گلیشئرز کی کٹائی پر پابندی

09:16 AM, 20 May, 2025

سیاحت کے دوران اہم مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلند دروں پر پڑی برف نے راستے روک رکھے ہوتے ہیں اور گلیشئر کی وجہ سے اہم گزر گاہیں بند ملتی ہیں۔ ناران سے گلگت جاتے ہوئے بھی یہی مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ وسط جون تک بابوسر ٹاپ بند ملتا ہے۔ راستہ کھولنے کے لئے برف کے حصاروں کو توڑ کر اور کاٹ کر راستہ بنایا جاتا ہے۔ ہم نے خود متعدد بار یہ بھی دیکھا کہ مزدور بیلچوں سے برف کاٹ کر ٹرکوں میں بھرتے ہیں اور پھر وہ چلاس اور رائے کوٹ کے بازاروں میں فروخت ہوتی ہے۔  
پشاور ہائی کورٹ نے ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والے وکلا کی درخواست پر چترال سمیت مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں برفانی تودے کاٹنے اور اس کو فروخت کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے وکیل طارق افغان اور سجید آفریدی نے عدالت میں درخواست جمع کراتے ہوئے استدعا کی تھی کہ چترال، سوات، دیر، شانگلہ اور کاغان/ ناران میں برفانی تودوں کی کٹائی سے ماحولیاتی نظام کو نقصان ہو رہا ہے۔برفانی تودوں کے کمرشل استعمال پر بات کرنے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ گلیشیئر اور ایوالانچ، جنہیں اردو میں عام طور پر برفانی تودا ہی کہا جاتا ہے، میں کیا فرق ہے۔
حمید احمد چترال میں گلیشئرز کے حوالے سے یونائیٹڈ نیشن ڈیولپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے منصوبے GLOF کے سابق منیجر اور ابھی ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے کوآرڈینیٹر ہیں اور گلیشیئرز پر مختلف تحقیقی مقالوں کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ میں نے پڑھا ہے، لیکن اس میں کچھ چیزیں تکنیکی ہیں جن کو سمجھنا ضروری ہے۔ برفانی تودا کاٹنے اور اس کے کمرشل استعمال کی بات جب آتی ہے، تو اس میں گلیشیئرز نہیں بلکہ ایوالانچ کا استعمال ہوتا ہے، جس کو برف کے استعمال کے لیے کاٹ کر فروخت کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گلیشیئرز بہت زیادہ بلندی پر ہوتے ہیں اور وہاں جانا اور پھر اس کو کاٹنا بہت مشکل عمل ہے، جبکہ گلیشیئرز کو کسی عام آلے سے کاٹنا بھی ممکن نہیں ہے، کیونکہ وہ عام برف سے سو گنا سخت ہوتا ہے، جبکہ عام برف کی ایک کیوبک میٹر کا وزن 300 کلوگرام، جبکہ گلیشئر کا ایک کیوبک میٹر وزن ایک ہزار کلوگرام ہوتا ہے۔اسی طرح حمید نے بتایا کہ ’گلیشیئرز کسی ایک موسم یا سال میں نہیں بنتے بلکہ اس کے بنانے میں دہائیاں لگتی ہیں اور تب جا کر گلیشیئر بنتا ہے۔ جبکہ عدالتی فیصلے میں جس بات کا ذکر ہوا ہے، وہ اصل میں ایوالانچ ہے، جبکہ ایوالانچ اور گلیشیئر کو عام زبان میں برفانی تودا کہا جاتا ہے، گو کہ دونوں مختلف چیزیں ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے انسٹیٹیوٹ فار سنو اینڈ ایوالانچ ریسرچ کے مطابق ایوالانچ کی تین بنیادی قسمیں ہیں، جن میں ایک ’سنو ایوالانچ‘ کہلاتا ہے، جب سنو (آئس نہیں) کی کمزور سلیب کے اوپر برف کی مضبوط تہہ بن جائے۔
دوسری قسم کو ’لوز سنو ایوالانچ‘ کہا جاتا ہے، جس کو عام طور پر پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں برف باری کے موسم میں دیکھا جاتا ہے اور یہ پہاڑیوں کی نچلی سطح پر ہوتا ہے، جبکہ تیسری قسم کو ’گلائیڈنگ ایوالانچ‘ کہا جاتا ہے، جو کہ گھاس یا پتھر کے اوپر برف پڑنے سے بن جاتا ہے۔سائمن فریزر یونیورسٹی کے مطابق گلیشیئرز گرنے سے بھی ایوالانچ بن سکتا ہے، لیکن حمید احمد کے مطابق چترال، کاغان، ناران یا سوات میں گلیشیئر کا ایوالانچ نہیں بنتا بلکہ برف باری کے دوران پہاڑوں میں برف پڑنے سے ایوالانچ بنتا ہے۔ایوالانچ کے کاٹنے کے حوالے سے حمید نے بتایا کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ ایوالانچ کے کاٹنے سے ماحولیات کو نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ ایوالانچ آہستہ پگھل کر پودوں اور زرعی زمینوں کے لیے پانی کا ایک اہم ذخیرہ ہے۔
درخواست گزار طارق افغان نے بتایا کہ اس حوالے سے ہم نے گذشتہ سال خیبر پختونخوا محکمہ ماحولیات میں بھی درخواست دی تھی، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور اسی وجہ سے عدالت میں درخواست جمع کرائی۔ عدالت میں 6 مئی کو درخواست پر دو رکنی بینچ نے سماعت کی اور متعلقہ اضلاع کو گلیشئرز کی کٹائی روکنے کے احکامات جاری کیے۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں میں سے سجید آفریدی نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں گلیشئر کی غیر قانونی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے، جس پر جسٹس اعجاز انور نے پوچھا کہ گلیشئر کی کٹائی کیوں کی جاتی ہے۔ اسی پر سجید افریدی نے بتایا کہ بازاروں میں فروخت کے لیے گلیشئر کی برف بھیجی جاتی ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ یہ تو پرانے زمانے میں ہوتا تھا۔ درخواست گزار طارق افغان نے عدالت کو بتایا کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور گرمیوں میں یہ برف بیچی جاتی ہے۔سکندر شاہ نے عدالت کو بتایا، ’گلیشیئر تو ہزاروں فٹ بلندی پر ہوتے ہیں اور اس سے برف لے جانا ممکن نہیں ہے۔‘
اسی پر درخواست گزار وکیل سجید افریدی نے بتایا کہ گلیشیئر کی نیچے سے کٹائی ہوتی ہے اور جب درجہ حرارت بڑھتا ہے، تو پھر گلیشیئر پگھلتے ہیں اور روزانہ 200 تک ٹرک برف گلیشیئر سے کمرشل ضرورت کے لیے لے جایا جاتا ہے۔درخواست گزار طارق افغان نے عدالت کو بتایا کہ میں خود اس علاقے سے ہوں اور جب گلیشیئر پگھلتے ہیں، تو اس کی وجہ سے سیلاب آتے ہیں اور مردان تک پہاڑوں سے برف گرمیوں میں آتی ہے اور بیچی جاتی ہے۔ جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کو کوئی پروا نہیں ہے اور زرعی زمینیں ختم ہو رہی ہیں، جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اس پر مکمل پابندی عائد کرتی۔ جسٹس وقار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا، ’محکمہ جنگلات کو اس کی نگرانی کرنی چاہیے، جس طرح درختوں کو لے جانے پر پابندی ہے، اسی طرح اس پر بھی پابندی لگائی جائے۔‘ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ حکومت کو خود اس کے لیے اقدامات کرنے چاہییں، کیونکہ برف راستوں پر ہو گی تو سیاح اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ طارق افغان نے کہا کہ ارجنٹینا اور تاجکستان نے گلیشئر پر قانون سازی کی ہے، تو پاکستان بھی اس کے لیے قانون سازی کرے اور گلیشئر کی غیر قانونی کٹائی فوری طور پر روک دی جائے۔

مزیدخبریں