سندھ ن لیگ ، شکریہ مریم نواز مہم، کے زیر عنوان کالم کے آخر میں متذکرہ مہم کے حوالے سے نجی یونیورسٹی کے طالب علم امتیاز جوکھیو کے تاثرات الفاظ کی صورت میں یوں تھے ’اگرچہ ن لیگ کی یہ مہم پیپلز پارٹی کیلئے سیاسی چیلنج ہے لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اب وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو بلاول ہاؤس کی ضروریات کے ساتھ سندھ کے عوام کی ضروریات پر بھی توجہ مبذول کرنی پڑے گی۔
میرے نزدیک یہ ایک سندھی نوجوان کا ویژن بھی ہے۔ ہلکی سی طنزیہ کسک اور درپیش حقیقت حال کی جانب اشارہ بھی ہے۔ اسے احساس اور خواہش کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ جب سندھ کے تاجر رہنما نے مریم نوز ہمیں دے دو کی بات کی پھر ایک خاص جانب سے ناپسندیدگی کے اظہار پر اگرچہ اسے مذاق میں کہی بات قرار دے دیا تھا۔ مگر سندھ کے بیشمار لوگوں نے اسے اپنے دل کی آواز سمجھا تھا۔ میں نے نوجوان سندھی طالب علم امتیاز جوکھیو کے تاثرات کو ویژن کیوں قرار دیا اس لئے اس بات کے چند روز بعد سندھ کے اخبارات میں سندھ حکومت کی جانب سے ہاریوں کے لئے بینظیر ہاری کارڈ دینے کا اشتہار شائع ہوا۔ جبکہ وزیر اعلیٰ مریم نواز پنجاب میں یہ کام ایک مدت پہلے انجام دے چکی ہیں اور پنجاب کے کسان اس سے عملی استفادہ بھی اٹھا چکے ہیں۔ اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے امتیاز جوکھیو نے جو سوچا ویسا ہی ہوا ہے۔
سیاسی بحث مباحثوں میں دلچسپی رکھنے والے رشید سولنگی نے دلچسپ نشاندہی کی مریم نواز نے پنجاب میں کسانوں کو کسان کارڈ دیئے مراد علی شاہ نے سندھ میں کسانوں کو بے نظیر ہاری کارڈ دینے کا اعلان کر دیا لیکن مریم نواز کے والد نے بحیثیت وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سندھ کے بے زمین ہاریوں کو زمین کا مالک بنایا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اس کی نقل کیوں نہیں کر رہی۔ رشید سولنگی کے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے نظیر ہاری کارڈ کے ذریعہ سہولتیں سندھی عوام کے ٹیکسوں سے جمع شدہ رقوم سے دی جائیں گی۔ جبکہ کچے سمیت صوبے میں سرکاری تحویل میں آنے والی غیر ملکیتی زمینوں پربڑے وڈیروں کا قبضہ ہے جو ایک مدت سے ان پر قابض ہیں اور ان وڈیروں (سندھ اسمبلی کے ارکان کی اکثریت)کی بدولت سندھ میں پیپلز پارٹی سولہ سال سے اقتدار میں ہے۔ لہٰذا ان کے قبضے سے زمینیں لے کر بے زمین ہاریوں میں تقسیم کرنا مشکل ہیں ناممکن ہے۔ سندھ کے وڈیرے جو سرکاری اور کچے کی غیر ملکیتی زمینوں سے بلا ٹیکس لاکھوں، کروڑوں حاصل کر رہے ہیں وہ اس مال مفت کو کیوں چھوڑیں گے۔ حیات سومرو کا یہ نقطہ نظر محض الزام تراشی ہے ،مخالفانہ پروپیگنڈہ ہے۔
سندھ حکومت کو یہ موقع حاصل ہے وہ سندھ کی ایسی تمام اراضی بے زمین ہاریوں میں تقسیم کر کے اس کی عملی نفی کر دے لیکن ایسا ذوالفقار علی بھٹو کی زرعی اصلاحات کی طرح نہیں ہونا چاہیے جس کے تحت جن ہاریوں میں 16 ایکڑ زمین تقسیم کی گئی تھی ان میں سے کسی ایک کا وجود نہیں ہے بلکہ جن بڑے زمینداروں یا وڈیروں سے یہ اراضی لے کر ہاریوں کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا وہ تمام اراضی بدستور بھٹو خاندان سمیت ان ہی بڑے زمینداروں اور وڈیروں کی ملکیت ہے۔
تعلیم اور سوشل میڈیا کے عمومی منفی اثرات کے باوجود سندھ کے نوجوانوں کی سوچ میں تیزی سے تبدیلی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آرٹی ایس کے بیٹھ جانے کے باوجود پی ٹی آئی کے چوروں ، ڈاکوؤں کے فراڈ نعرہ نے سندھ کے نوجوانوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کے مدمقابل متاثر کن پروگرام اور کارکردگی رکھنے والی پارٹی موجود نہیں تھی۔ یہ اچھا موقع ن لیگ کو حاصل تھا۔ شہباز شریف کی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب میں کارکردگی نے کالجوں، یونیورسٹیوں کے نوجوانوں میں پسندیدگی کی فضا قائم کر رکھی۔ مطالعاتی دوروں پر جانے والے طلبا و طالبات پنجاب کی ترقی دیکھ کر برملا شہباز شریف ہمیں دے دو، کی خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے مگر ن لیگ کی قیادت نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ شاید یہ جو عام تاثر ہے کہ سندھ زرداری کے حوالے کرنے کا کوئی معاملہ طے پایا تھا کیا یہی وجہ تھی انتخابی مہم میں اعلیٰ قیادت تو کیا کسی صوبائی سطح کے لیڈر نے بھی حصہ نہیں ڈالا۔ ن لیگ کے مقامی لیڈروں اور کارکنوں نے خود ہی جدوجہد کی اگرچہ جیت مقدر نہ ہو سکی مگر کسی کی ضمانت ضبط نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے سندھ اسمبلی میں نام کو بھی ن لیگ کا ایک ایم پی اے نہیں ہے۔ اس کے باوجود سندھ آج بھی ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکا۔ گزشتہ الیکشن میں بہت سے امیدوار دل برداشتہ ہو کر لا تعلق ہو کر بیٹھ گئے یا رانا احسان جیسے پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ اس مؤقف کے ساتھ کہ اگر سندھ پیپلز پارٹی کو ہی دینا ہے تو پھر اس میں ہی کیوں نہ جایا جائے۔
قومی اسمبلی کے شکوہ کناں امیدوارسے میں نے کہا ہو سکتا ہے کہ ’آپ کی اعلیٰ قیادت یہ سوچ رہی ہو کہ وفاق میں میاں شہباز شریف اور پنجاب میں مریم نواز ہر شعبے میں زبردست کامیابیاں حاصل کر لیں اور جب بالخصوص مریم نواز انتخابات کے موقع پر ان کامیابیوں کا پرچم لے گھوٹکی سے بدین ، کالاچی تک طوفانی دورے کریں گی تو سندھ میں ن لیگ کیلئے سازگار فضا جنم لے سکے گی۔ ان صاحب نے کہا، اگر ہماری اعلیٰ قیادت کی یہ سوچ ہے تو مجھے اس سے اتفاق ہے لیکن اگر پارٹی ، مقامی لیڈر اور کارکن متحرک و فعال نہیں ہوں گے تو مریم نواز کے دوروں کے بعد اس فضا کو کیسے برقرار رکھا جائے گا۔ کیا پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم ، جے یو آئی ، جماعت اسلامی، اے این پی، جے ڈی اے وغیرہ اس فضا کو برقرار رہنے دیں گے۔
ان سے دوسرا سوال کیا فرض کیا آپ کی قیادت کسی مصلحت کے تحت سندھ کی سیاست میں فی الحال مدمقابل آنا درست نہیںسمجھتی تو آپ کے خیال میں کیا کیا جائے۔ انہوں نے جواب دیا، غیرسیاسی سرگرمیوں سے بھی تو پارٹی کے وجود کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔ قومی ایام میں پارٹی کے بڑے اجتماعات کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً مسلح افواج سے اظہار یکجہتی، بھارت سے فتح پر سندھ بھر میں ریلیاں، کراچی، حیدرآباد ، سکھر جیسے بڑے شہروں میں ضروری نہیں میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف یا مریم نواز ہی شریک ہوں ، پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور دیگر ممتاز لیڈر تو ان میں شریک کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تجویز کیا کہ 28 مئی کو یوم تکبیر کے موقع پر کراچی، حیدر آباد اور دیگر شہروں میںبڑے اجتماعات کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر اگر لاہور میں منعقدہ تقریب سے میاں نواز شریف اور مریم نواز خطاب کریں تو وڈیو لنک کے ذریعہ سندھ میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کا موقع حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مجھے تو ان کی باتوں میں پارٹی کیلئے اخلاص اور وزن محسوس ہوا ہے باقی یہ ن لیگ کی قیادت کی مرضی و اختیار ہے کہ وہ کیا مناسب سمجھتے ہیں۔
سندھی نوجوانوں کی سوچ میں تبدیلی
09:19 AM, 20 May, 2025