14 اور 15 مئی کو اسلام آباد میں پہلی قومی ٹیکس دہندگان کنونشن میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ کوئی معمول کی سرکاری تقریب نہیں تھی۔ ٹیکس ماہرین، تاجر برادری کے نمائندے، صنعتی انجمنوں کے سربراہ اور حکومتی اہل کار سب ایک ہی چھت تلے، ایک ہی سوال کے گرد جمع تھے۔ دو دن کی طویل، کبھی گرم اور کبھی مایوس کن بحث کے بعد جو ایک سوال بے جواب رہا وہ یہ تھا کہ پاکستانیوں کا ٹیکس کا پیسہ آخر جاتا کہاں ہے؟ یہ سوال محض معاشی نہیں، نظام کا ہے، قومی وقار کا ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی کا سفر دیکھیں تو اعداد و شمار واقعی حیران کن ہیں۔ مالی سال 2020-21 میں 4,744 ارب روپے جمع ہوئے۔ 2021-22 میں 6,125 ارب، 2022-23 میں 7,164 ارب، 2023-24 میں 9,306 ارب اور 2024-25 میں 11,744 ارب روپے۔ یعنی صرف پانچ سال میں ٹیکس وصولی تقریباً 3 گنا ہو گئی۔ 2026 کا ہدف 14000 ارب سے زائد ہے۔ اگر پچاس سال پہلے 1975ءکا موازنہ کریں تو اس وقت پاکستان کا کل سالانہ بجٹ چند ارب روپے کا تھا۔ آج صرف ایک مہینے کی وصولی اس سے سیکڑوں گنا زیادہ ہے۔ حکومت اسے اپنی کامیابی قرار دیتی ہے اور پہلی بار ایک دہائی کے بعد ٹیکس ٹو جی ڈی پی 10.3فیصد تک پہنچنے پر جشن بھی منایا گیا۔
مگر اسی دوران ایک اور ریکارڈ بھی قائم ہوا، جس پر جشن منایا گیا نہ پریس کانفرنس ہوئی۔ فروری 2026ءمیں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اپنے ہی سروے کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد ہو گئی ہے جو کہ گیارہ سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ بے روزگاری 7.1 فیصد پر جا پہنچی ہے جو کہ 21 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ ورلڈ بنک کی 2025ءکی رپورٹ اس سے بھی آگے جاتی ہے اور کہتی ہے کہ پاکستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ 2019ءسے 2025ءکے درمیان اوسط گھریلو آمدنی حقیقی معنوں میں 12 فیصد کم ہو گئی ہے۔ 7 کروڑ سے زیادہ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ ٹیکس ریکارڈ اور غربت ریکارڈ کے تضاد کا موازنہ کسی المیے سے کم نہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ آتا کہاں سے ہے اور جاتا کہاں ہے؟ آتا اس طبقے سے ہے جو پہلے سے
نیٹ میں ہے۔ تنخواہ دار ملازمین، چھوٹے اور بڑے کاروباری، ان ڈائریکٹ ٹیکس کے صارفین۔ صرف اپریل 2025ءتک تنخواہ دار طبقے نے 437 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا یعنی 2024 کے مقابلے میں 52 فیصد اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بچوں کے دودھ پر ٹیکس، طبی ٹیسٹوں پر ٹیکس، سٹیشنری پر ٹیکس، سبزیوں پر ٹیکس۔ بوجھ اس پر جو پہلے سے جھکا ہوا ہے اور وہ جو فائلر نہیں، جو زمیندار ہے، جس کی ریئل سٹیٹ ایمپائر ہے، جس کا پیسہ دبئی میں ہے، جس افسر یا سیاستدان کی ٹیکس ریٹرن اس کے لائف سٹائل سے میل نہیں کھاتی وہ بدستور نظام سے باہر ہے۔
اب آتے ہیں اصل سوال پر یہ پیسہ جاتا کہاں ہے؟ بجٹ 2024-25 کا کل حجم 18,877 ارب روپے تھا۔ اس میں سے قرضوں کی ادائیگی یعنی صرف سود اور اصل رقم کی واپسی 9,775 ارب روپے تھی۔ یہ بجٹ کا نصف سے زیادہ ہے۔ ذرا ٹھہریں اور سوچیں ایف بی آر نے پورے سال میں 11,744 ارب روپے جمع کیے اور اس میں سے 9,775 ارب صرف پرانے قرضوں پر لگ گئے۔ یعنی ہر شہری جوایک روپیہ ٹیکس دیتا ہے، اس کا 83 پیسہ تو صرف قرض اتارنے میں چلا جاتا ہے۔ بچوں کی تعلیم پر نہیں، علاج پر نہیں، سڑکوں پر نہیں۔ 2020-21 میں یہی قرض ادائیگی 2,964 ارب تھی۔ چار سال میں تین گنا سے زیادہ ہو گئی۔ یہ دلدل ہے، ترقی نہیں۔
2024 میں دفاع پر 2,122 ارب روپے خرچ ہوئے 2020-21 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا۔ ملکی سلامتی ضروری ہے، اس پر کوئی بحث نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جمہوریت میں ہر بجٹ مد پر کھلی بحث ہونی چاہیے دفاع پر بھی، فوجی پنشن پر بھی، سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اخراجات پر بھی۔ جب دفاعی بجٹ پارلیمان میں بحث کے بغیر منظور ہو تو یہ جمہوریت نہیں، رسم ادائیگی ہے۔ سرکاری مشینری چلانے پر 839 ارب روپے خرچ ہوئے۔ پی ایس ڈی پی کے لیے 1,400 ارب روپے مختص کیے گئے۔ جو کاغذ پرتاریخی اضافہ ہے۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ پی ایس ڈی پی کے منصوبوں میں لاگت تین سے پانچ گنا تک بڑھ جاتی ہے، تاخیر معمول ہے، اور ٹھیکیداری نظام میں کرپشن۔ 2025 کی آئی ایم ایف کی کرپشن ڈایئگنوسٹک رپورٹ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان ہر سال جی ڈی پی کا بڑا حصہ کرپشن کی نذر کر دیتا ہے۔ یعنی بااثر طبقات نے پالیسی کو اپنے مفاد کے لیے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اور پھر تعلیم؟ وفاقی سطح پر صرف 103 ارب روپے۔ دفاعی بجٹ کا بمشکل 5 فیصد۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ڈھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں اور یہ تعداد میں دنیا میں دوسرے نمبر پرہے۔ پچھلے پچاس سال کا حساب اور بھی تکلیف دہ ہے۔ آبادی 7 کروڑ سے بڑھ کر 25 کروڑ سے تجاوز کر گئی، ٹیکس ہزاروں کھرب تک پہنچ گیا ہے۔
مگر سرکاری ہسپتالوں میں دوائیں نہیں، ڈاکٹر بیرون ملک بھاگ رہے ہیں، یونیورسٹیاں فنڈ کی محتاج ہیں اور نوجوان روزگار کی تلاش میں ہے۔ جو کسی طرح پاکستان سے باہر چلا گیا وہ وطن کو ترسیلاتِ زر بھیج کر ملک کی خدمت کر رہا ہے۔ یہ پچاس سال کا حساب ہے، پاکستانی سوچتے ہیں کہ موجودہ نظام نے انھیں کیا دیا؟۔ ٹیکس دینا ہر شہری کا فرض ہے، مگر یہ فرض اندھا نہیں ہوتا۔ جب ایک عام پاکستانی دیکھتا ہے کہ سڑکیں ٹوٹی ہیں، سکول ویران ہیں، ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں، روزگار کے مواقع نہیں ہیں۔ مگر سرکاری افسر کی گاڑی نئی ہے، بنگلہ آباد ہے، بیرونِ ملک بچے پڑھ رہے ہیں تو وہ ٹیکس نیٹ میں کیوں آئے؟ اعتماد ٹوٹا ہوا ہے۔ اور اعتماد بغیر جوابدہی کے نہیں بنتا۔
آج پاکستان میں 25 کروڑ کی آبادی میں صرف دس لاکھ سے کچھ زیادہ لوگ ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں۔ ٹیکس نیٹ بڑھانا ضروری ہے، یہ بات ٹھیک ہے۔ مگر پہلے یہ بتائیں کہ جو 11,744 ارب جمع ہوئے، وہ کہاں گئے؟ کتنے ترقیاتی منصوبے وقت پر اور لاگت میں مکمل ہوئے؟ قرض کا بوجھ کم کرنے کی حکمتِ عملی کیا ہے؟ ٹیکس نظام میں امیراورطاقتور کو چھوٹ کیوں ہے؟ اور سب سے بڑا سوال، کیا پارلیمان واقعی بجٹ بناتی ہے، یا صرف دستخط کرتی ہے؟۔ قومی ٹیکس دہندگان کنونشن نے ایک بیج بویا ہے۔ بیداری کا، جوابدہی کا، قومی سوچ کا۔ مگر بیج بونا کافی نہیں، اسے پانی بھی چاہیے۔ اور وہ پانی ہے درست سیاسی عزم، ادارہ جاتی اصلاح اور ہر سطح پر شفافیت۔
پاکستان کا مسئلہ ٹیکس جمع نہ ہونا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو جمع ہوتا ہے، وہ عوام تک پہنچتا نہیں۔ اور جب تک یہ سوال پوچھا نہیں جائے گا، جب تک اس کا جواب طلب نہیں کیا جائے گا، یہ ملک آئی ایم ایف کے چکر میں گھومتا رہے گا، قرض کی دلدل میں دھنستا رہے گا اور ہر بجٹ میں ایک نئی تکلیف کا سامنا کرتا رہے گا۔ عوام ٹیکس دینے کو تیار ہیں۔ بس ایک سوال کا جواب چاہتے ہیں۔ ہمارا پیسہ، ہمارے لیے، کہاں ہے؟۔
پاکستانیوں کے ٹیکس کا پیسہ کہاں جاتا ہے؟
09:05 AM, 20 May, 2026