رضاء اللہ نظامانی کا قتل اور بھارتی سازش کی نئی پرتیں

09:21 AM, 20 May, 2025

گذشتہ روز بدین کی پرسکون فضا میں یکایک گولیوں کی گونج سنائی دی۔۔۔ ایک استاد، ایک کارکن، ایک محب وطن آواز کو خاموش کر دیا گیا۔۔۔ رضاء اللہ نظامانی کو دن دیہاڑے گولیوں سے بھون دیا گیا، جیسے ان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ دشمن کے لئے میزائل بن چکے ہوں اور پھر جیسے ہی ان کی لاش زمین پر گری، بھارتی میڈیا  نے مٹھائیاں بانٹنا شروع کر دیں۔۔۔ بھارتی چینلز پر بریکنگ نیوز چلنے لگی ’’سیف اللہ خالد مارا گیا‘‘، ’’پاکستان میں لشکر طیبہ کا اہم کمانڈر ہلاک‘‘، ’’بھارت میں تین حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہلاک‘‘۔۔۔ اور ہم حیران، پریشان، سوچتے رہ گئے کہ جس شخص کو ہم ایک استاد، ایک قلمکار، ایک سیاسی کارکن کے طور پر جانتے تھے،وہ بھارتی بیانیے میں اچانک ایک بین الاقوامی دہشت گرد کیسے بن گیا؟؟؟ یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ ہندوستانی میڈیا کا ایک بڑا طبقہ صحافت سے زیادہ پروپیگنڈا مشن پر مامور ہو چکا ہے۔۔۔ خاص طور پر جب بات کشمیری مزاحمتی تحریک کی ہو تو بھارتی اخبارات اور چینلز کی زبان سے زیادہ ان کی نیتیں بولنے لگتی ہیں۔۔۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ کہ ’’لشکر طیبہ کا سرکردہ دہشت گرد سیف اللہ خالد عرف ونود کمار‘‘ صوبہ سندھ میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں مارا گیا، بظاہر یہ ایک ہائی پروفائل ’’خبر‘‘ تھی، جس میں نہ صرف کئی پرانے دہشت گرد حملوں کو جوڑا گیا بلکہ نیپال جیسے پُر امن ملک کو بھی ’’لشکر کا نیا مورچہ‘‘ قرار دے کر جنوبی ایشیا میں ایک نئی سازشی فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔ پہلا اور سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر’’ سیف اللہ خالد‘‘ واقعی اتنا بڑا اور مطلوب دہشت گرد تھا تو پاکستان میں اس کی موجودگی کے بارے میں پہلے کبھی کسی معتبر بین الاقوامی ادارے یا اقوامِ متحدہ کے کسی پلیٹ فارم پر کوئی بات کیوں نہیں کی گئی؟ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ بھارتی خفیہ ادارے ایک مبینہ عالمی دہشت گرد کو 20 سال تک صرف اخباری کالموں میں ہی تلاش کرتے رہے اور پھر جب وہ قتل کر دیا گیا تو اچانک اس کی زندگی کی پوری داستان بمع نیپالی بیوی اور جعلی شناخت کے منظر عام پر آ گئی؟ بھارتی میڈیا کی اس ساری من گھڑت کہانی کا بیانیہ ’’مبالغہ آرائی اور بدبودار ذہنیت‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔۔۔ دوسرا قابل غور پہلو یہ ہے کہ نیپال کا حوالہ دے کر ہندوستان نے نہ صرف اپنے پڑوسی ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کی بلکہ ایک اور ’’سافٹ ٹارگٹ‘‘ کے طور پر اسے عالمی برادری کی نظروں میں مشکوک بنانے کی چال چلی۔۔۔ یہ طریقہ کار کچھ نیا نہیں۔۔۔ اس سے قبل سری لنکا، بنگلہ دیش اور مالدیپ جیسے ممالک کو بھی بھارتی میڈیا ایسے ہی جھوٹے دعوؤں سے نشانہ بنا چکا ہے۔۔۔ دراصل یہ سب بھارت کی اس مستقل حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ پورے خطے کو اپنے دائرہ اثر میں رکھنا چاہتا ہے۔۔۔۔یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ ایک شخص جو نیپال میں کئی سال تک ’’جھوٹی شناخت‘‘ کے ساتھ زندگی گزارتا رہا، وہاں شادیاں کرتا رہا، لشکر کے لیے جنگجو بھرتی کرتا رہا، وہ کبھی نیپالی سکیورٹی اداروں کی نظروں میں نہ آیا؟ کیا نیپال اتنا کمزور اور لاپروا ملک ہے کہ کوئی ’’عالمی دہشت گرد‘‘وہاں کھلے عام تنظیمی سرگرمیاں کرتا رہے اور کسی کو خبر ہی نہ ہو؟رضاء اللہ نظامانی جسے بھارتی میڈیا سیف اللہ خالد قرار دے رہا ہے کا تعلق مرکزی مسلم لیگ سے تھا اور ماضی میں وہ جماعت الدعوٰۃ سے بھی وابستہ رہے مگر اْن کی پہچان صرف ایک نظریاتی کارکن کی نہیں تھی۔۔۔ وہ مقبوضہ کشمیر کے لئے ایک توانا اور جرأت مند آواز تھے۔۔۔اْن کا شمار اْن پاکستانیوں میں ہوتا تھا جو بغیر کسی لالچ یا عہدے کے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بات کرتے تھے اور شاید یہی ان کا سب سے بڑا جرم تھا۔۔۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ماضی میں بھی پاکستان میں تخریب کاری، ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ فسادات کے ہر دوسرے تیسرے واقعات میں ملوث رہی ہے جبکہ گذشتہ کچھ عرصہ سے تو پاکستان کے اندر ماضی میں ’’جہاد کشمیر‘‘ سے وابستہ رہنے والے دو درجن سے زائد افراد کو بھارت نے قتل کیا اور پھر اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ ہم  نے ’’گھس ‘‘کر مارا ہے۔۔۔ کلبھوشن یادیو کا اعترافی بیان آج بھی پاکستان کی فائلوں میں موجود ہے، جس میں اس  نے کراچی سے بلوچستان تک ’’را‘‘ کی سرگرمیوں کا اعتراف کیا اور اب رضاء اللہ نظامانی کے قتل کے بعد جو ابتدائی شواہد سامنے آئے ہیں، وہ اسی خفیہ نیٹ ورک کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔۔ اس قتل کے انداز، نشانہ بنانے کا طریقہ اور بعد ازاں بھارتی میڈیا کا فوری ردعمل۔۔۔ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کی گواہی دے رہا ہے۔۔۔ رضاء اللہ نظامانی کو مارا نہیں گیا، انہیں خاموش کرایا گیا۔۔ وہ آواز جو اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے تحت کشمیریوں کے حق میں بلند ہوتی تھی، بھارت کو گراں گزری۔۔۔ وہ استاد جو اپنے طلباء کو صرف نصاب نہیں، ضمیر کی بیداری کا سبق دیتا تھا، بھارتی ایجنسیوں کے لئے خطرہ بن گیا اور اس کے بعد ایک منظم منصوبے کے تحت انہیں نشانہ بنایا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قتل کے فوراً بعد بھارتی میڈیا  نے ان کا اصل نام لینے سے گریز کرتے ہوئے انہیں’’سیف اللہ خالد‘‘ کے نام سے متعارف کرایا اور نیپال میں مبینہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کا الزام لگایا۔ یہ پروپیگنڈا اس قدر گھٹیا اور بے بنیاد تھا کہ کسی بھی آزاد ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ یہ سب کچھ بھارت کے اس بدنام زمانہ وار فیئر نیریٹو کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ہر اْس آواز کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتا ہے جو کشمیریوں کے حقوق کی بات کرے۔ اس سے قبل بھی سید علی گیلانی،آصف سلطان، یاسین ملک اور کئی دیگر کشمیری رہنماؤں کو اسی پروپیگنڈا کا نشانہ بنایا جا چکا ہے مگر رضاء اللہ نظامانی کے سفاکانہ قتل  نے بھارت کے مکروہ اور عیار چہرے کا نقاب ایک بار پھر نوچ ڈالا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ذمہ داران کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہمیں یہ قتل محض ایک سیاسی جماعت کے کارکن کے طور پر لینا چاہیے؟ بہاولپور، مریدکے، سیالکوٹ، کوٹلی، لاہور اسلام آباد، سرگودھا اور حیدر آباد سمیت دیگر شہروں میں اٹیک کرتے ہوئے ہندوستان پہلے ہی پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کر چکا ہے لیکن جیسے ہی پاک فوج نے بزدل دشمن کو منہ توڑ جواب دیا یہ کمینہ صفت دشمن ’’سیز فائر‘‘ کی دہائیاں دینے لگا۔ اب اس سیز فائر کے دوران معصوم اور بے گناہ پاکستانی شہری رضاء اللہ نظامانی کا قتل ریاست پاکستان کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہی سمجھا جائے؟ اگر کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد بھی ہم مصلحت کا شکار رہے تو کیا اب بھی ہم خاموش رہیں گے جب ایک پاکستانی استاد کو صرف اس کے نظریات کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے؟ بھارتی میڈیا کی چیخ و پکار دراصل اس جرم کا اعتراف ہے۔ اگر رضاء اللہ نظامانی واقعی بھارت کے لئے خطرہ نہ ہوتے تو ان کے قتل پر ایسے جشن نہ منائے جاتے۔ اگر وہ محض ایک ’’نامعلوم دہشت گرد‘‘ہوتے، تو ان پر الزام تراشی کے لئے پوری بھارتی ریاستی مشینری حرکت میں نہ آتی۔ ان کا قاتل صرف وہ شخص نہیں جس  نے گولی چلائی بلکہ وہ پوری سوچ ہے جو کشمیر کو اپنی جاگیر سمجھتی ہے، جو کسی اختلافی آواز کو برداشت نہیں کر سکتی اور جو پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنے کی دیرینہ خواہشمند ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رضاء اللہ نظامانی کے قتل کو محض ایک واقعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک سلسلے کی کڑی کے طور پر دیکھا جائے۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ جب کوئی پاکستانی کشمیر کی آزادی کی بات کرتا ہے تو وہ بھارت کی ہٹ لسٹ پر کیوں آ جاتا ہے؟ کیا ہم  نے اپنے ایسے محبِ وطن شہریوں کو تحفظ دینے کا کوئی نظام بنایا ہے؟ کیا ہمارا میڈیا ان کی قربانیوں کو صحیح انداز میں اجاگر کرتا ہے؟ یا ہم صرف تب جاگتے ہیں جب دشمن کی گولی کسی کی جان لے لیتی ہے؟ رضاء اللہ نظامانی کی شہادت ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں اس سانحے کو محض ایک اخباری خبر کے طور پر نہ برتنا چاہیے، بلکہ اسے ایک قومی سانحہ سمجھ کر اس ذہنیت کا جواب دینا چاہیے جو ’’قلم‘‘ سے خوفزدہ ہو کر ’’گولی‘‘ کا سہارا لیتی ہے۔ ہمیں سفارتی محاذ پر بھی متحرک ہونا ہو گا، اقوام متحدہ میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا ہو گا اور عالمی میڈیا کے سامنے اس قتل کو ایک سنجیدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کرنا ہو گا۔ آخر میں، ہمیں رضاء اللہ نظامانی جیسے شہداء کی قربانی کو سلام پیش کرنا ہو گا جنہوں  نے اپنی جان دے کر ثابت کیا کہ سچائی کی راہ کبھی آسان نہیں ہوتی مگر یہی راہ تاریخ کا رخ موڑتی ہے۔۔۔وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے مگر ان کی آواز گونجتی رہے گی۔۔۔۔ کشمیر بنے گا پاکستان

مزیدخبریں