ستائیسویں ترمیم اور فیلڈ مارشل کے اختیارات کی بحث سے پہلے ایک پرانی حکایت ذہن میں تازہ کریں۔ کہتے ہیں ایک ملک جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا۔ دشمن اس کی سرحدوں پر زہر میں بجھی تلواریں سونتے بیٹھا تھا مگر اندرونی دربار میں روز سیاست کا میلہ سجا رہتا۔ فیصلے ہوتے مگر ان پر عمل کا کوئی ڈھانچہ موجود نہ تھا۔ ایک دن بادشاہ نے سپہ سالار کو بلایا اور پوچھا کہ اگر کل دشمن حملہ کر دے تو ہم کیا کریں گے؟ سپہ سالار نے بجھی آواز میں جواب دیا کہ بادشاہ سلامت، میرے اختیار کی لکیر آخری سپاہی تک نہیں پہنچتی اور دشمن ہماری ہر تاخیر سے فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ اسی دن بادشاہ نے اسے وہ مرکزیت دے دی جس کے بغیر جنگ جیتی نہیں جا سکتی تھی۔ روایت ہے کہ جیسے ہی اختیار مربوط ہوا، دشمن کی پیش قدمی رک گئی اور ریاست کی سانس بحال ہو گئی۔
یہ حکایت بظاہر سادہ ہے مگر طاقت کی سیاست اور قومی سلامتی کی اصل منطق اسی میں چھپی ہے۔ دنیا کی ہر ریاست،چاہے امریکہ ہو، چین ہو یا روس،جب کسی بڑے خطرے کے سامنے آتی ہے تو فیصلہ سازی کو منتشر نہیں رہنے دیتی۔ کبھی اختیار سویلین قیادت میں مرکوز ہوتا ہے اور کبھی عسکری قیادت کو مرکزیت دی جاتی ہے مگر مقصد ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے: تاخیر ختم ہو، کنفیوژن کم ہو اور ریاستی طاقت ایک واضح سمت میں رواں ہو۔
پاکستان بھی آج اسی حقیقت سے دوچار ہے۔اس کے خلاف فوجی اور سفارتی جنگ لڑی جا رہی ہے۔پاکستان کو داخلی تنازعات میں الجھایا جا رہا ہے۔ بھارت کی جارحانہ سوچ، لائن آف کنٹرول کی مسلسل حساسیت، افغانستان کی غیر یقینی فضا، ایران اور خلیجی تعلقات کا خطے پر اثر اور ہائبرڈ وار کی نئی جہتیں وہ عوامل ہیں جو ریاست کو فوری، واضح اور ہم آہنگ فیصلہ سازی کی طرف دھکیلتی ہیں۔ بھارت سرجیکل سٹرائیک کے بیانیے سے لے کر فضائی مہم جوئی تک ہر حربہ آزما چکا ہے اور ایسے ماحول میں فیصلہ سازی کے کئی دروازے کھول دینا دشمن کے فائدے میں جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل کے اختیارات میں اضافہ اسی لیے محض ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ ایک سٹرٹیجک ناگزیریت ہے تاکہ ٹیکٹیکل سے لے کر فیلڈ لیول تک سب اکائیاں ایک کمانڈ لائن کے تابع رہیں اور فیصلہ رکے بغیر عمل تک پہنچ سکے۔
آج جنگیں توپ و تفنگ سے کم اور بیانیے، پروپیگنڈے اور ٹیکنالوجی سے زیادہ لڑی جاتی ہیں۔ ایک غلط خبر چند منٹ میں پورے خطے کا ماحول بدل دیتی ہے۔ ایسے میں اگر قومی قیادت ہر فیصلے کو منظوریوں کے بے پناہ مرحلوں میں ڈال دے تو دشمن اس تاخیر کو ہتھیار بنا لیتا ہے۔ اختیار اگر مرکزیت کے ساتھ ذمہ داری، احتساب اور قومی مفاد کے تابع ہو تو یہ ریاست کو مضبوط کرتا ہے، کمزور نہیں کرتا۔دنیا کی طاقتیں اسی اصول پر کامیاب ہوئی ہیں۔
چین نے گزشتہ چالیس برسوں میں اسی مرکزی ہم آہنگی کے ذریعے اس تاریخی کارنامے کو انجام دیا کہ اس نے اپنی آبادی کے 80 کروڑ انسانوں کو غربت سے نکالا۔ اس کی بنیاد یہی سوچ تھی کہ ریاست کے بڑے فیصلوں میں تاخیر کی گنجائش نہیں رکھنی، اداروں کو ایک بیانیے میں باندھنا ہے اور کمزور علاقوں تک وسائل کو ایک سمت میں دھکیلنا ہے۔ چین کا ماڈل یہ بتاتا ہے کہ بکھرا ہوا فیصلہ نظام ترقی کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے۔ انتظامی مرکزیت، طویل المدتی منصوبہ بندی اور عسکری و سول قیادت کا ہم آہنگ کردار ہی اس تبدیلی کا اصل محرک تھا۔
روس کی مثال اس سے بھی زیادہ واضح ہے جہاں ریاستی ڈھانچے میں عسکری ادارے محض دفاعی یونٹ نہیں بلکہ قومی حکمت عملی کے شریک معمار سمجھے جاتے ہیں۔ روس نے بیرونی دباؤ کے باوجود جو استحکام قائم رکھا، وہ اسی مربوط فیصلہ سازی کا نتیجہ ہے۔ جب بیرونی خطرات ہمہ جہت ہوں تو روسی ماڈل یہی سکھاتا ہے کہ داخلی انتشار سے بڑی کوئی کمزوری نہیں ہوتی۔
امریکہ بظاہر جمہوری دنیا کا مستحکم ترین نمونہ ہے مگر جنگی اور ہنگامی حالات میں اس کی فیصلہ سازی حیران کن حد تک مرکوز اور برق رفتار ہوتی ہے۔ صدر کمانڈر ان چیف ہے، نیوکلیئر رسپانس کے پروٹوکول سیکنڈز میں طے ہوتے ہیں، اور پینٹاگون کے مراکز میں فیصلوں کو گھنٹوں نہیں لگتے۔ جمہوریت میں طاقت کی تقسیم بنیادی اصول ہے مگر قومی سلامتی کے معاملات میں امریکہ بھی تاخیر کی اجازت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب عالمی سطح پر خطرات بڑھتے ہیں تو امریکی سول اور عسکری ادارے ایک صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
پاکستان کے بارے میں طویل عرصے سے عالمی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا رہا کہ یہاں ادارے منتشر ہیں، فیصلہ سازی سست ہے اور ریاستی ڈھانچے میں ہم آہنگی کی کمی ہے۔ اس تاثر کا نقصان محض سفارت کاری تک محدود نہیں رہتا بلکہ سرمایہ کاری، معاشی اعتماد اور علاقائی ساکھ بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ ایک مضبوط، متفق اور مربوط ریاست ہی وہ پیغام دیتی ہے جسے عالمی طاقتیں سنجیدگی سے لیتی ہیں۔
ان حالات کو پیش نظر رکھیں اور دیکھیں کہ فیلڈ مارشل کے اختیارات میں اضافہ اسی ضرورت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ یہ کسی سیاسی قبضے یا سویلین سپیس میں دراندازی کا اعلان نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ موجودہ جغرافیائی ماحول میں فیصلہ سازی کو منتشر نہیں رہنے دیا جا سکتا۔ یہ ترمیم سویلین حکومت کا بوجھ کم کرتی ہے، ریاستی مشینری کو ایک سمت دیتی ہے اور بحران کے لمحوں میں بروقت قدم اٹھانے میں مدد دیتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اختیار کس کے پاس ہے بلکہ یہ ہے کہ اختیار فیصلہ سازی کی رفتار بڑھاتا ہے یا نہیں۔
قصے کی طرح حقیقت بھی یہی ہے کہ جب ریاست جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو تو وہ تاخیر نہیں کرتی۔پاکستان غیر معمولی حالت کا سامنا کر رہا ہے۔ایسے میں ریاست اپنے سپہ سالار کو وہ اختیار دیتی ہے جو بقا، وقار اور مستقبل کی ضمانت بنتا ہے۔ اگر یہ اختیار احتساب، شفافیت اور قومی مفاد کے ساتھ جڑا رہے تو یہ محض ایک ترمیم نہیں رہتا، ایک قومی ضرورت بن جاتا ہے۔ پاکستان آج اسی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں فیصلہ منتشر رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ستائیسویں ترمیم: ناگزیر قومی ضرورت
09:19 AM, 20 Nov, 2025