مقبولیت والے اور قبولیت والے

09:20 AM, 20 May, 2025

آج کل پاکستان میں ہر طرف انڈیا کے ساتھ ہلکی سی ’’ہاتھا پائی‘‘ کے بعد امریکی مداخلت پر سیز فائر کے جشن منائے جا رہے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے مْودی جی کے ساتھ ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ہمارے محترم وزیراعظم کو اس سیز فائر کا پہلے سے معلوم تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے جب جنگ جاری تھی اور پوری قوم یعنی 24 کروڑ کے پورے’’ہجوم‘‘ کے اندرواندری ساہ سْوکھے ہوئے تھے، ہمارے وزیراعظم سوئمنگ پول میں ’’تیریاں‘‘ لگا رہے تھے، مطلب انجوائے کر رہے تھے، یوم تشکر کی ایک تقریب میں اْنہوں نے کسی ضیاء کا نام لیا کہ’’میں نے ضیاء سے کہا یار ضیاء میرے فون پر کوئی کال آئے فوراً مجھے بتا دینا‘‘، اب ہم کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں یہ’’ضیائ‘‘ کون ہے جسے مردہونے کے باوجود وزیراعظم یار کہہ کے مخاطب کرتے ہیں ؟ ضیاء نام کے لوگوں سے اْن کی محبت کا باعث جنرل ضیاء الحق مرحوم بھی ہو سکتے ہیں، اسی تقریر میں اْنہوں نے یہ بھی بتا دیا’’وہ فجر کی نماز پڑھتے ہیں‘‘، کل میرے ایک شاگرد عزیز نے مجھ سے پوچھا ’’سر ہمیں کیسے پتہ چلتا ہے ہماری نمازیں قبو ل ہو رہی ہیں یا ردہو رہی ہیں ؟‘‘، میں نے عرض کیا’’اگر نمازیں آپ کو برائی کے رستے سے روک رہی ہیں اس کا مطلب ہے آپ کی نمازیں قبول ہو رہی ہیں اور اگر نمازیں خرابی کے رستے پر چلنے سے آپ کو نہیں روک رہیں اس کا مطلب ہے آپ کی نمازیں رد ہو رہی ہیں‘‘، ہمارے وزیراعظم کی نمازیں اور دعائیں کم از کم اس حوالے سے بالکل رد نہیں ہورہیں کہ اْن کے اقتدار کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے، اس حوالے سے جو ’’حکمت عملی ‘‘ وہ اپنائے ہوئے ہیں وہ اْن کی خصوصیت ہے، اپنے مالکوں کے ساتھ وفاداری اور خدمت کے جو انداز اْنہوں نے اپنائے، بے وقوف عمران خان نے اْس کا دس فیصد حصہ بھی اپنایاہوتا پونے چار برسوں میں وہ اپنی حکومت ختم کرا کے نہ بیٹھ جاتا، ویسے جو سیاسی رویہ وزیراعظم نے اپنایا ہوا ہے مجھے وہ اس حوالے سے اچھا لگتا ہے کہ یہی رویہ اپنانے کا مشورہ میں نے 13 اگست 2018ء کو بنی گالہ میں عمران خان کے ساتھ ہونے والی اپنی ایک میٹنگ میں اْسے بھی دیا تھا کہ وزارت عظمیٰ کا حلف اْٹھانے کے بعد آپ اپنے سیاسی مخالفوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے باز رہئے گا، بلکہ اْن کے خلاف بیان بازیوں سے بھی گریز فرمائیے گا، اْن کے جو کیسز کرپشن و دیگر معاملات کے ہیں وہ اداروں پر چھوڑ دیجئے گا یا اْن پر چھوڑ دیجئے گا جنہوں نے وہ کیسز بنائے ہیں، آپ اپنا فوکس صرف اور صرف اپنے تبدیلی کے خواب کو تعبیر بخشنے پر رکھیے گا، ممکن ہے آپ کو اقتدار میں آنے کا دوبارہ موقع نہ ملے، جو موقع سالہا سال کی جدوجہد کے بعد کچھ اپنی اور زیادہ تر کچھ کسی اور کی وجہ سے آپ کو ملا ہے اْس میں بنیادی سطح کی کچھ تبدیلیاں ایک کرپٹ اور کریمینل سسٹم میں آپ نہ لے کر آئے خصوصاً اس ملک کا نظام تعلیم، نظام صحت اور نظام عدل ہنگامی بنیادوں پر آپ نے درست نہ کیا اگلا الیکشن کسی کے کندھوں پر بیٹھ کر بھی آپ شاید نہیں جیت سکیں گے‘‘ اْنہوں نے اْس وقت تو میرے مفت کے اس مشورے کو بہت پذیرائی بخشی مگر بعد میں وہ اپنی فطرت سے باز نہیں آئے، کچھ اپنے اْس وقت کے مالکوں کے اشاروں پر اور کچھ اپنی روایتی ضدی طبیعت کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد اْن کا سارا فوکس اپنے سیاسی مخالفوں کو چور ڈاکو، چور ڈاکو کہنے اور اْن کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر رہا، جس کے نتیجے میں ایک کریمینل اور کرپٹ سسٹم میں وہ کوئی انقلابی تبدیلی نہیں لا سکے، بجائے اس کے اْن کے اس عمل کا بقول ان کے’’چوروں ڈاکوؤں‘‘ کو کوئی نقصان ہوتا اْلٹا ایک بار پھر اقتدار میں آنے کے لیے اْن کی راہیں ہموارہونے لگیں اور اب کے بار تو کچھ اس انداز میں وہ اقتدار میں آئے یا لائے گئے اْمید یہی ہے اگلے پانچ دس برسوں میں وہ کہیں نہیں جانے والے، نہ اْن کے ’’مالکان‘‘ اْنہیں کہیں جانے دیں گے، میں نے عمران خان سے کہا تھا ’’آپ کے پاس دو راستے ہیں ایک راستہ یہ ہے جو قوتیں آپ کی مقبولیت کو قبولیت بخش کر آپ کو اقتدار میں لے کر آئی ہیں اْن کے ساتھ اپنے معاملات کو سمجھداری کے ساتھ بنائے اور چلائے رکھیں تاکہ بڑے سال کے بعد پی ٹی آئی کی صورت میں ایک تیسری قوت اقتدار میں آ ہی گئی ہے وہ اپنی مدت پوری کرے اور اپنے تبدیلی کے خواب کو کم از کم اتنی تعبیر ضرور بخش دے جس کے نتیجے میں اگلے پانچ برسوں تک بھی وہ اقتدار میں رہ سکے اور چوروں اور ڈاکوؤں سے اگلے پانچ برسوں تک بھی ہمیں نجات ملی رہے، دوسرا راستہ یہ ہے آپ کی مقبولیت کو قبولیت بخش کر جو قوتیں آپ کو اقتدار میں لائی ہیں اْن کے ساتھ اپنے معاملات کو بند گلی میں لے جائیں جس کے نتیجے میں ظاہر ہے وہ’’چوروں ڈاکوؤں‘‘ کے ساتھ اپنے معاملات ایک بار پھر سدھارنے اور طے کرنے پر مجبور ہو جائیں گی‘‘، عمران خان نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور نتائج سب کے سامنے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف، اس معاملے میں بڑے سمجھدار نکلے، ممکن ہے اْن کے مالکان اْنہیں زیادہ مجبور بھی نہ کرتے ہوں کہ وہ اپنے بدترین سیاسی مخالف کے خلاف ہر وقت اْس طرح کی زبان درازی کرتے رہیں یا اْس طرح کا زہر اْگلتے رہیں جس طرح کا زہر وہ اپنے دور میں اْن کے خلاف اْگلتا رہا، مبینہ اطلاعات کے مطابق آج اْن ہی چوروں ڈاکوؤں کے ساتھ وہ مذاکرات کے رستے پر چلنے کے لیے تیاری پکڑ رہا ہے، میں مذاکرات کے ہر گز خلاف نہیں ہوں، میں صرف یہ کہہ رہا ہوں سیاست میں سب دروازے بند کرنے کا نقصان کسی نہ کسی صورت میں مْلک کو ہی ہوتا ہے جو ہو بھی رہا ہے، یہ بات عمران خان کو سمجھنی چاہئے تھی، یہ بات وزیراعظم شہباز شریف سمجھ چکے ہیں شاید اسی لئے وہ اپنی کسی تقریر میں عمران خان کا ذکر نہیں کرتے، اْسے اداروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا اْن کا فیصلہ سیاسی حوالے سے اچھا ہے، عمران خان کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے یا آگے چل کر جو ہوگا میں نہیں سمجھتا اس کا ذمہ دار لوگ سیاسی حکومت کو ٹھہرائیں گے، وزیراعظم اپنے سیاسی مخالف عمران خان کے ذکر بد میں کمی لا کر میرے خیال میں اچھا ہی کیا ہے، اب اللہ کرے کرپشن میں کمی بھی وہ لے آئیں۔

مزیدخبریں