غزہ میںبارش سے متاثرہ خیموں اور ان کے پناہ گزینوں کی کئی تصاویر اور وڈیو ز میڈیا پر روزانہ نظروں کے سامنے سے گزرتی ہیں۔تازہ ترین تصاویر اور وڈیوز میں پناہ گزیں کیمپوں میں بارش کا پانی نکالتے ہوئے مرد و خواتین کے ساتھ ان کے بچے بھی نظر آ رہے ہیں۔ایک تصویر میں آٹھ نو سالہ بچی اپنی چھوٹی بہن کو گود میں اٹھائے بارش کے پانی میں کھڑی ہے۔اس تصویر کے کیپشن کے مطابق ان دونوں بچیوں کے والدین غزہ پر اسرائیلی بمباری سے شہید ہو چکے ہیں‘ان کا گھر بھی تباہ ہو چکا ہے۔یہ اپنی خالہ کے ساتھ پناہ گزیں کیمپ میں تھے۔ خیمے میں بارش کا پانی بھرنے سے ان کے کپڑے ‘بستر اور کمبل بھی بھیگ چکے ہیں۔ایک تصویر میں بچے وائیپر سے اپنے خیمے اور خیمے کے باہر سے بارش کا پانی نکال رہے ہیں۔ایک اور تصویر میں تین مناظر ایک ساتھ ہیں۔تینوں میں خیموں کے اندر اور باہر پانی نظر آ رہا ہے۔ایک وڈیو میں میاں بیوی نے بارش میں بھیگے ہوئے اپنے بچے کو گود میں اٹھایا ہوا ہے۔ ان کا بچہ سردی سے کانپ رہا ہے۔ اس مشکل میں بھی وہ حسبی اللہ نعم الوکیل (ترجمہ:میرے لیئے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے) کا ورد کر رہی ہے ۔اسی وڈیو میں ایک اور خاتون اپنے بچے کو گود میں اٹھائے ہوئے ہے ۔وہ بچہ بھی سردی سے کانپ رہا ہے لیکن ان کے پاس بچے کے لیئے کمبل نہیں ۔غزہ کی کسمپرسی کی ایک اور وڈیو بھی نظروں کے سامنے ہے ۔عقب میں پناہ گزیں کیمپ نظر آرہا ہے اورخیموں کے سامنے بچے بارش کے پانی میں ننگے پاؤں کھڑے ہیں۔ان کے ہاتھوں میں خالی برتن ہیںشاید وہ کھانے کی تلاش میں کہیں جا نا چاہتے ہیں۔ایک اور وڈیو میں بارش کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چل رہی ہیں۔تیز ہواؤں سے خیمے اکھڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ایک وڈیو میں بارش کا پانی خیمے کی پھٹی ہوئی چھت سے خیمے کے اندر ٹپکتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ جس سے خیمے میں رکھا ہوا سامان بھیگ چکا ہے۔موسم سرما کی پہلی تیز بارش نے خیمہ بستیوں اور ان میں پناہ گزینوںکو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ایک تصویر میں بچوں کے ہاتھ میں پانی کی بوتلیں نظر آ رہی ہیں۔وہ پیاس بجھانے کے لیئے پانی کی تلاش میں ہیں۔ایک اور تصویر میں بچے پانی کی فراہمی والی جگہ پر ہاتھوں میں بوتلیں لیئے کھڑے ہیں۔کھانے اور پانی کے لیئے وہ کسی غیبی مدد کے منتظرہیں۔شدید موسم ‘بنیادی سہولتوں کے فقدان اور اپنے گھر کی چھت سے محرومی نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔غزہ میں انسانیت کی بے بسی کی ہر تصویر دیکھ کر دل کی جو کیفیت ہوتی ہے الفاظ میں اس کا اظہار ممکن نہیں۔غزہ میںاسرائیل نے ظلم کی ہر حد پار کر دی ہے ۔غزہ کے لیئے درد مند دل رکھنے والوں کے دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے کہ یا اللہ غزہ کے مظلوموں کی مدد فرما اور ظالموں کا ہاتھ روک دے۔
آج پوری دنیا میں بچوں کا دن منایا جا رہا ہے۔اس دن کی تقریبات میں بچوں کے مسائل کا جائزہ لے کر ان کے حقوق کے تحفظ کی باتیں اوران کے مستقبل کے لیئے منصوبہ سازی کی جاتی ہے۔ 20نومبر1959ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے حقوق کا ایک ڈیکلریشن اور 20 نومبر 1989ء کو جنرل اسمبلی نے ہی بچوں کے حقوق کا ایک کنونشن بھی منظور کیا تھا۔اس ڈیکلریشن اور کنونشن کا بنیادی مقصد دنیا کے تمام بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کر کے انہیں معاشرے میں با عزت جینے کا حق دینا تھا لیکن غزہ کے بچے اسرائیل کی دہشتگردی کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کا حال اورمستقبل تباہ ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (UNICEF) نے بتایا ہے کہ ایک ملین سے زائد فلسطینی بچے پانی اور خوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں اور ہزاروں بچے ر ات کو بھوکے سوتے ہیں ۔تقریباً دس لاکھ بچے ذہنی صدمات سے دوچار ہیں۔ ڈاکٹروں ‘ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت کے باعث اسپتالوں میںداخل بچے شدید تکلیف کے باوجود مناسب علاج سے محروم ہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے معذوراں کے مطابق اب تک تقریباً اکیس ہزار بچے معذور جبکہ چالیس ہزار پانچ سوبچے زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی قابض فوج نے غزہ میںبچوں کے لیئے ضروری سامان دودھ کی بوتلیں اور ویکسین کی لاکھوں سرنجوں اور ادویات کا داخلہ روک رکھاہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل کی نسل کشی کی پالیسیوں کے باعث کئی ماہ سے جاری محاصرے‘ اشیائے خور و نوش کی شدید قلت اور ہر قسم کی بنیادی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ سے غزہ میں ایک لاکھ سے زائد بچوں کی زندگی شدید خطرے میں ہے۔ جن میں ایک سال سے کم عمرچالیس ہزار شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔جن کی مائیںکئی دنوں سے بچوں کو دودھ کی بجائے صرف پانی پلا رہی ہیں۔ غزہ کے ہسپتالوں اور صحت مراکز میں روزانہ سیکڑوں بچوں میں شدید غذائی قلت کے خطرناک کیسز درج ہو رہے ہیں۔ ان میں سے کئی بچے موت کے دھانے پر ہیں۔ غزہ کے چھ لاکھ ساٹھ ہزار بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔بچوں کے ہاتھوں میں بستوں اور کتابوں کی بجائے کپڑوں کی گٹھڑی اور پانی بھرنے کے برتن نظر آتے ہیں۔ نوے فیصد سے زیادہ سکول تباہ ہو چکے ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے ۔ اسرائیل نے بمباری کر کے سینکڑوں سکولوں سمیت تمام تعلیمی اداروںکو تباہ کر دیا ہے۔وہ چند سکول جن کی عمارتیں محفوظ ہیں‘ لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں ۔بہت سے بچے ان پناہ گاہوں میں رہتے ہیں۔ ان کا شمار غزہ کے ان ہزاروں بچوں میں ہوتا ہے جنہیں اسرائیل کی دھشت گردی کے باعث مسلسل تیسرے سال تعلیم سے محروم رہنے کا خدشہ ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ انہیں کھیل کے مواقع بھی میسرنہیں۔یہ صورتحال فلسطینی پناہ گزین بچوں کے تعلیم کے حق کی پامالی ہے۔
قبلہ اوّل کی سر زمین فلسطین میں غزہ کے بچوں اور ان کی ماؤں کی چیخوں نے نہ صرف عرش بلکہ پوری کائنات کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن اسرائیل کی حکومت اور اقوام م عالم بد ترین بے حسی کا شکار ہیں۔امریکہ اسرائیل کا حمایتی اور سرپرست بنا ہوا ہے ۔فلسطین کی خونیں سر زمین سے اٹھنے والی درد ناک چیخوں‘آگ اور سیاہ دھوئیں کے بادلوں نے عالمی مسائل حل کرنے کے لیئے قائم ہونے والے اس نام نہادعالمی ادارے اقوام متحدہ کی بے بسی کو ایک بار پھر عیاں کر دیا ہے۔ غزہ اور پوری دنیا کے بچے اس بربریت پر صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔غزہ کے بچے دنیا کے دوسرے بچوں کی طرح اپنے بنیادی حقوق کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔ دنیا کے تمام بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کر کے انہیں معاشرے میں جینے کا با عزت حق دینے کے لیئے 20نومبر1959ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے حقوق کا جو ڈیکلریشن اور20نومبر1989ء کو جنرل اسمبلی نے ہی بچوں کے حقوق کا جو کنونشن منظور کیا تھاغزہ کے بچوں کو ان کے مطابق زندگی گزارنے کا حق اور بلا تاخیر تمام سہولتیں دی جائیں۔بچوں کا دودھ اور غذائی سامان غزہ میں داخل کئے جائیں۔ تمام زمینی راستوں اور گزرگاہوں کو کسی شرط کے بغیر فی الفور کھولا جائے ۔ غزہ پر مسلط اس مجرمانہ محاصرے کو مکمل طور پر توڑ نے اور ہولناک اجتماعی قتل عام روکنے کے لیئے عالمی برادری خاموش تماشائی بننے کی بجائے فوری عملی اقدامات کرے۔
بچوں کا عالمی دن ،غزہ کیف معصوموںپر گزرتی قیامت
09:22 AM, 20 Nov, 2025