میں استعمال کی گئی، جس سے عوام کو مالی بوجھ اٹھانا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ملز مالکان ری کمنڈڈ گنے کی قیمتیں، ایکسپورٹ اور پرائسنگ پالیسیوں پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں اور 2018-19 میں حکومتی فیصلوں سے انہیں سبسڈی اور ایکسپورٹ میں غیر معمولی فائدہ پہنچا، جس سے ملک میں چینی کی قلت اور قیمتیں بڑھیں۔
مزید انکشافات میں ذخیرہ اندوزی، منی لانڈرنگ، فیک اکاؤنٹس اور سیاسی شخصیات کی مداخلت شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنگین شواہد کے باوجود احتساب محدود رہا اور شوگر کارٹل بدستور فعال ہیں۔